سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ،کل جماعتی پارلیمانی کانفرنس میں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے نہ ہو سکا

سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ،کل جماعتی پارلیمانی کانفرنس میں آئینی ترمیم ...

 اسلام آباد(اے این این، آ ن لا ئن ، ما نیٹرنگ ڈیسک ،آ ئی این پی) وزیراعظم نوازشریف کے زیرصدارت کل جماعتی پارلیمانی کانفرنس میں سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے بائیسویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف)نے ترمیم کی مخالفت کی جبکہ تحریک انصاف اورایم کیوایم سمیت متعددجماعتوں نے ترمیم کی حمایت کی۔جمعہ کووزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی کانفرنس میں جے یو آئی(ف)کے فضل الرحمن ، پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ ، فاروق ایچ نائیک، راجہ پرویز اشرف ، شیری رحمان، فرحت اللہ بابر ، مسلم لیگ ضیاء کے اعجاز الحق، اے این پی کے غلام احمدبلور ، ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل ، ڈاکٹر فاروق ستار ، تحریک انصاف کے شفقت محمود ، شیریں مزاری ، عارف علوی ، فاٹا سے جی جی جمال ، عباس آفریدی ، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپاؤاور حاصل بزنجو شامل شامل ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ق)اور عوامی مسلم لیگ کے رہنما اورپختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی بھی اجلاس میں شریک نہ ہوسکے ۔ حکومت کی طرف سے وفاقی وزراء ، مشیر ، قانونی و آئینی ماہرین اوراٹارنی جنرل اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام کیلئے بائیسویں آئینی ترمیم پر تفصیلی بات چیت کی گئی ۔ترمیم پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ سینیٹ انتخابات سے قبل ہارس ٹریڈنگ کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اس لئے سب کو مل کر سینیٹ کا تقدس برقرار رکھنا ہوگا اور ضمیر فروشی کے کاروبار کو روکنا ہوگا۔پیسے دے کر ایوان بالا میں آنا انتہائی افسوسناک ہے، سینیٹ انتخابات میں شفافیت کا انتخابی اصلاحات سے گہرا تعلق ہے اورتمام جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مکروہ فعل روکنے کے لئے مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہاکہ اصلاحاتی پیکیج تیار کرنے میں وقت لگے گا مگر ہم مل بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ مکروہ پروگرام کو ختم کرنا ہے ۔ جس کا کسی پارٹی سے تعلق نہیں وہ پیسے کے بل بوتے پر الیکشن لڑ رہا ہے اگر اس سے کوئی پوچھے کہ تم نے کونسا اور کس کا ووٹ لیا تو اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا ۔ کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیوایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے آئین میں ترمیم کی تجویز ہمارے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے اسلئے ہم نے اس کی بھرپور حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی سیاست سے پیسوں کا عمل دخل ختم ہوناچاہیے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کے عوام کا پاکستانی سیاست پراعتماد قائم کیا جائے سیاست سے کرپشن کو ختم کیا جائے اور ہارس ٹریڈنگ کی لعنت کو ہمیشہ کیلئے دفن کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ کے الیکشن کے موقع پر بکنے والے گھوڑوں کی نیلامی ہوتی ہے۔یہ صرف ملک، سیاست اور جمہوریت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ نہیں بلکہ پاکستان کے ماتھے پر بھی کلنک کا ٹیکہ ہے ۔ضمیر فروشی کرنے والے گھوڑے قومی اسمبلی کے ہوں یا صوبائی اسمبلیوں کے اراکین ہوں ان گھوڑوں کو لگام دینے کی ضرور ت ہے یہ پاکستان اور جمہوریت کے تقدس کو بیچ رہے ہیں ہم نے یہ بھی کہا ہے کہ ایوان ایسے بنتے کیوں ہیں جن میں بکنے والے گھوڑے منتخب ہوکر آتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ انتخابی نظام میں بڑی خرابی ہے اس کو بھی دور کیا جائے ۔ اے پی سی انتخابی اصلاحات کیلئے پہلا اقدام ہونا چاہیے۔ ایسی اصلاحات بھی کی جائیں جن سے ووٹرز کو خریدنے کی بھی روک تھام ہو۔ انتخابی مہم پر کروڑوں روپے کا خرچہ بھی روکنا چاہیے۔ اس موقع پرپیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کی دعوت پر کانفرنس میں شرکت کی اور اس احسن اقدام پر نواز شریف کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہاکہ سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے خدشات کا اظہار کیا گیاہے ۔ اجلاس میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمہ پر تمام جماعتوں میں مکمل اتفاق تھا ۔ پیپلز پارٹی نے اپنا موقف پیش کیا اور کہا ہے کہ ہم ہارس ٹریڈنگ اور انتخابی عمل کی تمام دھاندلیوں ، آلائشوں اور جرائم کو مسترد کرتے ہیں اسے کسی صورت برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ ایسا میکنزم بنایا جائے جس سے یہ معاملہ روک پائے اور ملک میں صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ہوسکے۔راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ حکومت کی طرف سے آئینی ترمیم کی تجویز دی گئی اور کہاگیاکہ سینٹ کے الیکشن میں اوپن ووٹ سسٹم ہو، ووٹ پر ووٹر کا نام لکھ دیا جائے اور یہ بھی لکھ دیا جائے کہ وہ ترجیح کس کو دینا چاہ رہا ہے اس پر مختلف آراء تھیں ہماری پارٹی کا موقف ہے کہ متنازعہ قانون سازی کے بجائے مکمل طورپر سسٹم کو پاک صاف کیا جائے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام جماعتوں میں اتفاق رائے ہو ۔ اگر ایک بھی سیاسی جماعت ہم کو رد کرتی ہے یا اعتراضات ہیں آئین میں ایسی آئینی ترمیم پائیدار نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہاکہ ہارس ٹریڈنگ پر ہمارا موقف واضح ہے ہم چاہتے ہیں پورے نظام پر غور کیا جائے ۔ ہم یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ وقتی طورپر جب کسی ایک جماعت کی ضرورت ہو تو پارلیمنٹ کو بھاگتے ہیں اور ذاتی مفاد حاصل کرتے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے طورپر ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کی کوشش کریں گی ۔ ہم بھی اس کاوش کا بھرپور ساتھ دیں گے لیکن جہاں تک ترمیم کا تعلق ہے ہم نے کہا ہے کہ اچھا کام بھی غلط وقت پر کرنے کا فائدہ نہیں ہوتا۔ ہمارے سارے ارکان بکاؤ مال نہیں ہیں یہ بالکل غلط اور قابل مذمت بات ہے ۔ اسمبلیوں کے سارے ممبران کو بکاؤ مال کہنا غلط ہے ، چند کالی بھیڑیں ہیں تو پارٹیاں ان کا راستہ روکیں ایسے ٹولوں کو ٹکٹ نہ دیں۔ ہارس ٹریڈنگ قومی مسئلہ تھا ہم نے واضح موقف دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آصف زرداری نے پہلے بیان دیا ہے کہ ٹکڑوں کے بجائے پورے نظام کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ گلگت بلتستان سمیت عام الیکشن ہوں یا بلدیاتی صاف شفاف بنا ئے تاکہ بھرپور اور جامع پالیسی اپنائی جائے ، ہم اس ترمیم کی حمایت کریں گے جو اتفاق رائے سے ہوجس پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہوگا۔ تحریک انصاف کے عارف علوی نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کا معاملہ عمران خان نے اٹھایا تھا ۔ سینٹ الیکشن کیلئے بازار لگتا ہے یہ جمہوریت کی ساکھ کو خراب کرنے والا معاملہ ہے ۔ اس لئے اوپن ووٹنگ ہونی چاہیے اور پارٹی ڈسپلن کی خلا ف ورزی کرنے والے کو نا اہل قراردیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ آئین میں موجود حامیوں کو دور کرنے کیلئے پہلے بھی ترامیم ہوتی رہی ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف بھی آئینی ترمیم لائی جائے۔ وزیراعظم نواز شریف کی اس تجویز کا عمران خان نے خیر مقدم کیا تھا ۔ عارف علوی نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں کی اکثریت ترمیم کی حامی تھی صرف پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ایف)نے تحفظات کا اظہار کیا۔ہم نے واضح موقف اختیار کیا کہ ہارس ٹریڈنگ پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بدنامی کا باعث بنتی ہے اور اسے روکنے کیلئے آئینی ترمیم وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ایک اچھا قدم اٹھایا تھا ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں لایا جائے تاکہ قوم کو پتہ چلے کہ کونسی سیاسی جماعتیں اس لعنت کاخاتمہ چاہتی ہیں اور کونسی جماعتیں ہارس ٹریڈنگ کی حامی ہیں۔ عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے۔ اس سوال پر کہ اگر حکومت آئینی ترمیم کا بل لاتی ہے تو کیا تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی میں جاکر اس بل کے حق میں ووٹ دینگے اس پر عارف علوی نے کہا کہ اگر ترمیمی بل آیا تو قومی اسمبلی میں ووٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ پارٹی کرے گی لیکن ہم مکمل طورپر اس بل کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے آئینی ترمیم کا قدم عمران خان کی خواہش پوری کرنے یا اہتمام عجت کیلئے نہیں کیا سب جانتے ہیں کہ سینٹ کے الیکشن میں کیا ہوتا ہے یہ کسی کی خواہش کی بات نہیں۔ سینٹ کے الیکشن میں کروڑوں روپے چلتے ہیں اور پوری دنیا اس سے آگاہ ہے۔ پیسہ لیکر آنے والے اپنے اپنے صوبے یا عوام کی خدمت نہیں کرسکتے ۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ میں نے آل پارٹیز کانفرنس میں ہارس ٹریڈنگ سے متعلق جماعت اسلامی کا موقف پیش کیا۔یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی اور ہم نے اس عمل کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ ایک گناہ ہے اس کا سدباب ہونا چاہیے۔ کانفرنس میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ایف )نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ اس تجویز پر غور کریں اور (آج)ہفتہ تک پارٹی مشاورت کے بعد جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس ترمیم کے حق میں ہے ، قوم کو ساری چیزوں کا پتہ ہونا چاہیے، ہم نے ہمیشہ ہارس ٹریڈنگ کی مخالفت کی ہے۔ اے این پی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کہاہے کہ بدقسمتی سے آل پارٹیز کانفرنس میں ہارس ٹریڈنگ روکنے سے متعلق آئینی ترمیم پر اتفاق نہیں ہوسکا، ہماری خواہش تھی کہ اتفاق رائے سے معاملے کو آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ پارٹیوں کی ضرورت ہے کہ آئینی ترمیم کا بل پاس ہو جائے اسی طرح کچھ کی ضرورت ہے کہ یہ بل پاس نہ ہو اور ان کی دال روٹی بن جائے۔ غلام احمد بلور نے کہا کہ ماضی میں ہمارے دو بندوں نے سینٹ کے الیکشن میں پیسے لئے تھے ہم نے ان کو پارٹی سے نکال دیا تھا اس کے بعد وہ ممبر بھی نہیں بن سکے ہم ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے ترمیم کے حق میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ایف)نے آئینی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سیاسی جماعتیں ترمیم کی بجائے اپنے اندر نظم و ضبط پیدا کریں۔ چھوٹی چھوٹی ترمیم کی بجائے مل کر انتخابی اصلاحات کا مکمل بل لایا جائے جس سے انتخابی عمل میں موجود خرابیوں کو ختم کیا جاسکے۔ دونوں جماعتو ں کاموقف تھاکہ آئینی ترمیم کوانتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں پیش کردیاجائے یہ ترمیم ملکی مفاد میں کی جائے پارٹی مفاد میں نہیں۔ اے این این کے مطابق حکومت نے پیپلزپارٹی اورجمعیت علماء اسلام (ف)کی مخالفت کے باوجودہارس ٹریڈنگ کی روک تھام کیلئے بائیسویں آئینی ترمیم کابل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کافیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت آل پارٹیزکانفرنس میں پیپلزپارٹی اورجمعیت علما اسلام (ف)کے سوا باقی جماعتوں نے ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے آئینی ترمیم کی حکومت تجویزکی حمایت کی جس کے باعث حکومت نے اس حوالے سے بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کافیصلہ کیاہے ۔توقع ہے کہ یہ بل پیرکوسینٹ میں پیش کردیاجائے گا۔

مزید : صفحہ اول