جو ووٹ لینے آیا اسے یہیں دفن کردیں گے ،گورکن حکومت کیخلاف پھٹ پڑے

جو ووٹ لینے آیا اسے یہیں دفن کردیں گے ،گورکن حکومت کیخلاف پھٹ پڑے
جو ووٹ لینے آیا اسے یہیں دفن کردیں گے ،گورکن حکومت کیخلاف پھٹ پڑے

  

لاہور (بابر بھٹی/ محمد نواز سنگرا/ الیکشن سیل) حکومت نے کرپشن مار ڈھاڑ، مہنگائی اور محرومی کے سوا اور دیا ہی کیا ہے کسی کو ووٹ نہیں دیں گے جو ووٹ لینے آیا اس کو یہاں ہی دفن کردیں گے لاہور کے گورکن حکومت کی غریب مار پالیسیوں کے خلاف پھٹ پھڑے روزنامہ پاکستان کی طرف سے معاشرے کے پیسے ہوئے طبقوں کو اجاگر کرنے اور ملک کے آئندہ انتخابات میں ان کے کردار کو سرا ہنے کے لئے شروع کئے جانے والے خصوصی سلسلے میں اس مرتبہ گور کنوں کو موضوع بنایاگیا سروے کے دوران گورکن حکومت سے سخت نالاں نظر آئے اور ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کرپشن بدعنوانی ، مہنگائی اور محرومی کا باعث ہے کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے جو ووٹ مانگنے آیا اس کو یہاں دفن کردیں گے۔ پپو گورکن نے بتایا ہے کہ یہاں کام کرتے ہوئے زندگی گزر گئی کئی حکومتیں آئی گئی ہیں مگر ہمارے حالات نہیں بدلے اور نہ ہی سیاست دانوں کو ہم لوگ نظر آتے ہیں کیونکہ یہ لوگ بارونق محفلوں میں جاتے ہیں اور یہاں سب لوگ سو رہے ہیں ہاں کبھی کبھی جب کوئی رشتے دار عزیز دنیا سے رخصت ہو جائے تو چند لمحوں کے لئے ضرور آتے ہیں اور اپنے بڑوں کو سلام کرکے چلے جاتے ہیں اس کے بعد ان کا یہاں کوئی کام نہیں رہتا۔ محمد علی گورکن نے بتایا کہ ہم گورکن ہیں اور مردوں کودفن کرتے ہیں ہم نے کیا سیاست کرنی ہے ہم نے دن ہو یا رات قبر بنانی ہے تو ہی ہم نے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہوتاہے۔ ایک گورکن نے انتہائی غصے میں اپنا نام نہ بتانے کی قسم دیتے ہوئے کہا کہ اگر میرا بس چلے تو میں یہاں آنے والے امیدوار کو یہی زندہ دفن کردوں کہ انہوں نے پانچ سال میں جو حالت ہماری کردی ہے اس کا اندازہ نہیں ان کو جو چیز آج سے پانچ سال پہلے 100 روپے کی تھی آج وہ پانچ سو روپے میں بھی ملنا مشکل ہوگیا ہے غلام شبیر نے بتایاکہ آج سے چند سال پہلے غریب آدمی اپنے عزیز کو چند سو روپے میں سپردخاک کرلیتا تھا آج 10ہزار روپ میں بھی نہیں کرسکتا اگر کسی غریب آدمی نے اپنے کسی عزیز کی قبر پر مٹی ”لپائی“ بھی کروانی ہو تو اس کو اس کے لئے 2 ہزار روپے فیس جمع کروانا ہوگی یہ کہاں کا انصاف ہے سلامت علی نے بتایا کہ آج سے تقریباً6 سال قبل ہماری مزدوری 300 روپے تھی اور ہم خوشی خوشی اپنی زندگی بسر کررہے تھے مگر آج بھی ہماری مزدوری 300 روپے ہی ہے اور مہنگائی کی شرح آپ کے سامنے ہیں اب آپ ہی بتائیں کہ ہم ان لوگوں کو کیا ووٹ دیں سرکاری فیس تو بڑھا لی ہے مگر ہماری مزدوری کاکچھ نہیں پتہ

مزید : الیکشن ۲۰۱۳