21 ویں آئینی ترمیم جیسے کالے قانون کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائیگا،مفتی کفایت اللہ

21 ویں آئینی ترمیم جیسے کالے قانون کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائیگا،مفتی ...

صوابی( بیورورپورٹ)جمعیت علماء اسلام(ف) کے مرکزی رہنما مولانا مفتی کفایت اللہ نے کہا ہے کہ اکیسویں آئینی ترمیم جیسے کالے قانون کو ہر گز نہیں مانتے وقت ثابت کر ئے گا کہ مدارس رہے گی اور اس کا دشمن نہیں رہے گا ان خیالات کااظہار انہوں نے مسجد عبدالرحمن مانکی ضلع صوابی میں جے یو آئی مانکی کے امیر مولانا آمان اللہ کے والد حاجی اکرام اللہ (مرحوم) کی یاد میں ایک منعقدہ دینی اجتماع سے خطاب کے دوران کیا جس سے ضلعی امیر مولانا عطاء الحق درویش ، جنرل سیکرٹری مولانا احسان الحق ، ،بزرگ عالم دین شیخ الحدیث مولانا عبدالحق و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ دنیا میں ہر مومن کو پیغمبرﷺ کے شان اور دین پر ثابت قدم رہنا ہو گا۔ قر آن و سنت پر پوری طرح عمل پیرا ہونے سے مسلمان دنیا و آخرت میں فلاح پاسکتا ہے۔ ہر مومن ناموس رسالت ﷺ پر مرمٹنے سے دریغ نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی سطح پر اغیار مسلمانوں ، علماء کرام اور مساجد و مدارس کے خلاف سازشیں کر رہا ہے مگر وہ اس میں ہر گز کامیاب نہیں ہو نگے۔ مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ اکیسوی آئینی ترمیم پارلیمنٹ کے منہ پر طمانچہ ہے حکومت نے پہلی بار مدرسے کے خلاف محاذ قائم کیا ہے مدرسہ پاکستان کا نہیں بلکہ امریکہ کا مخالف ہے ہماری قیادت امریکی ایجنڈا پر کام کر رہی ہے ہم اس کالے قانون کو نہیں مانتے او ر وقت ثابت کر ئے گا کہ مدرسہ رہے گا اور اس کا دشمن مٹ جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں آئینی ترمیم پر سیکولر جماعت نے ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا ہے لہٰذا حکومت اکیسویں آئینی ترمیم پر نظر ثانی کر کے دینی حلقوں کے تحفظات دور کریں#

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...