افغانستان کی صورت حال

افغانستان کی صورت حال
افغانستان کی صورت حال

  


افغان طا لبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی خبریں گز شتہ کئی ہفتوں سے سامنے آتی رہی ہیں ۔ حتیٰ کہ رائٹرز جیسی خبر رساں ایجنسی نے بھی چند رو ز قبل یہ دعویٰ کیا کہ افغان طا لبان اور امریکہ کے ما بین قطر میں با قا عدہ مذاکرات شروع ہو نے والے ہیں، مگر اس خبر کے جا ری ہو نے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر افغان طالبان اور امریکہ کی جا نب سے ایسی خبروں کی تردید سامنے آگئی اور دونوں جا نب سے یہ مو قف اختیا ر کیا گیا کہ فی الحال افغان طا لبان اور امریکہ کے ما بین مذاکرات شروع ہونے کا کو ئی امکا ن نہیں۔امریکہ سے افغان طالبان کا مذاکراتی عمل شروع ہونے کے علاوہ افغان حکومت کے ساتھ افغان طالبان کے مذاکرات کی خبریں بھی گز شتہ عرصے میں سامنے آتی رہی ہیں اور اب افغانستان کے چیف ایگزیگٹو عبداللہ عبداللہ نے 23فروری کو واضح کردیا ہے کہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین مذاکرات کا عمل شروع ہو نے جا رہا ہے اور اس حوالے سے با قا عدہ لا ئحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا، جبکہ تا حال افغان طا لبان کی جانب سے بھی افغان حکومت کے ساتھ مذ اکرات کرنے کے حوالے سے تر دید سامنے نہیں آئی۔

امریکی افواج کے انخلاء کا عمل شروع ہونے کے بعد سے افغان حکو مت، افغان طالبا ن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے با ر ہا اپنی خواہش کا اظہار کر تی رہی ہے۔ حا مد کرزرئی کی حکومت اس بارے میں مسلسل ابہا م کا شکا ر رہی۔ اشرف غنی نے اقتدار میں آنے کے بعد طا لبان سے مذا کرات کرنے کا واضح اعلان کیا جس پر اب آغا ز ہو نے جا رہا ہے۔اب یہاں بنیا دی سوال یہی پیدا ہو تا ہے کہ کیا افغان حکو مت ، افغان طا لبا ن کے ساتھ کامیابی کے ساتھ مذ اکراتی عمل شروع کر پا ئے گی؟ اور اس سے بھی بڑھ کر کیا یہ مذاکرات کا میا ب رہیں گے؟اس سوال کے جواب تک پہنچنے کے لئے ہمیں افغانستان کی داخلی سیا سی صورت حال کی جانب رجو ع کرنا پڑے گا ۔

افغانستان میں اگر موجودہ سیا سی صورت حال کا جا ئزہ لیا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ اس وقت افغانستان میں اشر ف غنی حکومت کے تعلقات افغان اسیٹبلشمنٹ کے ساتھ ہموار نہیں بلکہ ایک حد تک کشیدہ ہیں۔خاص طور پر اشرف غنی کے پا کستان کے ساتھ تعلقات کو لے کر افغان فوج کے ساتھ اختلافات کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ان خبروں کی صداقت اس وقت عیا ں ہو گئی کہ جب اشرف غنی کو وزارت دفا ع میں جنرلوں سمیت پا نچ عہدے داروں کو برطرف کرنا پڑا، جبکہ مزید کئی ایسے اعلیٰ فو جی عہدے داروں کو بھی بر طرف کر نے کا سوچا جا رہا ہے جو اشرف غنی کی خارجہ پالیسی کے ساتھ متفق نہیں ہیں۔

2013ء اور 2014ء میں سابق افغان صدر حامد کر زئی نے بھارتی حکومت کو اسلحہ کی ایک فہرست دیتے ہو ئے یہ مطالبہ کیا کہ افغانستان کو یہ اسلحہ فراہم کیا جا ئے۔ اس وقت کی بھا رتی حکومت نے حامد کرزئی کے اس مطا لبے پر ٹا ل مٹول سے کا م لیا ۔ اشرف غنی اقتدار میں آئے تو انہوں نے پا کستان سے سٹرٹیجک مذاکرات کرنے کے ساتھ ساتھ عسکری تعاون کا بھی واضح اشا رہ دیا ،مگر افغان اسٹیبلشمنٹ اور اعلیٰ فوجی قیا دت کے لئے اشرف غنی کے اس موقف کو ہضم کرلینا آسان نہیں تھا۔ اشرف غنی حکومت اور افغان اسٹیبلشمنٹ میں پا کستان کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے بھی اختلافات کی خبریں مو جو د ہیں۔سول ملٹری تعلقات کے بعد اگر صرف افغانستان کی مو جودہ سیا سی صورت حال کو ہی دیکھا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ یہاں پر بھی افغان صدر اشرف غنی کو بہت سی مشکلا ت کا سامنا ہے۔29ستمبر 2014ء کو اقتدار سنبھالنے کے بعد اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو 25رکنی افغان کا بینہ کی تشکیل میں 105دنوں کا عر صہ لگا ۔ جبکہ افغان کا بینہ کے مسئلہ پر ابھی بھی اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے لئے بہت سے مسائل مو جود ہیں۔

افغان پارلیمنٹ کے سپیکر15فروری کو میڈیا کے سامنے اشرف غنی حکومت کو یہ طعنہ دے چکے ہیں کہ اشرف غنی حکومت نے 140دن گزرنے کے باوجود 31صوبوں میں ابھی تک گورنر تعینات نہیں کئے اور یہ 31صوبے نگران گورنر ہی چلا رہے ہیں،جبکہ اتنا عرصہ گزرنے کے با وجود صرف 30فیصد کا بینہ ہی تشکیل پا سکی ہے۔ اشرف غنی کا مو قف تھا کہ ما ضی کے بر خلاف افغان کابینہ میں جنگجووں کی بجائے میرٹ کی بنیا د پر تقرر یاں کی جائیں،مگر عبد اللہ عبداللہ کی حما یت لینے کے عوض انہیں اپنے مو قف پر سمجھوتے کرنے پڑے۔خود اشرف غنی کے مقرر کردہ زراعت کے وزیرمحمد یعقوب حیدری کے خلاف یورپی ملک اسٹونیامیں بڑے پیمانے پر ٹیکس فراڈ کے مقدما ت موجود ہیں اور ان کا نام انٹرپول کے انتہا ئی مطلو ب افراد کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ افغانستان کے آئین کے مطابق ہر نا مزد وزیر کو وولسی جرگہ (افغان قومی اسمبلی)سے اعتما د کا ووٹ حا صل کرنا ہو تا ہے اور اس کے بعد ہی نا مزد فرد با ضا بطہ طور پر وزیر بنتا ہے۔ اشرف غنی اور عبد اللہ کے نا مزد کردہ کئی وزرا وولسی جرگہ سے اعتما د کا ووٹ حاصل نہ کر سکے۔ ان میں سے سات وزراء کو دوہری شہریت رکھنے پر مسترد کیا گیا۔ حتیٰ کہ سابق افغان صدربرہان الدین ربا نی کے بیٹے صلا ح الدین ربا نی جن کو عبد اللہ عبداللہ نے افغان وزیر خارجہ کے طور پر نامزد کیا تھا ان کو بھی وولسی جرگہ نے اعتماد کا ووٹ نہیں دیا۔عبد اللہ عبداللہ کے کئی اہم نا مزد وزرا ء کے مسترد کئے جا نے کے بعد عبداللہ عبداللہ کو خود وولسی جرگہ کے کئی ارکان کو اعتماد میں لینا پڑا اور افغان وزیر خزانہ ڈاکٹر حضرت عمر ذخیل وال کے مطابق اپنے نا مزد وزرا ء کی حمایت کے لئے عبد اللہ عبداللہ کو وولسی جرگہ کے ممبران پر ’’نوازشات‘‘ کی با رش بھی کرنا پڑی۔

افغا نستان کی موجودہ سیا سی صورت حال ایک حد تک واضح کر رہی ہے کہ افغان طا لبا ن کے ساتھ افغان حکومت کے مذا کرات کا عمل آسان نہیں ہو گا ۔ افغان طالبان بھی اس ساری صورت حال پر نظریں جما ئے ہوئے ہیں ۔افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ جان کیمبل کے مطابق 2014میں 7000 سے 9000 تک افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکار دہشت گردی کے مختلف حملوں میں ہلاک یا زخمی ہو ئے۔

اس ساری صورت حال میں جہا ں تک پا کستان کا تعلق ہے تو تو پا کستانی فوجی اور سیا سی قیا دت کے بیا نا ت سے یہی ثا بت ہو رہا ہے کہ ما ضی کی غلطیوں کو نہ دھراتے ہو ئے اب افغانستان کے اندرونی معلاملا ت میں پاکستان کی جانب سے عدم مدا خلت کی پا لیسی اپنا ئی جائے گی۔پا کستانی قیا دت کی جانب سے ایسے بیانات پر افغان قیا دت خاص طور پر افغان اسٹیبلشمنٹ کس حد تک یقین کر رہی ہے اس بارے میں ابھی وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (NDS) کے سربراہ جنرل رحمت اللہ نبیل جب اس سال جنوری میں وولسی جرگہ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے جا رہے تھے تو اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک اپنے مقاصد کے حصول کے لئے افغانستان میں دہشت گردی کو امداد فراہم کر رہے ہیں ۔

جنرل رحمت اللہ نے 34ایسی سیا سی اور مذہبی تنظیموں کا ذکر کیا کہ جو بیرونی امداد کے سہا رے افغا نستان میں دہشت گردی کر رہی ہیں ۔جنر ل رحمت اللہ نے اگرچہ اپنی تقریر میں پاکستان یا کسی اور ملک کا نا م نہیں لیا، مگر ہر فرد جانتا ہے کہ اگر افغانستان کی سیکیورٹی ایجنسی کا سربراہ کسی ’’ملک‘‘ پر افغا نستان میں دہشت گردی کو حما یت فراہم کرنے کا الزام لگا ئے گا تو اس کا اشارہ کس جانب ہو گا ۔ پاکستان کے ایسے غیر جانبدار حلقے جو ما ضی میں پا کستان کی افغا ن پا لیسی کے شدید نا قد رہے ہیں وہ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ اب پا کستان کے حکمران طبقات کو افغا نستان کی با بت ما ضی میں اختیا ر کی گئی غلط پا لیسیوں کا احساس ہو چکا ہے۔پا کستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف بھر پو ر جنگ شروع کرنے کے بعد پا کستان اور افغانستان متعدد مرتبہ واضح کر چکے ہیں کہ اب دونوں مما لک اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہو نے دیں گے۔آج کے معروض کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں مما لک کو عملی اعتبا ر سے بھی ثا بت کرنا ہو گا کہ دونوں مما لک کے مشترکہ اور سب سے بڑے دشمن یعنی دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے اب تعاون ہی واحد راستہ ہے۔

مزید : کالم


loading...