دہشت گردی کے خلاف جنگ اور حکومتی نااہلی۔۔۔!

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور حکومتی نااہلی۔۔۔!
 دہشت گردی کے خلاف جنگ اور حکومتی نااہلی۔۔۔!

  

 مملکتِ خدا داد پاکستان میں جس طرح خاک اور خون کا کھیل کھیلا جاتا رہا ہے اور جس طرح قتل و غارت عام ہے ہر دردِ دل رکھنے والا انسان اس پر غم زدہ اور دُکھی ہے، ہر محب وطن پاکستانی کی یہ دِلی تمنا ہے کہ جلد از جلد پیارا وطن امن کا گہوارہ بن جائے اور ہر طرف چین اور اطمینان کے نغمے گونجنے لگیں۔۔۔پشاور کی ’’کربلا‘‘ کے بعد، حکومت اور فوج نے جس طرح، جرأت آزما اقدامات کرنے کی ٹھانی وہ ہر ایک پاکستانی کے دِل کی آواز قرار پائی اور سارے پاکستانی، مختلف طبقات سے تعلق کے باوجود، حکومت اور پاک فوج کے ہم نوا اور ہم قدم دکھائی دینے لگے ہیں، ہر ایک دل کی گہرائیوں سے دُعا گو ہے کہ حکومتی اقدامات اور پاک فوج کی کارروائیاں ہر حال میں کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ جس تندہی سے پاک فوج سرگرم ہے اور دہشت گردوں کے خلاف تابڑ توڑ کارروائیاں کر رہی اور کامیابیاں سمیٹ رہی ہے، اس سے یقین ہونے لگا ہے کہ طویل عرصے سے طاری دہشت گردی و تخریب کی سیاہ رات ختم ہونے کو ہے اور بہت جلد امن کا سپیدۂ سحر طلوع ہونے کو ہے۔ پاک فوج کی سرگرمی و تندہی کے ساتھ ساتھ موجودہ حکمرانوں کے دہشت گردی کے خلاف (تمام تر دھمکیوں کے باوجود) استقلال کو بھی تحسین کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاک فوج اور حکومتی ایوانوں کی تمام تر سنجیدگی اور دہشت گردی کے خلاف بھرپور سرگرمی کے تناظر میں ضروری تھا کہ تمام حکومتی ادارے بھی سنجیدگی اور جاں فشانی سے (دہشت گردی اور تخریب کاری کے خاتمے کے لئے) متحرک ہو جاتے اور عوام کے تمام طبقات کے د ہشت گردوں کے خلاف اتفاق سے فائدہ اٹھاتے، مگر بعض اداروں نے روایتی تساہل و تجاہل ہی سے کام لینا جاری رکھا، بلکہ اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی بجائے، حکومتی احکامات کو اپنے لئے دردِ سر سمجھا اور خانہ پُری میں ہی لگے رہے اور ایسے کام شروع کئے کہ حکومت اور فوج کو عوامی طبقات کی حمایت میں کمی آنے لگی، بلکہ نفرت پیدا ہونے کے امکانات پیدا ہونے لگے ہیں۔ پولیس کا محکمہ عوام کی نچلی سطح اور گلی محلوں سے براہ راست تعلق رکھتا ہے،اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس طرح کے کردار کی توقع تھی وہ نہ صرف یہ کہ نظر نہیں آ رہا، بلکہ اس کے تساہل پسند اہلکاروں نے عوام کے سب سے موثر طبقے (علماء و خطباء) کو جس طرح ’’قابو‘‘ کرنے کی روش اختیار کی ہے اس سے حکومتی پارٹی اور حکومتی اداروں کو سخت ترین ناراضی اور تلخی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے تمام مذہبی و سیاسی طبقات یکجا اور یک زبان ہو گئے تھے، مگر اکیسویں ترمیم میں دہشت گردی کو جس طرح صرف مذہب کے ساتھ جوڑا گیا، اس سے دینی جماعتیں ’’برگشتہ‘‘ ہو گئیں اس پر مستزاد کہ ہر تھانے کی پولیس نے، تھانہ ہی میں بیٹھ کر، گلی محلوں کے مولویوں پر ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی کے نام پر مقدمات درج کر کے پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور پانچوں نمازوں کے وقت مسجد آنے و الے اماموں اور خطیبوں کے گھروں میں گھس گھس کر کھینچتے ہوئے حوالاتوں اور جیلوں میں اس طرح پھینکا کہ جیسے یہ لوگ ہی سب سے بڑے تخریب کار ہیں۔ لاؤڈ سپیکر کا ناروا استعمال کسی طور بھی پسندیدہ نہیں ہو سکتا (ہم اس پر بارہا انہی صفحات میں لکھ چکے اور آواز اٹھا چکے ہیں) مگر یہ کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے کہ تھانہ میں بیٹھ کر ہی کسی پر، بغیر سُنے، ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کر دیا جائے اور پھر امام مسجد کے گھر رات کے پچھلے پہر داخل ہو کر کھینچتے ہوئے لے جا کر حوالات میں پھینک دیا جائے، دہشت گردی کی دفعات لگا کر ضمانت تک نہ ہونے دی جائے۔۔۔۔ حکومتِ وقت اور ذمہ دار ادارے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلیں، خصوصاً معاشرے کے سب سے موثر طبقے (علماء کرام و خطباء عظام) کو صف اول میں کھڑا کریں۔ یہی طبقہ ہے جو حقیقتاً ذہن ساز ہوتا ہے، شکر کا مقام ہے کہ اس وقت علماء و خطاء کی اکثریت دہشت گردی کے خلاف، پاک فوج اور حکومت کی ہم نوا ہے۔۔۔ لیکن اگر ان کے خلاف جھوٹے مقدمات اور پولیس کے بعض غلط اہلکاروں کا رویہ،نارواہی رہا تو معاملہ الٹ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے سامنے علماء کرام اور خطباء عظام سے ناروا رویہ کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ٹھینگ موڑ کے ایک عالم دین جو ایک ٹی وی چینل پرریسرچ سکالر کے طور پر کام کرتے ہیں ان کے خلاف فرقہ ورانہ تقریر کا مقدمہ بنایا گیا، حالانکہ اس روز وہ اپنے کام پر لاہور میں موجود تھے، اس مقدمہ کا بہانہ بنا کر انہیں جمعرات کی رات گھر میں داخل ہو کر اٹھا لیا گیا اور ایک اور مقدمہ ’’خطبہ جمعہ‘‘ میں خطرناک تقریر کا بہانہ بنا کر دہشت گردی عدالت میں مقدمہ چلوا دیا گیا، وہاں پتہ چلا کہ جس جمعتہ المبارک کے خطبے کا مقدمہ ہے وہ اس سے پہلے ہی پولیس کی حوالات میں پہنچائے جا چکے ہیں۔ لاہور کے ایک مولوی صاحب کے پاس تھانہ سے ملازم گئے کہ ’’ آپ تھانہ آئیں اور ہارن بھی لے کر آئیں وہ وہاں گئے تو انہیں حوالات میں بند کر دیا گیا کہ آپ خطبہ میں لاؤڈ سپیکر چلا رہے تھے‘‘۔ مولوی صاحب نے کہا:’’مَیں خطبہ دیتا ہی نہیں اور پھر کل تو اتوار تھا‘‘۔ ڈی ایس پی کو پتہ چلا تو کہا ’’رات تھانہ میں رہو، صبح ضمانت کروا لینا‘‘۔۔۔۔ اس طرح ہمارے ایگزیکٹو ایڈیٹر بتا رہے تھے کہ اُن کے محلہ سے ایک مولوی صاحب کو پکڑ لیا گیا ،جو تھانہ میں ہلاکت خیز حالت میں جا پہنچے، اُن کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوئے گھر بھیج دیا گیا مگر وہ فوت ہو گئے۔ ہم حکومت اور پاک فوج کے ذ مہ داران کے نوٹس میں یہ بات لانا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ دیکھیں نیچے کے ادارے اور ملازمین،دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے نازک معاملے میں کس طرح کے تغافل اور تساہل سے کام لے رہے ہیں اور کس طرح اپنی خانہ پُری کی حرکات سے قوم کے موثر طبقات و شخصیات کو حکومت اور پاک فوج سے (بلکہ ایک اہم جنگ سے) الگ کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ذمہ داران ادارے (خصوصاً انٹیلی جنس ادارے) جو فہرستیں وصول کریں، ان کی بار بار پڑتال کروا لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی تھانہ کے، کسی اہلکار نے ذاتی مخالفت میں یا کسی دوسرے فقہی تعلق کی وجہ سے کسی کو محض ناپسندیدگی کی وجہ سے اس ناپسندیدہ فہرست میں ڈال دیا ہو اور کوئی بے گناہ، کسی کی ذاتی اَنا کے ہتھے چڑھ جائے۔ یاد رکھیں، کسی گنہگار کو سزا نہ دینا اتنا بڑا جرم نہیں جتنا بڑا جرم و گناہ کسی بے گناہ کو سزا دینا اور بے گناہی کے باوجود اسے اذیت پہنچانا ہے۔

مزید : کالم