ن لیگ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا باعث بنی:گیلانی

ن لیگ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا باعث بنی:گیلانی
ن لیگ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا باعث بنی:گیلانی

  

بون ( مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیر اعظم یوف رضا گیلانی نے الزام لگایا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحادی حکومت میں ان کیلئے مشکلات رہیں یہاں تک ن لیگ سے تعلق رکھنے والے اُس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وجہ سے غیر ملکی شرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آئی اور پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ یہ الزام انہوں نے جرمن ریڈیو ’دوئچے ویلے ‘ کے زبیر بشیر کو ایک تفصیلی انٹرویو کے دوران لگایا اور کہا کہ ن لیگ کی طرف سے لگائے جانے والے معاشی دھچکے کے باوجود انہوں نے صورتحال سنبھال لی ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب موجودہ حکومت کو 2008 ءمیں اقتدار منتقل ہوا تو اس وقت بھی پاکستان بے یقینی کا شکار تھا۔ ملک کی مغربی سرحدوں پر فوج مصروف عمل تھی، 1973ءکا آئین اپنی مسخ شدہ شکل میں موجود تھا، میڈیا اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا، اعلیٰ عدلیہ کے جج پابند سلاسل تھے، ملک کی ایک زیرک سیاستدان بے نظیر بھٹو دہشت گردی کا شکار ہو چکی تھیں، نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بلوچستان کے عوام میں پایا جانے والا احساس محرومی عروج پر تھا، ملک بجلی اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا اور زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں آٹے اور چینی کے لیے طویل قطاریں دیکھنے کومل رہی تھیں۔ دہشت گردی کے عفریت، خودکش دھماکوں کے خوف اور ملک میں موجود لاقانونیت نے شہریوں کو ذہنی اذیت سے دوچار کر رکھا تھا اور ملک کے شمال مغرب میں اکثر علاقے عملًا شدت پسندوں کے قبضے میں جا چکے تھے۔ 2008ءکے انتخابات کے بعد سیاستدانوں نے انتہائی بالغ نظری کا ثبوت دیا، ہمیشہ مد مقابل رہنے والی ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے دیگر صوبائی جماعتوں کے ساتھ پورے ملک میں اتفاق رائے سے حکومتیں قائم کیں۔24 مارچ 2008ءکو سید یوسف رضا گیلانی 42 کے مقابلے میں 264 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئے اور 29 مارچ کو پورے ایوان نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی مثال اس سے پہلے دیکھنے کو نہیں ملی۔ اس نئی جمہوریت سے عوام نے بھی بہت سی توقعات وابستہ کی تھیں۔پاکستان میں جمہوری حکومت کے پانچ سالوں کے حوالے سے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ڈوئچے ویلے جرمنی سے خصوصی گفتگو کی۔ اپنی حکومت کو درپیش ابتدائی معاشی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا ،’جب ہمیں اقتدار منتقل ہوا، اس وقت عالمی کساد بازاری کی وجہ سے بڑی بڑی عالمی معیشتیں بحران کا شکار تھیں، ایسے میں ہم نے اپنی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے زرعی شعبے پر توجہ مرکوز کی، ہم نے فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ دو بڑے سیلابوں کے باوجود ہمارے دور میں غذائی قلت پیدا نہیں ہوئی بلکہ ہم نے گندم، چینی اور چاول اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد برآمد بھی کئے تو یہ ایک ابتدائی اور بڑی کامیابی تھی۔ اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں ہی میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے حوالے سے سید یوسف رضا گیلانی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’ میرے پہلے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا تعلق مسلم لیگ نواز سے تھا، جنہوں نے معاشی اعداد و شمار کو اتنا سنگین بنا کر پیش کیا، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آئی اور پاکستان کی نئی حکومت کی معاشی مشکلات بڑھ گئیں۔ ان مسائل کی وجہ سے مجبوراً ہمیں عالمی اداروں کا سہارا لینا پڑا‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اتحادی جماعت مسلم لیگ نواز کا رویہ اور معاشی مسائل ابتدائی دنوں میں ا±ن کے لیے بڑا دھچکا تھے لیکن ا±ن کی حکومت نے آہستہ آہستہ صورت حال پر قابو پا لیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مالاکنڈ آپریشن کے دوران بے گھر ہونے والے افراد کی دوبارہ آباد کاری کے حوالے سے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’اس جنگ کے دوران مالاکنڈ ڈویڑن میں پچیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے، ان علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کر کے نوے دنوں میں ہم نے لوگوں کو ان کے گھروں میں دوبارہ آباد کیا، جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی‘۔پاکستان کے سابق وزیراعظم جن کی حکومت نے پاکستان میں سب سے زیادہ پانچ مسلسل بجٹ پیش کیے، انہوں نے 1973 کے آئین کی بحالی اور دیگر آئینی ترامیم کو اپنی حکومت کا اہم کارنامہ قراردیا، انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت نے بلوچوں کا احساس محرومی دور کرنے کے لیے حقوق بلوچستان پیکیج متعارف کروایا، گلگت بلتستان کے لوگوں کو علاقائی خودمختاری دی، فاٹا کے لوگوں کوFCRریفارمز کے ذریعے پہلی بارسیاست کے قومی دھارے میں شامل کیا، خیبر پختونخواہ کے لوگوں کو ان کی روایات کے مطابق نام اور شناخت دی اور اب جنوبی پنجاب کے رہنے والوں کی خواہش کے مطابق ایک الگ صوبہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے گیلانی کا کہنا تھا، ہم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں ڈیڑھ سو فیصد تک کا اضافہ کیا ہے۔دوسری طرف مالیاتی اداروں کے جائزے اور مختلف سروے ان پانچ سالوں میں کو حکومتی کارکردگی کے حوالے سے مختلف سوال اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں ’امریکی جریدے”فارن پالیسی“ کی جانب سے دنیا کی ناکام ریاستوں کی فہرست جاری کی گئی ،جس میں پاکستان کا نمبر13واں تھا۔ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، گیس کی بندش، کھاد، دوائیوں، زرعی مشینری کی مہنگائی کی وجہ سے فصلوں کے اہداف بھی پورے نہیں ہورہے۔جب اس حوالے سے سابق پاکستانی وزیر اعظم سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا، ہمارے ہاں لوگوں میں صبر کی کمی ہے چیزوں کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں، انہوں نے کہا اگر حکومت کی مدت پانچ سال سے کم کرکے چار سال کردی جائے تو صورت حال مزید بہتر ہو سکتی ہے۔پاکستان میں معروف سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی ان تمام مسائل کے باوجود ملک میں جمہوریت کے تسلسل اور اداروں کی مضبوطی کے لیے موجودہ حکومت کے پانچ سالوں کو بڑی اہمیت دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان پانچ سالوں میں سیاستدانوں نے مجموعی طور پر جس بالغ نظری کا مظاہرہ کیا وہ ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ بڑھتے ہوئے عوامی مسائل کے حوالے سے ڈاکٹر حسن عکسری کا کہنا تھا یہ صورت حال بھی آنے والے دنوں میں بہتری کی طرف بڑھے گی۔

مزید : قومی