آل پاکستان پارٹیز کانفرنس سے حاصل مینڈیٹ کی روشنی میں دہشتگردی کے خاتمہ کا روڈ میپ تیار کیا جائیگا ،فضل الرحمٰن

آل پاکستان پارٹیز کانفرنس سے حاصل مینڈیٹ کی روشنی میں دہشتگردی کے خاتمہ کا ...

اسلام آباد(اے این این)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ آل پارٹیز کانفرنس سے حاصل مینڈیٹ کی روشنی میں دہشتگردی کے خاتمے کا روڈ میپ تیار کیا جائےگا، ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے، طالبان سے مذاکرات کےلئے عسکری قیادت کو بھی اعتماد میں لینا ضروری ہے، سیاسی قیادت و قبائلی زعماء طالبان سے مذاکرات پر راضی ہوں تو اس سے بڑھ کر کیا گارنٹی ہوگی،وزیراعظم و اپوزیشن لیڈر کا نامزد کردہ متفقہ نگران وزیراعظم قبول ہوگا، پریس کانفرنس سے خطاب، 30 سیاسی مذہبی جماعتوں کو شرکت کی دعوت نامے بھجوائے گئے جبکہ جمعیت علمائے اسلام (س)، مجلس وحدت مسلمین اور اہلسنت والجماعت کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آل پارٹیز کانفرنس کے انتظامات کا جائزہ لینے بعد بدھ کو کنونشن سینٹر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کل جماعتی کانفرنس قبائلی عمائدین اور ملکی سیاسی قیادت کو ایک جگہ مل بیٹھنے کا موقع فراہم کرے گی۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ تمام معاملات قدم بہ قدم آگے بڑھیںگے اس کےلئے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہے کسی قسم کی جلد بازی نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی دہشت گردی کے خاتمے کےلئے کئی کوششیں کی گئیں جو بارآور ثابت نہ ہوئیں۔ مولانا فضل نے مزید کہاکہ جے یو آئی ف کی اس کانفرنس یا جرگہ کا مقصد قبائلی عمائدین اور ملکی سیاسی قیادت سے ایک مینڈیٹ حاصل کرنا ہے جس کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کےلئے مذاکرات کی نوعیت اور سمت کا تعین کیا جاسکے۔ انہوںنے کہاکہ جب تمام امور پر اتفاق ہوجائیگاتو پھر مضبوطی کے ساتھ امن کےلئے ایک روڈ میپ تیار کرینگے ۔ انہوں نے کہاکہ عوامی نیشنل پارٹی کی کانفرنس میں سیاسی نمائندگی ضرور تھی تاہم سیاسی قیادت و قبائلی جرگوں کے عمائدین موجود نہ تھے ہماری اے پی سی میں قیادت اور قبائلی زعما خود حاضر ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس موقع پر تنازعات میں نہیں پڑنا چاہتے تمام سیاسی جماعتوں کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی ہے مستقبل کی طرف دیکھنا ہے تو پھر ماضی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا پڑےگا۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہاکہ اے پی سی میں شرکت کےلئے تمام مسالک کے مدارس کی نمائندہ تنظیم تنظیمات مدارس دینیہ کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے جبکہ ایم ایم اے میں شامل تمام جماعتوں کو بھی اے پی سی میں بلایا ہے جبکہ مجموعی طور پر 30 سے زائد سیاسی جماعتیں اے پی سی میں شرکت کرینگی۔ انہوںنے کہاکہ طالبان کی طرف سے پیش کش اچھا اقدام ہے تاہم اپنی پیش کش کو وزن دینے کےلئے مجھ سمیت دیگر قائدین کی گارنٹی مانگتے ہیں ۔ جے یو آئی ف کے سربراہ نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اگر تمام جماعتیں اور قبائلی زعما طالبان سے مذاکرات پر راضی ہوں تو اس سے بڑھ کر کیا گارنٹی ہوگی۔

فضل الرحمن

مزید : صفحہ اول