حکومت اور این جی اوز کے تعاون سے آثار قدیمہ کو محفوظ بنایا جائیگا ،میگی سکاچ

حکومت اور این جی اوز کے تعاون سے آثار قدیمہ کو محفوظ بنایا جائیگا ،میگی سکاچ

 لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) پاکستانی ورثے اور آثار قدیمہ کے تحفظ کیلئے پاکستانی حکومت اور این جی اوز سے تعاون کو یقینی بنایا جائے گا، انفارمیشن و ٹیکنالوجی کے جدید آلات کی بدولت سینکڑوں سال پرانے ورثے اور ثقافتی اثاثے کو دیر تک محفوظ بنایا جا سکتا ہے،ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر یو ایس ایڈ پاکستان میگی سکاچ نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں ٹی پی آئی اور یو ایس ایڈ کے اشتراک سے گزشتہ روز ڈیجیٹل تحفظ برائے پاکستانی ورثہ پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر والڈ سٹی لاہور کے ڈائریکٹر جنرل کامران لاشاری،وائس چانسلر لمز یونیورسٹی ڈاکٹر سہیل نقوی،پرو چانسلر سید بابر علی موجود تھے۔ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ والڈ سٹی پروجیکٹ لاہور کی قدیم عمارتوں،مزارات،فوڈ سٹریٹ ، مساجد ،قلعے اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کے ساتھ ساتھ تزئین و آرائیش کے عوامل کو موثر انداز سے سرانجام دے رہا ہے تاکہ عوام کے اذہان میں انکی یا دیں تازہ رہ سکیں۔ٹیکنالوجی فار پیپل انیشیٹیو کی طرف سے لانچ کئے گئے پروجیکٹ ڈیجیٹل تحفظ برائے قومی ورثہ اور یو ایس ایڈ کے تعاون سے قومی ورثے اور آثار قدیمہ کی حفاظت میں مدد ملے گی۔وائس چانسلر لمز یونیورسٹی ڈاکٹر سہیل نقوی نے کہا کہ یہ بہت اہم پروجیکٹ ہے جس میں نوجوان نسل کو مغل علم تعمیر اور قدیمی انداز معماری کے بارے میں سیکھنے کو ملے گا اور حکومتی سطح پر اس پروجیکٹ کے تعاون سے قدیمی ورثے کی شناخت میں پختگی آئے گی۔پرو چانسلرسید بابر علی نے کہا کہ لمز یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے میں علم حاصل کرنے والے طلباء کی طرف سے اس پروجیکٹ کی لانچنگ طلباء کی ایسی تخلیقی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کی بدولت قومی ورثے اور آثار قدیمہ بارے لوگوں کی آگاہی و اہمیت میں اضافہ ہو گا۔ ڈائریکٹر ٹی پی آئی علی انعام کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد اپنے قومی ورثے کے تحفظ کیلئے کام کرنا ہے اور حکومتی مشینری کا ثقافتی و قدیمی اثاثوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر کے بین الاقوامی سطح پر ملک کا سافٹ امیج پیدا کرنا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1