رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی

رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی
رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی

  

مَیں نے گزشتہ کالم میں اپنے سینے سے اٹھنے والی ایک ہُوک کا ذکر کیا تھا اور تمنا کی تھی کہ کاش ہمارا کوئی حکمران ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانی سائنس دانوں اور کاریگروں کو بھیجے تاکہ وہ واپس آ کر پاکستان کے زیرِ زمین خزانوں کو باہر نکال کر مُلک کی پس ماندگی کو دور کرے۔ لیکن پھر معاً خیال آیا کہ اس تمنا کو حقیقت میں ڈھالنے کے لئے کئی دوسری بنیادی باتوں کے لئے بھی سینے کو متعدد ’’ہوُکوں‘‘ کا مرکز بنانا پڑے گا۔۔۔ پہلے تو اپنے سکولوں کے نظامِ تعلیم کو دیکھنا ہو گا۔ کئی خوش فہم قارئین سمجھتے ہیں کہ پاکستانی تعلیمی اداروں سے تعلیم پانے والے طلباء دیگر ممالک میں جا کر بہت اونچی اونچی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ان طلباء میں سے کتنے واپس پاکستان آ کر مٍُلک کی معدنی، صنعتی یا زراعتی ترقی میں کوئی کردار ادا کرتے ہیں؟

ہمیں دیکھنا چاہئے کہ پاکستان کو صنعتی ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے کن ڈگریوں کی ضرورت ہے اور کون سے ایسے مضامین ہیں جن کو پڑھ اور سیکھ کر پاکستان کی اشیائے خام کوValue Addedاشیا میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

جدید ممالک میں ٹیکنالوجی کی رفتار بہت تیز ہے جبکہ ہم بنی بنائی اور دساور سے برآمد کی ہوئی مصنوعات کو استعمال کرنے کے خوگر ہیں۔ مغرب کی کسی بھی پراڈکٹ کو لے لیں۔ ایک عشرہ قبل تک اس کی جو استعدادِ کار تھی، اس کا مقابلہ زمانۂ حال کی استعداد کار سے کریں تو زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔۔۔۔ کچھ زیادہ برس نہیں گزرے، کمپیوٹر کے آغاز سے لے کر اب تک کی اس آلے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس کا تدریجی ارتقا حیران کن ہے۔ یہی حال موبائل فونوں کا ہے اور یہی حال ان بے شمار اور لاتعداد مصنوعات کا ہے کہ جو ہمارے روز مرہ استعمال میں آتی ہیں اور جو مغرب کی ان علوم و فنون پر برتری کی ضامن کہلاتی ہیں۔ ایک دو عشرے پہلے وی سی آر (VCR) کا بہت چرچا رہا۔ لیکن آج اگر DVD کا دور ہے تو آنے والے کل میں یہ پراڈکٹ متروک ہو جائے گی اور اس کی جگہ ایک اور پراڈکٹ منظر عام پر آئے گی جو پہلی سے زیادہ بہتر، آسان اور مفید العوام ہو گی۔ یہ سلسلہ کبھی بند نہیں ہو گا اور چلتا رہے گا۔ کاروں اور موٹر سائیکلوں کے سیلاب کو دیکھیں۔ یہی سیلاب، ترقی یافتہ ملکوں میں طیاروں کے سیلاب میں تبدیل ہو چکا ہے اور اب تو وہاں کے لوگ مریخ وغیرہ پر جانے کی بکنگ کروا رہے ہیں!

لیکن روزمرہ کی یہ پراڈکٹ عام سی پراڈکٹ ہیں۔ مَیں نے اس لئے ان کا ذکر کیا کہ قارئین کی اکثریت ان سے شناسا اور ان کے ارتقاء سے آگاہ ہے۔ لیکن قارئین کی اکثریت ملٹری ٹیکنالوجی کی اُن مصنوعات کے ارتقا سے کم آگاہ ہیں جو سویلین مصنوعات کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں اور جن کی ہمیں کچھ خبر نہیں۔ ستم یہ ہے کہ سویلین مصنوعات کی مانند، ہم تیسری دنیا کے ممالک ان ملٹری مصنوعات کے بھی دریوزہ گر ہیں اور ہماری یہ در یوزہ گری ایک اور قسم کی دریوزہ گری ہے جس کا سکیل اور جس کے اثرات پس ماندہ اقوام پر بُری طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کو ترقی یافتہ اقوام کے ساتھ برابری کی دوڑ میں شریک ہونے سے روکتے ہیں۔

مثلاً ٹینک کو لے لیجئے۔۔۔۔ یہ بھاری ہتھیار عصرِ حاضر کی تمام افواج کا ایک لازمی حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ دوسرے بھاری ہتھیاروں کی طرح ٹینک نے بھی دوسری عالمی جنگ میں ارتقا کی منازل کا سفر بہت تیزی سے طے کیا۔ اس جنگ میں مختلف محاذوں پر روزانہ سینکڑوں ٹینک برباد ہوتے رہے اور ہزاروں نئے بنائے جاتے رہے۔ اس عاجل (Rapid) پروڈکشن نے ٹینک کی بہت ساری ٹیکنیکل خامیوں کو دور کر کے اس کی حربی اثر انگیزی کو بہتر اور یقینی بنایا۔ پاکستان آرمی میں بھی اول اول روس کے ٹی54-، ٹی55-، ٹی72- اور ٹی90- قسم کے ٹینک انڈکٹ کے گئے۔ پھر ہم نے اپنا ’’الخالد‘‘ اور ’’الضرار‘‘ ٹینک بنایا۔ اس کی ایک دو رجمنٹیں بھی پاکستان کی آرمرڈ کور میں کھڑی کیں، لیکن پھر یہ سلسلہ رُک گیا۔ اب خبر نہیں کہ اس کی ارتقائی منازل کی صورتِ حال کیا ہے۔ ہتھیار کوئی بھی ہو جب تک اس کا کثیر تعداد میں استعمال نہیں ہوتا، اس کی اگلی نسل اپنی پہلی نسل سے خوب تر نہیں ہو سکتی۔ یہی حال طیاروں، توپوں، میزائلوں، آبدوزوں اور بکتر بند گاڑیوں وغیرہ کا بھی ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان جہاں اس قسم کے قیمتی اور بھاری ہتھیاروں کی پروڈکشن کے سلسلے میں از راہ مجبوری ارتقائی مراحل طے نہیں کر سکتا وہاں ترقی یافتہ ممالک ایسا کرنے کے اہل ہیں اور کر رہے ہیں۔ امریکہ کا ابرام، جرمنی کا لیپرڈ، فرانس کا لیک لیرک اور برطانیہ کا جیگوار ٹینک اس وجہ سے اگلی نسل (Next Generation) کو پروڈکشن لائن میں ڈالنے پر قادر ہے کہ اس کی پہلی نسل کے خریدار بہت ہو چکے ہیں۔ یورپ اور امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنیاں اور کارخانے دن رات چل رہے ہیں اور وہاں نت نئے تجربات کئے جا رہے ہیں۔ ٹینکوں کا ذکر ہو رہا ہے تو یہ بتانا شائد بعض قارئین کے علم میں اضافہ کرے کہ روس کے جدید ترین ٹینک کا نام ارماٹا (ARMATA) رکھا گیا ہے۔ یہ روسی ٹینکوں کی پانچویں نسل کا نمائندہ ٹینک ہے، جس میں نہ صرف یہ کہ روائتی ٹینک والی ساری خوبیاں ہوں گی، بلکہ اے پی سی، آرٹلری اور میزائل لانچنگ کے ساتھ ساتھ روبوٹ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی دیکھنے کو ملے گا۔ فی الحال اس کے تجربات کئے جا رہے ہیں۔ اس کی اور بہت سی فنی خوبیاں ایسی ہیں جو صرف ایسے قاری کے دائرہ فہم میں ہی سما سکتی ہیں جس کا تعلق یا تو خود آمرڈ کور سے ہو یا وہ ٹینک سازی کے شعبے میں کام کر رہا ہو اور یا ایک طویل عرصے سے ٹینکوں کی تاریخ پڑھاتا یا پڑھتا رہا ہوں، اس لئے ان کا مزید ذکر کرنا قارئین کی اکثریت کے لئے زیادہ معلومات افزا نہیں ہو گا۔

ملٹری ہتھیاروں کی دنیا، سول ایجادات کی دنیا سے کم وسیع و عریض نہیں، بلکہ جہاں تک نفع اندوزی کا تعلق ہے تو ملٹری ہتھیار، سویلین ٹیکنالوجی کے آلات سے زیادہ مہنگے، زیادہ پیچیدہ نہیں اور زیادہ نفع آور ہیں۔

ایک اور فیکٹر جو مغربی دنیا کی ان جدید مشینوں اور ہتھیاروں کی مانگ میں کمی نہیں ہونے دیتا وہ ان کے فاضل پرزہ جات کی مینو فیکچرنگ اور فراہمی کا فیکٹر ہے۔ ہتھیار کوئی بھی ہو۔ اسے ہمیشہ شیلف میں سجا کر نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کی ایک شیلف لائف ہوتی ہے جس کے بعد وہ خودبخود ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ دورانِ استعمال اس کے پرزہ جات گھستے اور قابلِ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اسWear and Tearکو پورا کرنے کے لئے فاضل پرزہ جات کی فراہمی کا مسئلہ اتنا ہی ضروری ہے کہ جتنا کسی جدید ہتھیار کی خرید اور اس کے استعمال کا۔۔۔

الغرض ٹیکنالوجی، ملٹری ہو یا سویلین، اس کا اکتساب و استعمال اور اس کی تولید و تخلیق ایسے مشکل اور کٹھن مراحل ہیں جو کسی بھی قوم کے پروفیشنل افراد سے مسلسل جدوجہد اور محنت و مشقت کے طلب گار ہیں۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں روز مرہ کے سیاسی مسائل اس قسم کے بنا دئے گئے ہیں (یا ہم نے خود ان کو ’’ایجاد‘‘ کر لیا ہے) کہ ان سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہم اور مغرب ایک ہی کرۂ ارض پر رہتے ہوئے بھی دو الگ الگ ذہنی اور نفسیاتی دنیاؤں میں رہ رہے ہیں، جیسے کہ مریخ اور مشتری کے انسان ہوں۔ ابھی تک تو ہماری دنیا کو یہی معلوم ہے کہ مریخ یا کسی اور سیارے پر زندگی کے آثار ممکن نہیں، لیکن کیا خبر ان سیاروں کی مخلوق کی زندگی کی اساس ہی مختلف ہو اور ہمیں خبر ہی نہ ہو کہ ان کی زندگی کیا ہے۔ مثلاً ہمیں یہ تو یقین ہے کہ جنات ہمارے اردگرد موجود ہیں لیکن نظر نہیں آتے۔ انسان اور جن دو مختلف مخلوقات ہیں، لیکن دونوں اس کرۂ ارض پر رہ رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح مشرق و مغرب کے باسی ہوتے ہوئے بھی ہم اور اہلِ مغرب گویا دو مختلف مخلوقات ہیں۔ صدہا برس سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ اہلِ مغرب کا دنیاوی شعور سیکولر قسم کا ہے جبکہ ہمارے (خاص کر مسلمانوں کے) دنیاوی شعور پر دینی شعور کا مخملیں پردہ تنا ہوا ہے!

مجھے ڈر ہے کہ بات ٹیکنالوجی کی فصیلوں سے باہر نکل کر ہی مدرسوں کی چار دیواری کی طرف جا رہی ہے اس لئے قلم کو روکتا ہوں لیکن اتنا کہنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ ہمارے دینی مدرسوں کے اصل بانیوں نے کب کہا تھا کہ ان میں سویلین یا ملٹری ٹیکنالوجی کی تدریس منع یا گناہ ہے۔افسوس کہ آج کئی دینی مدرسوں میں ٹیکنالوجی کو ملٹرائز کر کے اسے مذہب کی خود کش جیکٹ میں ملبوس کر دیا گیا ہے۔ یہی وہ امتیازی لکیر ہے جو آج ہمارے ہاں روشن خیالی اور قدامت پرستی کی شاہراہوں کیDivider اور Segregator ہے۔ہم نے اس لکیر کو ختم کرنا ہے اور ان دو الگ الگ سڑکوں کو ایک کرنا ہے۔۔۔۔ اقبال نے کتنا سچ کہا تھا:

رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی

کہ یہ حلاّج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا

مزید : کالم