تخت خالی رہا نہیں کرتا

تخت خالی رہا نہیں کرتا
تخت خالی رہا نہیں کرتا

  

ہم نے گزشتہ کالم میں ’’شہرِ زندہ دلاں‘‘ کی چند دلچسپ شخصیتوں کا ذکر کیا تھا۔ لاہور کے ایک اور گوہر یک دانہ شاہد بیگ بھی ہیں، جن کا اصل نام۔۔۔مرزا شاہد محمود بیگ ہے اور ان کی الہامی شاعری کا اولین مجموعہ ’’میری فکر، میرا جہاں‘‘ کے نام سے حال ہی میں منظرِ عام پر آیا ہے ،جسے حسن عباسی جیسے خوش گو شاعر نے اپنے معتبر اشاعتی ادارے نستعلیق مطبوعات لاہور سے شائع کیا ہے۔ کہا جاتا ہے: ’’شاعری جُزویست از پیغمبری‘‘۔۔۔ مگر شاہد ایم بیگ کا سارا کلام ہی ’’پیغمبرانہ‘‘ ہے، کیونکہ ان کا سلسلہ بھی مشہور عالم پیغمبری کے دعوے دار سے ملتا ہے، اس لئے ان کی شاعری پر ہمیں تو انگلی رکھنے کی گنجائش نہیں ملتی۔۔۔’’ مُشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید‘‘۔ہمارے لئے تو یہی طمانیت، تالیفِ قلب کے لئے کافی ہے کہ نواب ناطق کا عکس ہمارے درمیان موجود ہے۔ نمونے کے طور پر مرزا شاہد بیگ کے کچھ اشعار زبان و بیان کے ماہرانہ تصرف کے ساتھ ملاحظہ فرمایئے اور پیغمبرانہ سخن سرائی کا مزہ لوٹئے، کیونکہ ’’مرزا صاحب‘‘ موصوف کو شکوہ ہے کہ ابھی تک زمانہ ان سے محرومِ فیض ہے:

ہے شاہد اب تلک زمانہ محرومِ فیض

کروں مظہر فکر جہاں اُسے ایسی ہمتا دو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور یُوں مہکا سخن میرا کہ پہنچی خوشبو ہر اک اور

کیا میری آتشِ دروں نے تمام عُود بیاباں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بن تو سکتا ہے تو گہنا دنیائے خوش فکراں مگر

اے اثیمِ دہر و داور اشکِ ندامت بہا تو سہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الٰہی گلُشنِ ہستی میں اس غم کا نشاں کیوں ہے؟

طوفاں کے سنگ ہیں جفا جُو بادراں کیوں ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی کے رنگ میں رنگ جا بھایاجو ترے من کو

ہُوا خورشید رُو زر کوب کوئے پندار کھونے سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہے عقل پُختہ کار تو لاحل سے نہ دُور رکھ!

ہے عشق نا تمام تو عقل سے نہ دُور رکھ!

اس ’’الہامی شاعری‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ:

تخت خالی رہا نہیں کرتا

کوئی وارث ضرور ہوتا ہے

عہد موجود میں نواب ناطق کے جانشین مرزا صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے اردو شاعری کی تابندگی اور درخشندگی کو چار چاند لگا دیئے ہیں، وہ اپنی شاعری میں بعض الفاظ کے موجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔ انہیں اپنی کتاب سے مالی منفعت درکار نہیں، بلکہ وہ تمام حاصل شدہ رقم [اگر حاصل ہوئی تو] اُردو ادب کی ترویج پر صرف کریں گے۔ ان کی شاعری سے اگر کوئی غلط معنی نکالے گا تو وہ اسے آختہ کر دیں گے۔ مرزا صاحب کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کے بعد ان کی جو دوسری کتاب آئے گی تو لوگ ببانگِ دُہل کہیں گے: ’’شاعرو! شاعری چھوڑ دو، شاعری کی اصل کتاب آ گئی ہے‘‘۔

مرزا شاہد کی کتاب ’’میری فکر، میرا جہاں‘‘ کے سرورق پر ریاض قادر مرحوم کی جیسی چمکدار، شفاف ’’ٹِنڈ‘‘ میں ایک تکونا تیر پیوست ہے جس کے بارے میں مرزا کا دعویٰ ہے کہ یہی وہ عالی دماغ ٹنڈ ہے جس کے اندر سے روشنی پھوٹ کر باہر نہیں جا رہی، بلکہ کِرن اندر آ رہی ہے اور ذہن و خِرد کو روشن کر رہی ہے۔ فضائے عالم میں چکاچوند پھیلا رہی ہے۔ سرورق کی پچھلی طرف مصنف خود کھڑے ہوئے کہہ رہے ہیں:

جان سے انجان کا رشتہ ہے یُوں اکٹ

چلنا سنبھل کے صاحب ذرا اپنے ہی راستوں سے

پختہ ارادہ تھا کہ شاہد ایم بیگ کی کتاب ’’میری فکر، میرا جہاں‘‘ پر کُھل کے اظہارِ خیال کروں گا مگر ان کا شعر درج کرتے ہوئے ’’چلنا سنبھل کے صاحب!‘‘ کے ٹکڑے نے ایک ’’صاحب‘‘ تخلص کے نادرۂ کار ’’شاعر‘‘ یاد دلا دیئے؟۔ اور اب فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ نواب ناطق کی جانشینی کے حوالے سے ’’سید ارشاد حیدر صاحب‘‘ کی کتاب ’’ صدائے دل‘‘ اولیت کی مستحق ہے یا ’’میری فکر،میرا جہاں‘‘۔ سچی بات ہے ’’صدائے دل‘‘ ہاتھ تو اب لگی ہے مگر یہ1996ء کی چھپی ہوئی ہے۔ یہ بات ہمیں مصنف کے ابتدایئے سے معلوم ہوئی کہ8اکتوبر 1996ء کو کتاب کے آغاز میں قارئین کو مخاطب کر کے صاحب نے لکھا ہے:

’’شاعری خیال اور فکر کا ایک قدرتی اظہار ہے اس سے وزن کی مصنوعی شکل کا کیا تعلق؟ وزن کی پابندی ایک غیر فطری عمل ہے۔ سو نثری نظم کی کامیابی کے بعد غزل قطعہ اور رباعی میں خیال اور فکر کی وسعت کے لئے مَیں نے نئے انداز کا آغاز کیا ہے، میری کتاب ’’صدائے دل‘‘ اس کی ایک مثال ہے۔

بقول ڈاکٹر تبسم کاشمیری: ’’شعر ی اظہار کو قدرتی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ شاعری وزن سے ماوراء شے ہے، یہ وزن کی محتاج نہیں ہے‘‘!

ہمارے دوست ڈاکٹر تبسم کاشمیری سے ملتی جلتی رائے کا اظہار ممتاز شاعر، ادیب، نقاد،محقق، مترجم، ماہر تعلیم، استادِ فن سید عابد علی عابد بھی کر گئے ہیں، انہوں نے اپنے مشہور زمانہ مضمون’’دہلی اور لکھنوء کے شعری دبستان‘‘ میں لکھا تھا:’’بنیادی بات زبان کی صفائی اور درستی نہیں، بلکہ تجربے کی سچائی اور شعری اظہار ہے‘‘۔۔۔ مگر خود کبھی اس پیمانے کے مطابق شاعری نہ کی۔

ارشاد صاحب کی کتاب’’صدائے دل‘‘ یا ’’دیوانِ صاحب‘‘ کے پسِ سر ورق پر اُن کی تصویر کے نیچے ’’ایک دن‘‘ کے عنوان سے چار لائنیں یوں رقم ہیں:

بن کے کچھ الفاظ عکس میرے حالات کا

شعر بن جائیں گے آہستہ آہستہ ایک دن

پڑھیں گے لوگ جب اِن اشعار کو

سمجھ جائیں گے میری مجبوریاں ایک دن

’’اشعار‘‘ کے نام سے اس تحریر کو پڑھ کر مصنف کی ’’مجبوریاں‘‘ جاننے کا تجسس اُبھرا اور کتابوں کے اتوار بازار سے جو یہ کتاب مہنگے داموں خرید لی تھی۔ اس کی ورق گردانی کی تو شروع میں عمران کی تصویر کے نیچے ۔۔۔ انگریزی میں یہ معرکہ آرا رائے درج پائی:

صاحب کے کلام پر بین الاقوامی شہرت یافتہ عمران خان کی رائے:

To Syad, IRSHAD HAIDER WITH MUCH APPRECIATION FOR THE WONDERFUL\' VERSES DONATED FOR ME.

WITH BEST WISHES

عمران خان:دستخط

(IMRAN KHAN)

جو اشعار عمران خان کوDonate کئے گئے ہیں وہ مذکورہ کتاب کے صفحہ 177-178 پر اس طرح درج ہیں:

]عمران خان:بان�ئ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال[

اے حسیں تیرے بارے شہر میں بہت چرچا ہے

تو عکسِ محبت ہے تُو صورتِ جاناں ہے

ہر بات میں رکھتے ہو حق گوئی کا خیال

کہاں تلوار کی کاٹ کہاں تیری زباں ہے

کہنے دو جو لوگ کہتے ہیں کہنے دو!

زوال محنت کو زمانے میں کہاں ہے

محبت نے ازل سے بہت کام لئے ہیں!

دیکھا کسی نے ایسا زمیں پہ کوئی نشاں ہے؟

آ کر اگر تُو دیکھ سکے تو دیکھ گنگارام!

تیری خاک سے تعمیر ہوئی کوئی اینٹ یہاں ہے

لوگ آتے ہیں آ کر چلے جاتے ہیں صاحبؔ !

کام اچھا ہو تو ہر دور میں بن جاتی ہے داستاں

’’ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں‘‘۔۔۔ عمران خان نے اپنے لئے ارشاد صاحب ؔ کے قصیدے کے عوض ان کی شاعری کو ’’ونڈر فل‘‘ قرار دے کرآخری حد تک پذیرائی بخش دی ہے، تو اب ہم جیسے کسی عام قاری کی کیا مجال کہ کہیں انگلی دھر سکے۔ ’’کلام الملوک، مُلوک الکلام ’’غزلیات‘‘ کے حصے میں سے چند ’’منتخب اشعار‘‘ اپنے کالم کے خوش ذوق قارئین کی نذر:

یہ جو کچھ دیر ہمارے درمیاں گفتگو رہی

بس یہی لمحات دو چار آبرو رہی

تیری آنکھیں، تیری باتیں، تیری مسکراہٹ

رات بھر ساغر و مینا و سَبو رہی

صاحبؔ کسی حسیں سے کوئی کیا گلہ کرے

وہ رات بھر مجھ سےُ تند خُو رہی

وزن اوزان کو چھوڑیئے مفہوم تو سمجھ میں آ رہا ہے ’’نا‘‘ وہ رات بھر مجھ سے تُند خُورہی‘‘ ۔کسی استاد کا شعر ہے:

نکلنے کو تو حسرت وصل کی اے نازنیں نکلی

مگر جیسی نکلنی چاہئے ویسی نہیں نکلی

کسی نے سُن کرجملہ کسا، اس میں ناز نین کا کیا قصور؟‘‘۔۔۔ ارشاد صاحب بھی سوچیں ’’ وہ رات بھر تُند خُو کیوں رہی؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارشاد صاحب کی شاعری کے دو چار ’’دانے‘‘ دیکھ کر پوری ’’دیگ‘‘ کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔’’شہر زند دلاں‘‘ لاہور کے لئے کبھی مَیں نے کہا تھا:

نہیں لاہور کا ثانی کہیں بھی

کہ لاثانی یہیں سوئے ہوئے ہیں

یہ بستی ہے یقیناًصوفیاء کی

یہاں اہلِ یقیں سوئے ہوئے ہیں

تو جناب خاطر جمع رکھئے تخت خالی رہا نہیں کرتا لاہور میں گوہرِ یک دانہ اب بھی ہیں۔یہ الگ بات کہ خدائے سخن میر آج زندہ ہوتے تو ارشاد صاحب کاکلام پڑھ کر بے ساختہ کہتے:

صاحب!پَرے پَرے

مزید : کالم