جمہوریت کا حسن ایک دن میں بحال ہو سکتا ہے!

جمہوریت کا حسن ایک دن میں بحال ہو سکتا ہے!
جمہوریت کا حسن ایک دن میں بحال ہو سکتا ہے!

  


اب اس سوال کا بھی کوئی جواب تو ملنا چاہیے کہ ارکان اسمبلی اپنے لیڈروں کے سامنے تو حلقے کے عوام کی بات نہیں کرتے، لیکن جب اس حلقے میں تعینات کوئی سرکاری افسر ان کی بات نہ سنے ، ان کا الٹا سیدھا کام نہ کرے تو اس کے خلاف شکایت لے کر ضرور اپنے لیڈر کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ذاتی چودھراہٹ برقرار رکھنے کا رویہ کیا مناسب ہے۔ سرکاری افسروں اور عوامی نمائندوں کے درمیان مار دھاڑ، کھینچاتانی اور معرکہ ہائے منہ زبانی کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ سب کچھ ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تو ایک عام کارکن بھی سرکاری افسران کے لئے بھاری پتھر بن گیا تھا، لیکن بعدازاں بڑے عوامی نمائندوں نے کارکنوں سے یہ اختیار چھین کر اپنے ہاتھ میں لے لیا اور عوامی نمائندگی کا معیار یہ بن گیا کہ سرکاری کارندوں کو طوائفوں کی طرح کون زیادہ سے زیادہ اپنے اشاروں پر نچواتا ہے۔ ہمیں اس بات پر اعتراض نہیں، اگر عوامی نمائندوں کا شوق اس سے پورا ہوتا ہے تو وہ بے شک کریں، مگر سوال یہ ہے کہ اس ساری مشق کا عوام کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ عوام نے تو ارکان اسمبلی کو اس لئے منتخب کیا ہوتا ہے کہ وہ ان کی نمائندگی کا حق ادا کریں گے۔ ان کے لئے زیادہ سے زیادہ مراعات اور سہولتیں لیں گے، لیکن اس حوالے سے منہ میں زبان نہ ہونے کا تاثر دینے والے یہ عوامی نمائندے اپنی ذاتی انا یا پھوں پھاں کی خاطر سب کچھ تہہ و بالا کرنے پر تل جاتے ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے درحقیقت ہمارے پورے دفتری نظام کا بیڑ ہ غرق کر دیا ہے۔

پچھلی دو دہائیوں میں پروان چڑھنے والے اس رویے نے اپنی پسند کے افسران تعینات کرانے کی ایک ایسی اندھی دوڑ کو جنم دیا، جس نے ہمارے سماجی ڈھانچے کی چولیں ہلا دی ہیں۔ اس دوڑ نے ایک طرف میرٹ کا جنازہ نکال دیا اور دوسری طرف سرکاری افسروں کو آقا کی ’’خوشنودی‘‘ کے عوض سرکاری وسائل اور عوام پر ستم ڈھانے کی کھلی چھٹی مل گئی۔ ٹریفک وارڈن غریب رکشہ ڈرائیوروں، موٹرسائیکل چلانے والوں کے جتنے چاہیں چالان کریں، کوئی پوچھنے والا نہیں، لیکن اگر انہوں نے کسی رکن اسمبلی یا اس کے عزیز کا چالان کرنے کی جرات کی تو پھر نظام کی ایسی تیسی پھیرنا عین کار ثواب سمجھا جائے گا۔ پچھلے کچھ عرصے میں ایسے کتنے ہی واقعات ہو چکے ہیں، حتیٰ کہ تھانوں سے اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کی وارداتیں بھی ہم نے دیکھی ہیں، مگر کوئی مائی کا لال انہیں نہیں روک سکا۔

پاکستان میں سیاستدان وہ واحد مخلوق ہیں، جو صبح و شام جمہوریت کا گیت گاتے ہیں، عوام کی تسبیح پڑھتے ہیں، مگر عملاً ان کے لئے ایک ٹکے کا کام نہیں کرتے۔ سیاستدانوں نے قوم کو غربت، مہنگائی، رشوت ستانی، بدامنی، اقربا پروری، لوٹ مار، قانون شکنی اور میرٹ کی پامالی کے ساتھ ساتھ مایوسی کا ’’تحفہ‘‘ بھی دیا ہے۔ یہ لوگ صبح اٹھتے ہی یہ منصوبہ بندی شروع کر دیتے ہیں کہ عوام کو مزید مایوس کیسے کرنا ہے۔ پاکستانی عوام ایک ایسی یرغمالی دوشیزہ بن کر رہ گئے ہیں، جسے چاروں طرف سے درندوں نے گھیر رکھا ہے۔ یہ درندے روز و شب یہی باور کراتے ہیں کہ قوم کی دوشیزہ ہمارے رحم و کرم پر ہے۔ وہ جیسا چاہیں اس کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، وڈیرا شاہی صرف دیہاتوں میں ہی نہیں پائی جاتی، بلکہ ہمارا ہر سیاستدان ذہنی طور پر وڈیرا ہے۔ وہ چاہے پنجاب کی دوردراز تحصیل روجھان میں رہتا ہو یا لاہور میں، اس ذہنیت نے پاکستان اور اس کے سیاسی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نہ رہے تو ملک نہیں رہے گا، اس لئے وہ جو کرنا چاہتے ہیں، انہیں کرنے دیا جائے، حتیٰ کہ اگر وہ سینٹ کے انتخابات میں کروڑوں روپے لے کر اپنا ووٹ بیچیں تو اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ ذرا غور کیجئے کہ اس معاملے میں یہ لوگ کس قدر منہ زور واقع ہوئے ہیں۔ پارٹیوں کے سربراہ انہیں لگام ڈالنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور ان کے لئے آئینی ترمیم تک لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایسی منہ زوری انہوں نے عوام کے لئے کبھی نہیں دکھائی۔ عوامی مفاد ہو تو یہ دولے شاہ کے چوہوں کی طرح زبان بند کر لیتے ہیں اور اپنے لیڈر کو بادشاہِ وقت تسلیم کرکے اس کی حکم عدولی کا سوچتے بھی نہیں۔

آپ اسمبلیوں کا ریکارڈ نکلوا کے دیکھیں، ایسی سینکڑوں تحاریک استحقاق ملیں گی جو ارکان اسمبلی نے کسی سرکاری افسر کے خلاف جمع کرائی ہوں گی، جس نے کسی وجہ سے ان کی بات نہیں مانی یا حکم عدولی کی جرات کی، ہمیں سرکاری افسران سے کوئی ہمدردی نہیں، عوامی نقطہ ء نظر سے ان کا رویہ واقعی اتنا سنگدلانہ ہے کہ ان کے ساتھ ہر شہری دو دو ہاتھ کرنا چاہتا ہے، لیکن نکتہ ء اعتراض یہ ہے کہ ان افسروں کا عوام کے ساتھ رویہ تو ہمیشہ سے ظالمانہ رہا ہے، ان کے خلاف عوامی نمائندوں کو صرف اسی وقت غصہ کیوں آتا ہے، یہ جب ان کا کوئی کام نہیں کرتے، عوامی مفاد کی بات ہو تو انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ یہ انہی افسروں کو بچانے کے لئے سفارشی بن کر ان کی پشت پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ حد درجہ مفاد پرستی اور دوعملی نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے عوامی نمائندے، ہماری اشرافیہ اس بات کے حق میں ہے کہ موجودہ استحصالی اور ظالمانہ نظام جاری رہے، البتہ ان کی خدمت گزاری میں کوئی کمی نہ چھوڑے۔ مجھے یقین ہے کہ آج تک کوئی رکن اسمبلی وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کے پاس کسی افسر کے تبادلے کی خاطر صرف یہ مقصد لے کر نہیں گیا ہوگا کہ وہ کرپٹ ہے، عوام کے کام نہیں کرتا، علاقے کی تعمیر و ترقی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، وغیرہ وغیرہ بلکہ جب بھی گیا ہو گا، اس کے پیچھے کوئی اپنی غرض ہو گی، کوئی غصہ ناراضگی یا پھر اس افسر کی انصاف پسندی اور میرٹ پر کام کرنے کا ’’جرم‘‘۔ اب آپ ہی خدا لگتی کہیں کہ ایسے رویے کی موجودگی میں کیا بہتری آ سکتی ہے اور عوام کو کیسے ریلیف مل سکتا ہے۔

پاکستان میں افسر شاہی ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ بہت بڑی طاقت جس کے وجود سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا، مگر اسے طاقت بنایا کس نے ہے۔ کیا سیاستدان اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ ان کی بے تدبیری اور مفاد پرستی پاکستان میں افسر شاہی کے لئے سب سے بہترین طاقت کا ذریعہ ہے۔آج آپ ملک کے کسی حصے میں بھی چلے جائیں، عوامی نمائندے افسر شاہی کے مقابلے میں آپ کو کمزور نظر آئیں گے۔ ضلع کا ڈپٹی کمشنر یا ڈی سی او پورے نظام پر حاوی نظر آئے گا۔اس نے اپنے درجہ بدرجہ نیچے جانے والے نظام کی کبھی اس طرح اصلاح نہیں کرنی کہ وہ عوام کا خادم بن جائے، بلکہ اس نے اس ظالمانہ دفتری نظام کی حفاظت کرنی ہے، جس کی بنیاد پر اس کی افسری قائم ہے۔ عوامی نمائندے ضلع کے افسر سے چاہے وہ انتظامیہ کا ہو یا پولیس کا، صرف اپنے لئے مراعات اور پروٹوکول مانگتے ہیں، وہ اگر مل جائے تو پھر چاہے وہ عوام کی زندگی اجیرن کر دے، وہ اُف تک نہیں کرتے، لیکن اگر ان کا کوئی ذاتی کام نہ ہو یا ان کی سفارش پر کسی ایس ایچ او یا پٹواری کا تبادلہ نہ کیا جائے تو ان کے منہ سے جھاگ نکلنے لگتی ہے، ان کے اندر اس افسر کے لئے نفرت کا لاوا پکنے لگتا ہے، وہ اسمبلی میں فوراً تحریک استحقاق جمع کرا دیتے ہیں، ساتھ ہی وزیراعلیٰ سے ملاقات کا وقت مانگ لیتے ہیں، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے، جب تک اس افسرکو اپنے حلقے سے نکال باہر نہیں کرتے۔ اس قسم کے واقعات میں کبھی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، ماضی میں بھی ہم دیکھ چکے ہیں کہ ارکان اسمبلی اور افسران کی باقاعدہ لڑائیاں ہوئیں، بات تھانے کچہری تک بھی پہنچ گئی، لیکن ایسے کسی بھی واقعہ کے پیچھے عوامی مفاد یا عوام کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ کارفرما نہیں ہوتا، بلکہ یہ سراسر ذاتی اور مفاداتی لڑائی ہوتی ہے۔

مَیں سمجھتا ہوں ارکان اسمبلی اگر اپنا رویہ تبدیل کر لیں اور ذاتی مفاد کی بجائے اجتماعی مفاد کے لئے بیورو کریسی کے کل پرزوں سے لڑیں، جس طرح اپنے لئے سوچتے ہیں، اسی طرح عام آدمی کے لئے بھی سوچیں تو انہیں افسروں کا گریبان پکڑنے یا ان کے خلاف تحاریک استحقاق لانے کی ضرورت نہ رہے۔ عوام کی جمہوریت سے مایوسی کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ اس نے عوام کو استحصالی نظام سے نجات دلانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اس جمہوریت میں عوام کے خلاف عوامی نمائندوں اور بیورو کریسی کا گٹھ جوڑ دکھائی دیتا ہے۔ سیاستدانوں کو یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ اچھا جرنیل وہ نہیں ہوتا جو دشمن سے اپنے ذاتی مفاد کی بات کرے، بلکہ اچھا جرنیل وہ ہوتا ہے جو اپنے لشکر کی اس طرح رہنمائی کرے کہ وہ فتح یاب ہو کر منزل پر پہنچ جائے۔ ارکان اسمبلی اگر چاہیں تو ایک دن جمہوریت کا حق اور وقار بحال ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ صرف عوامی نمائندے بن کر سوچیں اور کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ان لاکھوں عوام کو یاد رکھیں، جنہوں نے انہیں ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجا ہے۔ *

مزید : کالم


loading...