الیکشن کمیشن کی آزمائش

الیکشن کمیشن کی آزمائش

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے جعلی قرار دی گئی 27ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریاں از خود درست قرار دے دی ہیں، جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید لغاری نے کہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ہی ملک کا واحد ادارہ ہے جو کسی ڈگری کو موثر یا درست قرار دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن انتخابات میں حصہ لینے والے13490 امیدواروں کی ڈگریوں کی ایک ہی دن میں تصدیق کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس سے قبل ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 59 اراکین اسمبلی کی ڈگریوں کو بوگس قرار دیا تھا ، جن میں الیکشن کمیشن کی طرف سے از خود درست قرار دی گئی یہ 27 ڈگریاں بھی شامل تھیں۔2010ءمیں سپریم کورٹ نے تمام ارکان پالیمنٹ کی ڈگریوں کی تصدیق کا حکم دیا تھا۔ بہت سے ارکان اسمبلی نے اپنی ڈگریاں الیکشن کمیشن کی بار بار کی یاد دہانی کے باوجود تصدیق کے لئے دی ہی نہیں تھیں۔

ایک دوسری اطلاع کے مطابق حال ہی میں ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی تصدیق کے لئے پارلیمنٹ کی جو آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل کی گئی ہے ان سے چار ارکان نے اپنی ڈگریوں کی تصدیق نہیں کرائی۔معلوم ہو ا ہے کہ اس کمیٹی کے لئے مسلم لیگ(ن)، مسلم لیگ(ق)، اے این پی اور فاٹاکی طرف سے جن اراکین کو نامزد کیا گیا ہے ان کی ا پنی ڈگریوں کی تصدیق نہیں ہوئی۔حال ہی میں تشکیل کی گئی یہ کمیٹی ڈگریوں کی تصدیق کے سلسلے میں الیکشن کمیشن سے بات چیت کرے گی۔ تصدیق کے لئے بھیجی گئی ارکان پارلیمنٹ کی 1095ڈگریوں سے صرف 749ڈگریوں کو درست قرار دیا گیا،55ارکا ن کی ڈگریاں جعلی پائی گئیں،19ارکان کی ڈگریوں کی تصدیق مختلف عدالتی مقدمات کی وجہ سے نہیں ہوسکی۔249ارکان پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کی تاکید پر حال ہی میں اپنی ڈگریاں تصدیق کے لئے دیں جن سے صرف26کودرست قرار دیا گیا۔ 223ارکان کی ڈگریوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ان سے کچھ کے متعلق خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کے پاس درست ڈگریاں ہیں، لیکن انہوںنے اسے اَنا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور اپنی ڈگریاں تصدیق کے لئے پیش نہیں کیں۔

اس موقع پر پارلیمنٹ کی طرف سے ایسے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل جس کے آدھے ارکان کی اپنی ڈگریوں کی تصدیق نہیں ہو سکی، الیکشن کمیشن پر اس سلسلے میں دباﺅ ڈالنے کے مترادف سمجھی جائے گی۔ بہت سے ارکان پارلیمنٹ اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ڈگریوں کی تصدیق ضرور ہونی چاہئے تاکہ جن لوگوں نے 2008ء کے انتخابات میں جعلی ڈگریاں پیش کیں، انہیں موجودہ انتخابات کے لئے نااہل قرار دیا جاسکے اور ان کے خلاف مقدمات قائم ہوسکیں،لیکن جعلی ڈگریاں رکھنے والوں کی طرف سے یہ دلیل پیش کی جارہی ہے کہ اب جبکہ آئندہ کے لئے ارکان پالیمنٹ کے لئے ڈگری کی شرط نہیں ہے تو پھر ڈگریوں کی تصدیق کی کیا ضرورت ہے؟ جبکہ یہ واضح ہے کہ جعل سازی کرنے والے افراد کے متعلق جب یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ گریجوایٹ نہیں تھے اور انہو ں نے جھوٹ اور فراڈ سے کام لیا تھا ،وہ نہ صرف اس جھوٹ کی بنا پر آئندہ کے لئے نااہل قرار دے دئیے جائیں گے، بلکہ ان کے خلاف مقدمات بھی قائم ہوں گے اور وہ اب تک پارلیمنٹ سے لئے گئے الاﺅنسز وغیرہ کی تمام رقم بھی واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔جعل سازی کے سلسلے میں انہیں عدالتوں سے دوسری سزائیں بھی مل سکتی ہیں۔یہی واضح صورت ہے جس وجہ سے پارلیمنٹ کی طرف سے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔میڈیا اِس سلسلے میں چوکنا ہے۔قومی صحافت سے وابستہ ہمارے زیرک اور بہادر صحافی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پارلیمنٹ یا حکمرانوں کی طرف سے الیکشن کمیشن پر مختلف اطراف سے مختلف معاملات میں ڈالے جانے والے دباﺅ کو بے نقاب کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ ڈگریوں کی تصدیق کا کام سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر شروع کیا گیا تھا۔اب اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے ڈی ریل ہونے کے بعد توقع ہے کہ سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے گی۔ دولت کے گوشوارے جمع نہ کرانے والے، ٹیکس نادہندہ اور بنکوں کے قرضے معاف کرانے والے یا دہری شہریت والے افراد کو لازماً الیکشن سے باہر ہونا چاہئے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے یہ کم از کم تقاضے ہیں جو اسے پورے کرکے قوم کو اپنی غیر جانبدا ر اور آزاد حیثیت کا ثبوت دینا چاہئے۔اگر اسی مرحلہ پر الیکشن کمیشن گھٹنے ٹیک دیتا ہے، آزادانہ اور منصفانہ فیصلے کرنے کا حوصلہ خود میں نہیں پاتا تو پھر پولنگ کے روز اس سے ساری صورت حال کنٹرول کرنے کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے؟ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکام کو نہیں بھولنا چاہئے کہ ان کے ہر کام پر قوم کی نظریں ہیں ۔ان کی ذرا ذرا سی کوتاہی کا نوٹس لیا جائے گا۔ قوم اب حقیقی جمہوریت کی آرزو مند ہے۔واضح طور پر غلط ثابت ہوجانے والوں کو انتخابی عمل میں ہر گز نہیں دیکھنا چاہتی، لیکن اس وقت الیکشن کمیشن جس امتحان سے دوچار ہے اس میں اس کا سرخرو ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ قوم کا انتخابات اور جمہوریت پر اعتماد باقی رہ جائے، جو لوگ کسی نہ کسی حساب میں قانون شکن ثابت ہو جاتے ہیں وہ ایک بار پھر انتخابات میں دندناتے اور محب وطن لوگوں کے سینوں پر مونگ دلتے نہ پھریں۔ ملک میں قانون اور آئین کی بالا دستی قائم ہو اور اس قوم کے لئے الیکشن کمیشن کے صائب فیصلے بانگ درا کا کام کریں ۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نہیں بھولنا چاہئے کہ اس کے درست فیصلوں کی صورت میں پوری قوم اس کے پیچھے کھڑی رہے گی۔اس کی طاقت بنے گی ، پاکستان کی تاریخ میں اس الیکشن کمیشن کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا ۔قوم اسے اپنا محسن اور جمہوریت کا حقیقی خیر خواہ تصور کرے گی۔سپریم کورٹ اور تمام دوسرے قومی ادارے اسے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلا چکے ہیں، لیکن اگر اس کے رویئے میں کمزوری واقع ہوئی تو پھر اس سے قوم کی بددلی اور بدگمانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔میڈیا اور سول سوسائٹی ، دھاندلیوں پر مبنی نظام کے مخالف گروہ اور جماعتیں ایسے فیصلوں کی مزاحمت کریں گی۔

حکمرانوں کی طرف سے ملک کے بہت نازک حالات سے گزرنے کی بات اکثر کہی جاتی ہے، لیکن معاملات کی نزاکت اور حساسیت کے سلسلے میں سب سے زیادہ لاپروا خود اہل اقتدار ہی کو دیکھا گیا ہے۔ ترقی یافتہ مغربی جمہوری معاشروں اور ہمارے ملک کا فرق یہ ہے کہ وہاں حاکم اور قانون بنانے والے سب سے بڑھ کر قانون اور قاعدے کا خود احترام کرتے ہیں۔ان کا موقف یہ ہے کہ اس آئین نے معاشرے میں سب سے زیادہ عزت اور وسائل سے انہی کو نوازا ہے اگر وہ اس آئین اور ملکی قوانین کا خود احترام نہیں کریں گے تو پھر دوسرے محروم اور بے سروسامان لوگوں کو آئین اور قانون کا احترام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں الٹی سوچ ہے ہمارے قانون ساز اور حاکم اپنے لئے کسی اخلاق اور قانون کی پابندی ضروری خیال نہیں کرتے۔ اللہ تعالی سے یہی دعا کی جاسکتی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے اگر ان کے نصیب میں ہدایت نہیں تو قوم کو ان سے نجات بخشے (آمین)۔

مزید : اداریہ