لوڈشیڈنگ؟

لوڈشیڈنگ؟

حکومت اور نیپرا کے درمیان لوڈشیڈنگ ختم ہونے کی مدت یا معیاد پر جو میچ پڑا اس میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی ریفارمز بھی شامل ہو گیا ہے۔ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے دو سال تک لوڈشیڈنگ میں کمی کی کوئی امید نہیں کہ شدید ضرورت کے سیزن میں پیداوار اور ضرورت کے درمیان4500میگاواٹ کا فرق ہو گا اور پیداوار میں معمولی اضافے کے باوجود2019ء تک فرق جاری رہے گا۔ اس سے قبل نیپرا نے2020ء تک لوڈشیڈنگ ختم نہ ہونے کی بات کی تھی۔ حکومت کی طرف سے جواباً کہا گیا کہ2017ء تک پیداوار بڑھے گی اور لوڈشیڈنگ میں معتدبہ کمی ہو گی۔ وزیر دفاع کہتے ہیں کہ10ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور2018ء سے پہلے لوڈشیڈنگ ختم کر دیں گے۔پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف بھی پُرجوش ہیں اور متعدد ایم او یوز پر دستخط کر چکے اور اب ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کا بھی فیصلہ ہو چکا ہے، جو مارچ کے آخری ہفتے تک درآمد ہو جائے گی۔ بہرحال یہ حکومت اور ماہر اداروں کے درمیان تضاد کی خبریں ہیں۔ ان کی وضاحت لازمی ہے، عوام لوڈشیڈنگ سے تنگ ہیں کہ سرد موسم میں یہ حال ہے تو گرمی میں کیا ہو گا۔ حکومت کا فرض ہے کہ اس تضاد کو دور کرے۔ *

مزید : اداریہ


loading...