گلگت ،پولیس نے مفرور قیدیوں کو گھیر لیا،رات گئے تک فائرنگ تبادلہ

گلگت ،پولیس نے مفرور قیدیوں کو گھیر لیا،رات گئے تک فائرنگ تبادلہ

گلگت (خصوصی رپورٹ) گلگت میں پولیس نے سانحہ نانگا پربت کے ملزم سمیت دو مفرور قیدیوں کو گھیر لیا، فائرنگ کا تبادلہ رات گئے تک جاری، قیدی جیل عملے کی ملی بھگت سے فرار ہوئے، اسلحہ بھی فراہم کیا گیا۔ آئی جی جیل خانہ جات، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اور 4 اہلکار معطل، ذرائع کے مطابق گلگت میں پولیس نے سانحہ نانگا پربت کے ملزم سمیت دو مفرور قیدیوں کو گھیر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزموں میں سانحہ نانگا پربت کا مرکزی ملزم حبیب الرحمان اور لیاقت شامل ہیں۔ ملزم لیاقت ایس ایس پی چلاس کے قتل میں ملوث ہے۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جس کے بعد اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق خطرناک قیدی جیل عملے کی ملی بھگت سے فرار ہوئے جنھیں اسلحہ بھی فراہم کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد آئی جی جیل خانہ جات، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اور 4 اہلکاروں کو معطل کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ واضع رہے کہ گزشتہ روز ڈسٹرکٹ جیل سے چار قیدی فرار ہوئے تھے جن میں سے ایک مقابلے میں ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں پکڑا گیا تھا۔ خیال رہے کہ 2013ء میں نانگا پربت حملے میں 10 غیر ملکیوں سمیت 11 سیاح قتل ہوئے تھے۔سیکرٹری گلگت بلتستان نے سیکرٹری داخلہ سبطین احمد کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی بنا دی ہے ۔ اس واقعہ کا سیکرٹری داخلہ گلگت بلتستان سبطین نے فوری طور پر نوٹس لیا ہے اور غفلت برتنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ اور وارڈن سمیت 3اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے 20لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔سیکرٹری داخلہ نے واقعہ کی تحقیقات کے لئے 3رکنی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے جبکہ مقامی حکومت اور چیف سیکرٹری نے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

مزید : علاقائی


loading...