ججوں کا مشاعرہ

ججوں کا مشاعرہ
ججوں کا مشاعرہ

  


سنتے آئے ہیں کہ جج ہمیشہ اپنے فیصلوں میں بولتے ہیں لیکن اب یہ بات غلط ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ اب جج خواتین و حضرات، بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کرتے ہیں اور اخبارات کی شہ سرخیوں اور میڈیا کے کیمروں کی نظر میں آتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں معزول کئے گئے چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب افتخار چودھری ہیں۔ وہ خبروں کا موضوع یوں بنے کہ اب صدر، وزیراعظم، گورنر صاحبان اور وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو بھی خبرنامے میں باقاعدہ پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ کبھی ججوں کے فیصلے خبر بنتے ہیں کبھی زیر سماعت مقدموں میں ان کی طرف سے دیئے گئے تاثرات بریکنگ نیوز بن جاتے ہیں۔ میڈیا والے ان تاثرات کو شاید فیصلوں کا متبادل سمجھ لیتے ہیں۔ یا ان کے ذریعے وہ لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مقدمے کا فیصلہ کس نوعیت کا ہوگا۔ حتیٰ کہ اب جج صاحبان کے موڈ کو بھی خبر بنا دیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ بات ٹھیک نہیں لگتی لیکن الیکٹرانک میڈیا کے دور میں کہا جا سکتا ہے کہ اب کسی کی پرائیویسی، پرائیویسی نہیں رہی۔ جلد یا بدیر، میڈیا کو اس ضمن میں کوئی مستقل اور ٹھوس لائحہ عمل اپنانا ہی ہوگا جو کچھ ضابطوں اور قاعدہ کا پابند ہو۔

چند روز قبل لاہور میں تعینات ایک سینئر سول جج جناب ندیم انور چودھری کا فون آیا انہوں نے بتایا کہ لاہور کی ضلعی عدلیہ کے زیر اہتمام جی او آر ون کے سول آفیسرز میس کے فنکشن ایریا میں ایک مشاعرہ منعقد ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے درخواست کی کہ اگر وقت ہو تو آ جائیے گا۔

کیونکہ درخواست، جج صاحب نے کی تھی اس لئے میں نے اسے حکم ہی سمجھا اور وقتِ مقرر پر مشاعرہ گاہ میں پہنچ گیا جہاں لاہور بھر کے سول جج مرد و خواتین موجود تھے جن میں سینئرز بھی شامل تھے اور جونیئر بھی۔ اوریا مقبول جان، امجد اسلام امجد، صوفیہ بیدار اور صغرا صدف بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد لاہور کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جناب طارق افتخار اور جوڈیشل اکیڈمی پنجاب کے ڈی جی جناب خورشید انور رضوی بھی تشریف لے آئے۔ ان کے آتے ہی تمام حاضرینِ کرام پہلے سے کچھ زیادہ مودب ہو کر بیٹھ گئے۔ یہ صورت حال دیکھ کر ہم تمام شعرائے کرام نے کن اکھیوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ مشاعرے کا موڈ کس قسم کا ہوگا۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ نہایت ٹھنڈا مشاعرہ ہوگا۔ شاعروں کو کوئی داد نہیں دے گا، لیکن ہم سب کے سارے اندازے اس وقت غلط ثابت ہوگئے جب سینئر سول جج جناب ندیم انور چودھری نے مشاعرے کی نظامت سنبھالی اور حسب روایت، سب سے پہلے اپنا کلام سنایا۔ تھوری دیر پہلے جتنے جج صاحبان خاموشی کا لبادہ اورھے، سمٹے سمٹائے بیٹھے تھے، واہ ، واہ اور مکرر، مکرر کہنے لگے۔ خواتین نے تالیاں بجا بجا کر اپنے قبیلے کے شاعر کو داد بھی دی اور مچھروں کا قتلِ عام بھی کیا۔ ان کے بعد کئی جج صاحبان نے کلام پیش کیا۔ کچھ نے اپنے کلام میں بیوی کا شکوہ کیا اور کچھ نے اپنے افسروں کا کچھ نے دوستوں کے گلے کئے اور کچھ نے معاشرے کی تصویر کشی کی۔

ملک اویس اور خالد سوہل نے بالترتیب سنجیدہ اور مزاحیہ کلام سنا کر خواب داد سمیٹی۔ ملک اویس سے مل کر مجھے خاصی حیرت ہوئی کہ جو شخص روز سینکڑوں فائلیں دیکھتا ہے۔ نہایت عمدہ شعر کس طرح کر لیتا ہے؟ ملک اویس میرے کالم کے باقاعدہ قاری ہیں وہ اپنی گفتگو میں بار بار میرے اس کالم کا حوالہ دیتے رہے جو میں نے لاہور ہائی کورٹ بار کے تاریخی مشاعرے کے سلسلے میں لکھا تھا۔ ایک سول جج صاحب نے کلام سنانے سے پہلے کہا: ’’اگر کوئی غلطی ہو تو معاف کر دیجئے گا‘‘۔ مجھے شرارت سوجھی اور بولا: ’’آپ عدالت میں بیٹھ کر کسی کی چھوٹی سی غلطی معاف نہیں کرتے تو ہم کیوں کریں؟‘‘ میری یہ بات سن کر امجد اسلام امجد بھی مسکرائے اور داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔

اس مشاعرے میں چونکہ ’’پیشہ ور شاعر‘‘ کم تھے اس لئے سب نے جی بھر کر کلام سنایا۔ ہم میں سے کسی شاعر کو میزبانوں میں سے کسی نے بھی زیادہ کلام سنانے سے نہیں روکا جس کو جب تک داد ملتی رہی اس نے اس وقت تک اپنا کلام سنایا۔

آخر میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور جناب طارق افتخار نے خطاب کیا۔ انہوں نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ عدلیہ میں شاعری کو بہ نظر استحسان نہیں دیکھا جاتا۔ اپنی بات کو مزید موثر کرنے کے لئے انہوں نے ایک واقعہ بھی سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جج صاحب کو وضاحتی کسی لغزش کی پاداش میں شوکاز نوٹس ملا تو انہوں نے اپنے جواب میں ایک شعر بھی لکھ دیا۔ان کی وضاحت تو قبول کرلی گئی لیکن اس کے بعد انہیں ایک اور نوٹس دے دیا گیا کہ آپ نے قانونی اور انتظامی معاملات میں شاعری کو کیوں گھسیٹ لیا؟

جناب طارق افتخار اور جوڈیشل اکیڈمی کے ڈی جی جناب خورشید انور رضوی کی اس محفل شعر و سخن میں موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ شاعری کے بارے میں مثبت نقطہ ء نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے برملا کہا کہ اس مشاعرے میں شرکت کرکے انہیں اطمینان قلب حاصل ہوا ہے۔

جناب خورشید انور رضوی نے تو فوری طور پر فیصلہ سنایا کہ جلد ہی جوڈیشل اکیڈمی میں اس سے بھی بڑے مشاعرے کا اہتمام کیا جائے گا۔ تب مجھے میر تقی میر کا یہ شعر یاد آ گیا:

اس میں راہِ سخن نکلتی تھی

شعر ہوتا ترا شعار اے کاش

مجھے جسٹس کیانی بھی یاد آئے جن کی شگفتہ تقریروں کا مجموعہ ’’ایک جج شاید ہنس بھی سکتا ہے‘‘ میں نے اپنے زمانہ ء طالب علمی میں پڑھا تھا۔ وہ اپنی تقریروں میں جا بجا اشعار بھی استعمال کرتے تھے۔

یہ مشاعرہ دیکھ کر میں سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ جج صرف اپنے فیصلوں میں نہیں بولتے وہ شاعری کے ذریعے بھی بات کرتے ہیں۔

مزید : کالم


loading...