شادی کے معاملات میں ٹانگ نہ اڑاؤ،ہونے والے سعودی جوڑوں نے حکومتی مشورے ہوا میں اڑا دیے

شادی کے معاملات میں ٹانگ نہ اڑاؤ،ہونے والے سعودی جوڑوں نے حکومتی مشورے ہوا ...
شادی کے معاملات میں ٹانگ نہ اڑاؤ،ہونے والے سعودی جوڑوں نے حکومتی مشورے ہوا میں اڑا دیے

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں شادی سے قبل جوڑوں کے میڈیکل ٹیسٹ کا سلسلہ کچھ سال قبل متعارف کروایا گیا جس کے نتیجے میں جوڑوں کی ایک بڑی تعداد نے بچوں میں بیماریوں کی منتقلی کے خدشے کے باعث کوئی نیا ہمسفر ڈھونڈنے کافیصلہ کیا لیکن تقریباً 3,000 جوڑوں نے وزارت صحت کی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے طے شدہ پروگرام پر عمل جاری رکھنے کافیصلہ کیا ہے۔

سعودی عرب میں غیرملکی ملازمین کے لیے انتہائی بڑی خوشخبری ،جس اجازت کا انتظار تھا ،مل گئی

وزارت صحت کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 75,000 افراد کو جینیاتی مسائل کی وجہ سے ایک دوسرے کیلئے غیر موضوع قرار دیا گیا۔ وزارت کے ”جینیٹک ڈیزیز ڈیپارٹمنٹ“ کے ڈائریکٹر جنرل محمد السویدی کا کہنا ہے کہ جوڑوں کو سیکل سیل انیمیا، تھیلیسیمیا، ہیپاٹائٹس بی اور ایڈز جیسی بیماریوں کیلئے ٹیسٹ کروانا پڑتا ہے اور ان ٹیسٹوں کی بنیاد پر تقریباً ساڑھے چار ہزار جوڑوں نے اپنا طے شدہ پروگرام بدل کر نئے ہمسفر کی تلاش کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ تقریباً چالیس فیصد جوڑوں نے اپنے ٹیسٹ کے نتائج کو نظرانداز کر دیا ہے اور بچوں میں بیماریاں منتقل ہونے کے خدشے کے باوجود اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق شادی کرنا چاہتے ہیں۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 2 لاکھ 70 ہزارسے لے کر تین لاکھ افراد کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور یہ پراجیکٹ مملکت میں موروثی بیماریوں کے خاتمے میں نہایت مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

مزید : انسانی حقوق