قوم کیلئے خوشخبری ،معیشت بہتر ہو گئی ،مارچ میں پٹرول کے نرخ نہیں بڑھائے جائینگے ،اسحاق ڈار

قوم کیلئے خوشخبری ،معیشت بہتر ہو گئی ،مارچ میں پٹرول کے نرخ نہیں بڑھائے ...

 اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود یکم مارچ کو ایک ماہ کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 5.59 روپے، ہاء یاوکٹین 12.62 روپے، تیل مٹی7.32 روپے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 5.5روپے فی لیٹر اضافے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.49روپے فی لیٹر کمی کی سمری بجھوائی تھی جبکہ حکومت نے پٹرول، ہائی اوکٹین، تیل مٹی اور وائٹ ڈیزل پر سیلز ٹیکس 27فیصد سے کم کر کے 18فیصد جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل پر 36فیصد کر کے قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، اس کے علاوہ لیوی بھی کم ہو گئی ہے، زر مبادلہ کے ذخائر 16ارب ڈالر سے بڑھنے پر عالمی بینک نے پاکستان کو آئی بی آر ڈی میں شامل کرلیا جس کے تحت 2019 تک عالمی بینک 11ارب ڈالر سستا قرضہ فراہم کرے گا جبکہ انٹرنیشنل فنانشل ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے ایریا سے نکال کر وائٹ لسٹ میں شامل کرلیا ہے، جس پر قوم کو مبارکباد ہو، وزیر اعظم سینیٹ الیکشن کیلئے ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے آئینی ترمیم چاہتے ہیں جبکہ اب تمام جماعتوں کو بلامقابلہ امیدوار لانے کی پیشکش کی ہے۔ وہ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تین سال بعد آئی بی آر ڈی میں شامل ہو گیا ہے، ہمارے اقتصادی اعشاریئے کمزور ہونے کی وجہ سے ہماری رکنیت معطل ہوئی تھی، تین سال بعد ہم نے زر مبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر سمیت دیگر شرائط پوری کر دیں جو تین ہفتے کی درآمدات سے زائد ہیں کیونکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 11 ارب ڈالر سے بڑھ چکی ہیں قوم کو مبارکباد ہو، عالمی بینک نے ہمیں آگاہ کر دیا کہ پاکستان کو آئی بی آر ڈی کا ممبر بن گیا ہے، عالمی بینک میں اب 2015-19کا ترقیاتی پروگرام چل رہا ہے، لہٰذا انہوں نے ہمیں 2019تک 11ارب ڈالر کا ترقیاتی قرضہ دینے بارے معطل کردیا ہے یوں ہمیں دو ارب ڈالر اضافی ملیں گے۔ علاوہ ازیں انٹرنیشنل فنانشل ٹاسک فورس نے تین سال پہلے پاکستان کو گرے ایریا میں ڈال دیا تھا جو مالک منی لانڈرنگ کی روک تھام کے معیارات پورے کریں وہ وائٹ ایریا میں چلے جاتے ہیں ورنہ بلیک ایریا میں ڈال دیتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ ہم ان کی شرائط پوری کردیں۔ چند ہفتے پہلے ان کی ٹیم یہاں آئی تھی اور انہوں نے حکومتی اقدامات کا بغور جائزہ لیا ور اطمینان کا اظہار کیا۔ ہم نے منی لانڈرنگ کیخلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت بھی سخت اقدامات کئے ہیں اس حوالے سے انٹرنیشنل فنانشل ٹاسک فورس کے صدر کو خط لکھا اور وزارت خزانہ کی ایک ٹیم بھجوائی جس نے ان کو بریف کیا اور آج انہوں نے پاکستان کو اب وائٹ لسٹ میں شامل کرلیا ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی تھی تو اسی وقت ہی کہا تھا کہ جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی لہٰذا اسی بنیاد پر اوگرا نے سفارش کی ہے کہ پٹرول کی قیمت میں 5.59 پیسے فی لیٹر‘ ہائی اوکٹین 12.62 پیسے‘ تیل مٹی 7.32 روپے جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت 5.5 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا جائے اس کے برعکس ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت اب 75.12 روپے فی لیٹر‘ پٹرول 75.88 روپے فی لیٹر‘ ہائی اوکٹین 92.93 روپے فی لیٹر‘ تیل مٹی 68.76 روپے جبکہ لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 63.44 ہونی چاہئے تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر قیمتوں میں استحکام قائم رکھنے کیلئے سیلز ٹیکس کی شرح میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوں یکم مارچ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس واپس 18 فیصد پر لے آئے گی۔ اگر پھر بھی ضرورت پڑے گی تو پٹرویم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کریں گے۔ انہوں نے کہ اکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پٹرول‘ ہائی اوکٹین کی قیمتیں بھی نہ بڑھائیں اور ڈیزل کی قیمتیں بھی کم کریں یہ ناممکن ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اسحق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم ہارس ٹریڈنگ کی برائی کو آئین میں ترمیم کے ذریعے دفن کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے وزیراعظم نے آج سیاسی قیادت سے مشاورت کی اور بعض سیاسی رہنماؤں سے رابطہ کیا لیکن وقت کم تھا۔ دو تین جماعتوں کے راہنماؤں نے وزیراعظم سے مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ کے انتخابات میں ہاتھ کھڑے کرکے ووٹ دینا ممکن نہیں‘ سیکرٹ کی بجائے اوپن بیلٹ بھی ہوسکتا ہے اس حوالے سے اکثر جماعتیں حق میں تھیں اگر پیر کے روز اتفاق رائے ہوگیا تو ترمیم ممکن ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں‘ ہمیں دوسری جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہے اس کے علاوہ تحریک انصاف کو بھی کہہ دیا کہ آئیں! تمام معاملات ختم کریں۔ وزیراعظم نے واضح اپیل کی ہے کہ سیاسی جماعتیں سینٹ میں اپنا حصہ لے کر بلامقابلہ امیدوار لائیں۔ بلامقابلہ الیکشن کوئی بری بات نہیں‘ امید ہے کہ اچھی خبر ملے گی۔ ایک سوال کے جواب پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کیلئے تیار نہ ہونے والی جماعتوں کا نام نہیں بتاسکتا جبکہ منی لانڈرنگ روکنے کیلئے تمام ممالک کو انٹرنیشنل فنانشل ٹاسک فورس کے معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو آئندہ ماہ لازمی طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں کوئی پاکستان کو قرضہ دینے کیلئے تیار نہیں تھا

مزید : صفحہ اول