جنرل بس سٹےنڈ فےصل آباد مےں 10 اڈے غےر قانونی طور پر الاٹ

جنرل بس سٹےنڈ فےصل آباد مےں 10 اڈے غےر قانونی طور پر الاٹ

 

فیصل آباد ( بیورورپورٹ) جنرل بس اسٹینڈ میں معمول سے ہٹ کر اے سی ویگنوں کو 10 اڈے الاٹ کرنے کیخلاف لاری اڈہ کے ٹرانسپورٹروں اور میٹرو سی این جی بسوں کے مالکا ن نے احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کر دی اور بسیں کمشنر آفس ڈی سی او آفس کے باہر کھڑی کردی گئیں ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر رانا امان اللہ خاں کی زیر قیادت ٹرانسپورٹروں نے سی این جی میٹروبسیں چلانے سے انکار کردیا ہے اورکہا ہے کہ 60 سال سے لاری اڈہ میں سے بسیں چل رہی ہیں جبکہ ویگنوں اور کوچز کے اڈے بالکل الگ ہیں انھیں ناجائز طور پر لاری اڈہ میں یکے بعد دیگر 10 اڈے دیکر جنرل بس اسٹینڈ کے نظام کو خراب کردیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اے سی بسوں ویگنوں کیلئے سٹی ٹرمینل اڈے کو مختص کیا گیا ہے لیکن با اثر افراد نے سیاسی پشت پناہی کے ساتھ جنرل بس اسٹینڈ سے اے سی ویگنیں چلانے کیلئے 10 بیس حاصل کرلئے ہیں جس سے بس اسٹینڈ کے ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کیلئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں ۔ احتجاجی ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ جنرل بس اسٹینڈپرناجائز قبضوں کو کسی طور قبول نہیں کیا جائیگا کمشنر آفس اور ڈی سی او آفس کے باہر دور دور تک بسیں کھڑی کرنے سے شہریوں کوآمدورفت میں دشواروں کا سامنا ہے جبکہ ٹریفک نظام بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے دریں اثنا ءسی این جی ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے محمد اسلم گجر کی قیادت میں کمشنر طاہر حسین سے ملاقات کی کمشنرکا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے سے بے خبر تھے ٹرانسپورٹروں کے احتجاج اورشکایت پر انہوں نے اس کیس کاجائزہ لے لیا ہے انھیں اب حقیقت کاپتہ چل گیا ہے وہ متعلقہ افراد کوبلاکراس مسئلہ کاحل نکالیں گے کمشنر نے وفد کو یقین دلا یا کہ کل تک اس مسئلہ کو حل کرلیا جائیگا تاہم ٹرانسپورٹرز نے مطالبہ تسلیم ہونے تک سڑکوں سے بسیں ہٹانے سے انکار کر دیا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر