شمالی وزیر ستان سینئر صٓحافی ملک ممتاز نا معلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق

شمالی وزیر ستان سینئر صٓحافی ملک ممتاز نا معلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق

میرانشاہ/ اسلام آباد(آن لائن) شمالی وزیرستان کے ہر دلعزیز سینئر صحافی اور قبائلی سردار ملک ممتاز کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شہید کردیا ،ملک ممتاز کے قتل کی خبر ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور صحافی برادری نے ان کے قتل پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر ان کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے ،ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس نے ملک ممتاز کے قتل پر چھ روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے قبائلی صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔اطلاعات کے مطابق ملک ممتاز قریبی گاﺅں میں تعزیت کے بعد واپس آرہے تھے کہ چشمہ پل کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے ملک ممتاز نے پسماندگان میں میں ایک بیوہ ، دو بیٹے اور ایک بیٹی سوگوار چھوڑے ہیں ۔ملک ممتاز ایک قبائلی سردار ہونے کے ساتھ ساتھ علاقائی جرگہ کے رکن اورمیرانشاہ پریس کلب کے بانی چیئرمین تھے اور حال ہی میں بھی وہ پریس کلب کی صدر منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے جمعرات کو حلف بھی اٹھانا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ان کا پیغام اجل آگیا۔ملک ممتاز تقریباً 20سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ تھے اس دوران ان کا سب سے زیادہ عرصہ خبررساں ادارے این این آئی کے نمائندے کی حیثیت سے گزرا جس کے بعد کئی سال قبل انہوں نے ملک کے قومی روزنامہ جنگ اور اس سے ملحق جیو نیوز کے ساتھ وابستگی اختیار کی ۔ ملک ممتاز کو قبائلی ، عوامی ، سیاسی اور سرکاری تمام حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور تمام لوگ ان کی بے حد قدر کرتے تھے ۔ ملک ممتاز نے افغانستان میں روس کیخلاف جہاد ، اس کے بعد طالبان حکومت اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اب تک کے تمام حالات کی رپورٹنگ کی اس لحاظ سے وہ ایک طویل تاریخ کے امین تھے ۔ صحافی برادری نے ملک ممتاز کے قتل پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا ہے ۔

ملک ممتاز قتل

مزید : صفحہ اول