بجلی کا بحران حل نہیں ہوا، ذمہ دار حکمران ہیں!مختلف حلقوں کا الزام

بجلی کا بحران حل نہیں ہوا، ذمہ دار حکمران ہیں!مختلف حلقوں کا الزام
بجلی کا بحران حل نہیں ہوا، ذمہ دار حکمران ہیں!مختلف حلقوں کا الزام

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تین روز گزر گئے، بجلی کے تازہ ترین بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا اور ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہونے سے کاروبار حیات بری طرح متاثر ہو رہا ہے، اِن دنوں لاہور جیسے شہر میں برقی رو بند رہنے کا دورانیہ چودہ سے سولہ گھنٹے تک ہے۔ اس میں جو امتیاز برتا جا رہا ہے وہ اپنی جگہ مگر بعض اہم گرڈ ایک، ایک گھنٹے کے لئے بند کئے جانے ہیںاور درمیان میں لوڈشیڈنگ کا وقفہ بھی آتا ہے جبکہ علامہ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن جیسے گرڈ سٹیشن چار، چار گھنٹے کے لئے بند کر دیئے جاتے ہیں اور پھر ایک، ایک گھنٹے کے نام پر جو لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے اس میں برقی رو کی بحالی اکثر پون گھنٹہ رہتی ہے۔ یہ بحران فنی نقص کے باعث ہے جسے دور کرنے کا اعلان تو کردیا گیا لیکن پیداوار پرانے شیڈول کے مطابق نہیں۔ اس وقت طلب تیرہ ہزار میگاواٹ اور پیداوار سات ہزار میگاواٹ ہے۔ مسئلہ وہی پرانا ہے کہ پی ایس او کو فرنس آئل کے لئے ادائیگی نہیں کی گئی، وزیراعظم نے چالیس ارب دینے کی ہدایت کی وزارت خزانہ نے 30ئ1 ارب روپے دیئے ہیں۔ پی ایس او کے مطابق یہ ناکافی رقم ہے۔

یہ تو تازہ ترین صورت حال ہے لیکن ہمارے لئے تو یہ امر زیادہ دکھ یا افسوس کا باعث ہے کہ صدر زرداری نے نوٹس لیا تو ان کو بحالی کا یقین دلا دیا گیا اور ایسی ہی رپورٹ وزیراعظم کو بھی پیش کی گئی حالانکہ اس وقت پن بجلی کی پیداوار گر کر 2100 میگاواٹ رہ گئی ہے، باقی ضرورت تھرمل سے پوری ہونا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حبکو والے آدھی پیداوار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا تجزیہ ہے کہ ڈیموں میں پانی کی شدید کمی پن بجلی کی پیداوار میں کمی کا باعث بنی ہے۔ پہاڑوں پر مسلسل برف باری کی وجہ سے پانی کی آمد کم ہے اور ارسا فصلوں کے لئے پانی محفوظ بھی رکھنا چاہتی ہے۔

اب ذرا ایک اور اطلاع ملاحظہ فرمالیں، وہ یہ کہ ملک گیر بریک ڈاﺅن کے لئے بھی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے ۔الزام یہ ہے کہ وزیراعظم نے ہدایت کی تھی کہ انتخابات قریب ہیں اس لئے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کیا جائے اور اسی غرض سے جب نیشنل گرڈ کے لئے حبکو سمیت دیگر اداروں سے بجلی حاصل کی گئی تولوڈ بڑھ گیا اور ٹرپنگ ہوئی۔ ابھی تک مکمل مرمت نہیں ہو پائی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چشمہ کا ایٹمی بجلی گھر بھی دیکھ بھال کے لئے بند ہے جو دو تین روز کے بعد پیداوار دے تو کچھ مزید بہتری آئے گی۔ اس سلسلے میں نرگس سیٹھی سیکرٹری پانی و بجلی کا چارج لے کر ایک چھوٹے گریڈ کے افسر کو دینا بھی وجہ بتائی جاتی ہے۔ یوں اس بحران میں سازش کی تھیوریاں تلاش کی جا رہی ہیں جو یقیناً انتخابات کے موقع پر پیپلزپارٹی کے خلاف ہیں۔ اس بجلی کے بحران کی وجہ سے پیپلزپارٹی گوادر بندر گاہ اور ایران کے ساتھ معاہدے کو بھی کیش نہیں کرا پا رہی۔ یا پھر اب پیپلزپارٹی والوں میں صلاحیت ہی نہیں رہی کہ وہ اس کی تشہیر نہیں کر پائے۔ بدھ کو صرف پنجاب اسمبلی کے باہر اراکین اسمبلی نے ہلکا پھلکا جشنی مظاہرہ کیا اسے درشنی کہہ لیں تو بہتر ہو گا کہ اس میں فوٹو سیشن لازم تھا۔ صدر اور وزیراعظم کو صورت حال کا نوٹس لینا ہو گا، بجلی کے بحران کے علاوہ ڈالر کی قدر میں اضافے کی آڑ میں پٹرولیم کے نرخوں میں اضافہ بھی نقصان کا سبب بنے گا۔ ان تمام امور کو کون دیکھے اور سنبھالے گا؟ جہاں تک بجلی کے بحران کا تعلق ہے تو اس شعبہ کے وزیر محترم کہاں گم ہیں وہ تو کہیں بھی ظاہر نہیں ہوئے۔

آج کے حالات میں پیپلزپارٹی کے خلاف مضبوط اتحاد بن رہے ہیں اور پیپلزپارٹی پنجاب میں مسلم لیگ (ق) سے پھڈے بازی میں مبتلا ہو گئی ہے تو آئندہ کیا ہو گا۔گجرات کا حلقہ این۔ اے 105 تو تنازع کا سبب تھا۔ چودھری پرویزا لٰہی یہاں سے انتخاب لڑنے کا حتمی اعلان کر چکے تو چودھری احمد مختار بھی بضد ہیں، میاں منظور وٹو ان کے ساتھ ہیں۔ خبر یہ بھی ہے کہ تاحال منظور وٹو اور چودھریوں میں تعاون کی صورت نہیں بنی۔ منظور وٹو چودھریوں سے بددل اراکین اسمبلی یا اہم لوگوں کو پیپلزپارٹی میں لینا چاہتے ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی سختی سے یہ تجویز رد کر چکے ہیں حالانکہ میاں منظور وٹو کا موقف ہے کہ یہ حضرات پیپلزپارٹی میں نہ لئے گئے تو مسلم لیگ (ن) میں چلے جائیں گے۔ یوں پیپلزپارٹی کے لئے ہر روز مسائل بڑھ رہے ہیں۔ سنجیدہ فکر حضرات اس پر غور اور بحث کر رہے ہیں لیکن ذمہ داروں کو فکر نہیں، وہ خوش فہمی سے کام چلا رہے ہیں کہ ”ہم جیتیں گے“ بالآخر صدر زرداری کو نوٹس لینا ہی ہو گا۔

مزید : تجزیہ