گرینڈ جرگہ تمام فریقین سے مذاکرات کیلئے با اختیار، قبائلیوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا:دہشت گردی کیخلاف اے پی سی کا اعلامیہ

گرینڈ جرگہ تمام فریقین سے مذاکرات کیلئے با اختیار، قبائلیوں کے نقصانات کا ...
گرینڈ جرگہ تمام فریقین سے مذاکرات کیلئے با اختیار، قبائلیوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا:دہشت گردی کیخلاف اے پی سی کا اعلامیہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علما ءاسلام کی اے پی سی کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت گرینڈ قبائلی جرگہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام فریقین سے بات چیت کے لیے با اختیار ہو گا۔ طالبان سے مذکرات آئین پاکستان کے دائرہ کار میں رہ کر کیے جائیں گے اور متعلقہ قوانین اور حکومتی رٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق موجودہ، عبوری اور آئندہ حکومت طے شدہ سفارشات پرعملدرآمد کی پابند ہو گی۔ اے پی سی نے شہداءاور زخمیوں کے لواحقین کے لیے ٹرسٹ قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔ جے یو آئی فضل الرحمان کے زیر اہتمام ہونے والی اس کانفرنس میں نواز شریف، چودھری شجاعت حسین، امین فہیم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماءاور فاٹا کے قبائلی وفد کے ارکان شریک ہوئے۔ اس سے پہلے نواز شریف، فضل الرحمان اور منور حسن نے اپنے خطاب میں طالبان سے مذاکرات کی مکمل حمایت کی۔ کانفرنس کے میزبان جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کانفرنس کے شرکاءکوخوش آمدید کہا۔ اپنے خطاب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ایک دن میں 90، 90 لوگ شہید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کر کے ایبٹ آباد آپریشن کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد کسی کی بھی حکومت بنے وہ کیسے ملک چلائے گی۔ امن وامان کے بغیر ملک نہیں چلایا جا سکتا۔ مخدوم امین فہیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ قیام امن کے لیے ہرکوشش کا ساتھ دیں گے۔ مذاکرات کے لیے پاکستان کے آئین، قوانین اور حکومتی رٹ کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں امن کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ قبائلیوں کی حب الوطنی پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ سید منور حسن نے کہا کہ حکومت اور فوج طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش قبول کریں۔ طالبان بھی ضمانت کے لفظ کی وضاحت کریں۔ قبائلی جرگے کے سربراہ ملک قادر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ قبائلی عوام کو دہشت گرد نہ کہا جائے۔ ان پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے، ان حالات سے نکالا جائے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں