ن لیگ کوپنجاب میں سینیٹ کے ایک امیدوار کیلئے 47ووٹ در کار

ن لیگ کوپنجاب میں سینیٹ کے ایک امیدوار کیلئے 47ووٹ در کار

لاہور( شہزاد ملک) پنجاب اسمبلی میں سینیٹ کے الیکشن میں ایک امیدوار کو کامیابی حاصل کرنے کے لئے کل 47ووٹ در کار ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو عددی لحاظ سے واضح اکثریت حاصل ہے لیکن چونکہ سینیٹ کے الیکشن میں ووٹنینگ ایک ٹیکنکل اور سیکرٹ طریقے سے ہوتی ہے اس طرح سے یہاں پر اپوزیشن کے اکلوتے امیدوار کی کامیابی کا امکان بھی ہو سکتا ہے ۔ اس وقت پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے امیدوار ندیم افضل چن کی جماعت پیپلز پارٹی کے پاس اپنے 8ووٹ ہیں اور اس کی دوسری اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے پاس بھی 8ووٹ ہیں اس طرح ان دونوں جماعتوں کے ووٹ ملا کر 16ہو جاتے ہیں اسی طرح سے تحریک انصاف کے پنجاب اسمبلی میں کل ووٹ 30ہیں اور ان میں سے ایک ایم پی اے نگہت انتصار بھٹی جو کہ حافظ آباد کے گزشتہ ضمنی الیکشن میں کامیاب ہو کر آئیں تھیں انہوں نے اپنی پارٹی کے چیرمین عمران خان کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسمبلی سیکرٹریٹ میں اپنا استعفی جمع نہیں کروایا تھا اگر مذکورہ خاتون اور تحریک انصاف کے باقی 29ایم پی ایز بھی اسمبلی میں آ کر اپنا ووٹ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو کا سٹ کریں تو اس طرح سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی پوزیشن بہتر ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح سے پنجاب میں 4آزاد ایم پی ایز بھی ہیں اور جماعت اسلامی کا بھی ایک ووٹ ہے یہ ووٹ جس طرف جائیں گے اس کی بھی پوزیشن بہتر ہو سکتی ہے ۔دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اپنے گیارہ امیدواروں کو ووٹ ڈالنے کے لئے عددی اکثریت 47ووٹ فی امیدوار کو دینے کے بعد بھی 22ووٹ بچ جائیں گے اور اس کے ان ووٹوں پر پیپلز پارٹی اندرون خانہ اپنے امیدوار کے لئے ووٹ مانگ رہی ہے اور اگر مسلم لیگ (ن) کی جماعت کے یہ ووٹر اس سیکرٹ رائے شماری میں اپنا ووٹ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو دیدیں یا پھر غلطی سے (ن) لیگ کا کوئی ووٹر اپنے امیدوار کو ترجیح ووٹ ڈالنے کی بجائے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیدے تو شائد ندیم افضل چن اپ سیٹ کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں خفیہ طریقے سے ہونے والی رائے شماری کا فائدہ اٹھانے کے لئے اپوزیشن کے امیدوار ندیم افضل چن مسلم لیگ (ن) سمیت ہر ووٹرز سے رابطہ کررہے ہیں اور انہوں نے اپنی اس مہم کے دوران اپنی پارٹی کو یہ بات دعوے سے بتائی ہے کہ 60ووٹرز نے انہیں ووٹ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے اگر وہ اپنے اس دعوے کے مطابق یہ مذکورہ ووٹ لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو تب وہ بہتر پوزیشن میں آ سکتے ہیں ۔دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت سے کسی رابطے کے بعد پیپلز پارٹی اپنے امیدوار کو دستبردار کروائے گی تو وہ اس کے بدلے میں پنجاب کی گورنر شپ لے گی اور اس کے بدلے میں سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار کو بھی ووٹ دے گی لیکن اس کا فیصلہ دونوں جماعتوں کی اعلی لیڈر شپ کرے گی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی پر واضح کردیا ہے کہ وہ پنجاب میں اپنے کسی بھی امیدوار کو دستبرار نہیں کروائے گی پیپلز پارٹی نے الیکشن میں مقابلہ کرنا ہے تو کرلے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابق گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم سید احمد محمود ان دنوں مسلم لیگ (ن) کے جنونی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ووٹرز سے ووٹ مانگ رہے ہیں اور وہ اس سلسلے میں کافی پر امید بھی ہیں کہ انہیں ووٹ مل جائیں گے۔

مزید : صفحہ اول