مہنگائی۔۔۔ اتوار بازاروں کی افادیت؟

مہنگائی۔۔۔ اتوار بازاروں کی افادیت؟

حکومت کی طرف سے عوام کو اشیاء خوردنی اور ضرورت بازار کے نرخوں سے سستی مہیا کرنے کے لئے سستے بازاروں کا اہتمام عرصہ دراز سے کیا جا رہا ہے۔ کسی شہر میں یہ جمعہ اور کسی میں منگل بازار ہیں لیکن عام طور پر زیادہ مقامات پر اتوار کو لگائے جاتے ہیں کہ اس روز سرکاری چھٹی ہوتی ہے، ان بازاروں کا کنٹرول یا نگرانی صوبائی حکومت کے ایماء پر مقامی حکومت کے پاس ہوتی ہے۔ ان بازاروں کے حوالے سے دلچسپ امر یہ ہے کہ جب سے یہ سلسلہ شروع ہوا تب سے شکایات بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ نہ تو لوگوں نے ان بازاروں کا بائیکاٹ کیا اور نہ ہی ان کے بارے میں شکایات رفع ہو سکیں۔ آج پھر خبریں شائع ہوئیں کہ اتوار بازاروں میں اشیاء غیر معیاری اور مہنگی تھیں۔ ایک خبر بہر حال یہ ہے کہ ان بازاروں میں سبزیوں کے نرخوں میں کچھ کمی ہوئی ہے۔انتظامیہ سمیت ہر شہری جانتا ہے کہ یہ بازار غیر معیاری اشیاء کے مراکز ہیں کہ یہاں کے دوکان دار کسی سکروٹنی کے بغیر دوکانیں سجا لیتے ہیں اور ان کے لئے تھوک مارکیٹ سے خریداری کا کوئی سلسلہ بھی نہیں ہے۔ چنانچہ یہاں کے اکثر دوکان دار بازاروں میں ریڑھی پر سودا فروخت کرنے والے ہی ہوتے ہیں۔ ان سے کیا توقع کیا جا سکتی ہے؟

جہاں تک عوام یعنی شہریوں کا تعلق ہے تو وہ ہر مرتبہ سستے داموں اشیاء خریدنے کی آس میں اِدھر کا رخ کرتے ہیں اور مایوس ہوتے ہیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ جاتے ہیں تو اس کی وجہ قلت کے زمانے میں چینی، آٹا وغیرہ کی سہولت ہوتی ہے کہ یہ اشیاء سب سڈی دے کر فروخت کرائی جاتی ہیں، اس حساب سے ان اتوار بازاروں کی افادیت بس اتنی ہی ہے۔ان اتوار بازاروں کی وجہ سے کئی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں یہ کسی نہ کسی سڑک پر لگائے جاتے ہیں، وہاں کی ٹریفک بند ہوتی ہے دباؤ کی وجہ سے اردگرد کی ٹریفک بھی متاثر ہوتی ہے، گندگی اس کے علاوہ ہے اور پھر اتوار بازار ختم ہو جانے کے بعد بھی اکثر دوکان والے بعد میں ریڑھیاں لگا کر سودا بیچتے رہتے ہیں۔سستے بازاروں کا یہ منصوبہ بھی افسر شاہی کا تجویز کردہ ہے جو اپنے اصل فرائض سے پہلو تہی کر کے ایسی تجاویز منظور کرا لیتے ہیں حالانکہ سرکار کے اپنے شعبے یا محکمے موجود ہیں جن کی ذمہ داری اشیاء کے معیار کی جانچ پڑتال ہوتی ہے اور انہی محکموں میں سے وزن تھوک قیمت اور بڑی مارکیٹوں کے نظام کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے، یہ حضرات اپنی جان بچانے کے لئے ایسے منصوبے بنا کر الجھاؤ پیدا کرتے رہتے ہیں۔ حکومت کو ان الجھنوں سے باہر آنا چاہئے اور جس کا جو کام ہے اس سے کرانا چاہئے یہ اتوار بازار وغیرہ کا سلسلہ ختم کر کے کڑی نگرانی سے قیمتوں کو کنٹرول کرنا چاہئے کہ ہفتے میں ایک روز نہ ہو جو لوگ لینے جائیں۔ اگر تھوک مارکیٹ سے پرچون فروش تک تسلسل سے نگرانی ہو، اور دوسرے متعلقہ شعبے بھی اپنا کام کریں تو معیاری اشیاء اتوار بازاروں کے نرخوں کے مطابق مہیا کرائی جا سکتی ہیں۔

مزید : اداریہ