سپریم کورٹ کے سخت موقف کے باوھود الیکشن کیمشن کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کرانے پر تذبذب کا شکار

سپریم کورٹ کے سخت موقف کے باوھود الیکشن کیمشن کراچی میں نئی حلقہ بندیاں ...

لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) نظر ثانی کی پٹیشن خار ج ہونے اور سپریم کورٹ کے سخت موقف کے باوجود الیکشن کمیشن کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کروانے پر گومگو کی کیفیت کاشکار ہے۔ سپریم کورٹ کے مجبور کرنے پر درمیانی راستے کے لیے کمیشن دو آپشنز پر غورکرنے لگا۔ پہلا آپشن کراچی کی مقامی انتظامیہ کے تعاون سے عدم تعاون کی فضا کا اظہار کرنا اور یہ ظاہر کرنا کہ شہر کی انتظامیہ علاقوں کی تفصیلات اور نقشے فراہم نہیں کررہی ۔ جبکہ دوسرا آپشن موجودہ حلقہ بندیوں سے ملتی جلتی ،لولی لنگڑی نئی حلقہ بندیا ں کرنے کا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے نظر ثانی کی پٹیشن خار ج کردی ہے۔ اور کمیشن کو سختی کے ساتھ حکم دیا ہے کہ کراچی میں ہرصورت نئی حلقہ بندیاں کی جائیں ۔ کمیشن کے وکیل کا موقف تھا کہ موجودہ حالات میں کراچی کی نئی حلقہ بندیاں کرنے سے انتخابات کے التوا کا خدشہ ہے ۔ جس پر سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خواب میں بھی یہ سوچنے نہیں دینگے کہ الیکشن نہ ہو۔ نئی حلقہ بندیاں بھی تیا رہونگی اور الیکشن بھی بروقت ہونگے اور نئی حلقہ بندیوں کو مردم شماری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ نظر ثانی کی پٹیشن خار ج ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن کو خدشہ ہے کہ اگر کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کی گئیں تو پورے ملک سے نئی حلقہ بندیوں کی درخواستیں موصول ہونے لگیں گی ۔ جبکہ اس وقت بھی ملک کے مختلف علاقوں سے عوام الناس اور سیاسی جماعتوں نے نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے کمیشن کو درخواستیں دے رکھی ہیں اور الیکشن کمیشن اس پنڈورا بکس کو کھولنا نہیں چاہتا۔معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ نے کراچی میں GERRYMANDERING کی شکایات کے پیش نظر 27نومبر 2012کوالیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ تین دن کے اندر کراچی میں نئے سرے سے حلقہ بندیاں کرنے کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ جس کے جواب میں الیکشن کمیشن نے 10جنوری سے کراچی میں گھر گھر ووٹر لسٹوں کی تصدیق کرنے اور نئی حلقہ بندیوں کا عمل شروع کرنے کی یقین دھانی کروائی ۔ کراچی میں گھر گھر ووٹر لسٹوں کی تصدیق کا عمل جاری تھا کہ اچانک چیف الیکشن کمشنر نے بیان دیدیا ہے کہ کراچی میں نئی حلقہ بندیاں مشکل کام ہے یہ نہیں ہوسکتا۔ اس پر جہاں ملک بھر کی اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا ہے ۔ وہیںیہ سپریم کورٹ کی واضح حکم عدولی بھیتھی۔ذرائع کے مطابق ملک میں نئی حلقہ بندیاں کروانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 222(b)کے تحت الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کروانے کا پابند ہے۔نئی حلقہ بندیاں کسی بھی مردم شماری کے فوری بعد کروائی جاتی ہیں۔جبکہ پاکستان میں مردم شماری کے لیے 10سال کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ملک میں آخری مردم شماری 1998میں ہوئی جس کے روشنی میںبننے والی حلقہ بندیوں کے تحت 2002کے انتخابات منعقد ہوئے اور اگلی مردم شماری 2008میں نہ ہوسکی اور یوں 2008کے عام انتخابات بھی 1998کی مردم شماری کے تحت بننے والی حلقہ بندیوں کے تحت ہی منعقد ہوئے۔ DELIMITATION OF CONSTITUENCIES ACT 1974سیکشن 9کے تحت الیکشن کمیشن کسی بھی شہر کی کل آبادی ۔ علاقے کے پٹوار حلقوں ، یونین کونسلوں ،ٹاﺅنز، سٹرکوں ،نہروں یا نالوں ،دریاﺅں اور عوام کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے علاقے کی حلقہ بندی کرتا ہے۔اور 1998کے مردم شماری کے تحت 2002اور 2008 کے انتخابا ت کے لیے قومی اسمبلی کے ایک حلقے کے لیے 4 لاکھ 90ہزار اور صوبائی اسمبلی کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار آبادی کا ہونا لازمی قرار دیا گیا۔حلقہ بندیوں کے مذکورہ قانون ڈی لیمیٹشن ایکٹ 1974 کے سیکشن 10 کے سب سیکشن 1,2,3 تحت سب سے پہلے کسی بھی نئے حلقے کا نیا ڈرافٹ تیا ر کیا جاتا ہے، جسے بعدا زاں عوام الناس اور سیاسی جماعتوں و سیاستدانوں کے لیے پبلک کے سامنے آویزاں کیا جاتا ہے، اور اعتراضات کے لیے وقت دیا جاتا ہے، اعتراضات سامنے آنے پر کمیشن ان پر سماعت کرتا ہے، بعدازاں اس پر فیصلہ دیا جاتا ہے، جو حتمی حلقہ بندی کی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ذرائع کے مطابق حلقہ بندیوں کے لیے الیکشن کمیشن کو گلی گلی یا گھر گھر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ عمل ضلعی انتظامیہ ۔کے نقشہ جات اور ریونیو و یونین کونسلوں اور مردم شماری کے ریکارڈ کے ذریعے دفتر میں بیٹھ کر باآسانی مکمل کیاجاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے حکام کا بھی یہی کہناتھا کہ کہ مردم شمار ی کا عمل اگرچہ دفتر میں بیٹھ کر انجام دیا جاسکتا ہے لیکن کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کی گئیں تو دیگر شہروں اور صوبوں میں بھی نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے مطالبہ ہونے لگے گا۔اور یہ پریکٹس دفتر میں بیٹھ کرانجام تو دی جاسکتی ہے لیکن اس پر وقت صرف ہوتا ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کی تشکیل ،پھر انہیں عوام کے لیے آویز اں کرنے ،اعتراضات کی وصولی ، اعتراضات کو نمٹانے اور دیگر امورمیں دو سے تین ماہ صرف ہوتے ہیں اور اب جبکہ ملک میں کسی بھی وقت عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ توایسے وقت پر نئی حلقہ بندیوں کا عمل شروع کرنا درست نہیںہوگا۔ معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ سے نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن کراچی میں نئی حلقہ بندیاں نہیں کروانا چاہتا ۔ اور اس ضمن میں سپریم کورٹ کی طرف سے سخت رویہ اختیا رکئے جانے کی صورت درمیانی راستے کے لیے دو آپشنز زیر غوررکھے جائینگے۔ پہلا آپشن یہ ہے کہ کراچی کی مقامی انتظامیہ کے تعاون سے عدم تعاون کی ایسی فضا قائم کردی جائے ۔ کہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی بھی نہ ہو اور نئی حلقہ بندیاں بھی نہ کرنا پڑیں۔ عدالت کو باور کروایا جائیگا کہ بار بار طلب کرنے کے باوجود کراچی کی انتظامیہ اور پٹواری وغیر ہ نقشے فراہم نہیں کررہے اور گزرتے وقت کے ساتھ ملک میں نئے الیکشن کے شیڈول کا اعلان کردیا جائیگا۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ پہلی حلقہ بندیوں سے ملتی جلتی ،لولی لنگڑی نئی حلقہ بندیا ں کرکے عدالت کو مطمئین کردیا جائے کہ حکم کی تعمیل کردی گئی ہے۔

تذبذب کا شکار

مزید : صفحہ اول