دفنانے کی بجائے مرُدہ رشتہ داروں کودرخت بنا کرہمیشہ زندہ رکھیں،کمپنی نے ناقابل فہم سہولت متعارف کروا دی

دفنانے کی بجائے مرُدہ رشتہ داروں کودرخت بنا کرہمیشہ زندہ رکھیں،کمپنی نے ...
دفنانے کی بجائے مرُدہ رشتہ داروں کودرخت بنا کرہمیشہ زندہ رکھیں،کمپنی نے ناقابل فہم سہولت متعارف کروا دی

  

روم (نیوز ڈیسک) دنیا سے جانے والوں کو مختلف مذاہب اور کلچر سے تعلق رکھنے والے لوگ مختلف طریقوں سے رخصت کرتے ہیں۔ کوئی انہیں زمین میں دباتا ہے تو کوئی جلا کر راکھ ہوا میں اڑا دیتا ہے مگر اٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک آرٹسٹ جوڑے نے دنیا چھوڑنے والوں کو خیر باد کہنے کا ایک حیرت انگیز انداز متعارف کروادیا ہے۔

نرم دل خاتو ن نے 'آن لائن'محبت پر 14 کروڑ روپے لٹا دیے لیکن پھر۔۔۔

ڈیزائنر اینا سٹیلی اور راﺅل ٹریٹزیل نے جو انداز متعارف کروایا ہے اسے کیپسولا منڈی کا نام دیا گیا ہے جو کہ ایک بڑا سا نامیاتی کیپسول ہے جو قدرتی حیاتیاتی طریقے سے تحلیل ہوسکتا ہے۔ یہ کیپسول مردہ شخص کے جسم کو تحلیل کرکے ایک پودے کو خوراک فراہم کرے گا جو رفتہ رفتہ بڑھ کر ایک درخت کی صورت اختیار کرلے گا۔ ڈیزائنرز کا کہنا ہے کہ مرنے والے شخص کو مٹی کے ایک کروی گولے میں دبایا جائے گا اور پھر اس کے اوپر منتخب کردہ درخت کا بیج دبایا جائے گا۔ اس بیج سے اگنے والا ننھا پودا تحلیل ہوتی ہوئی لاش کے اجزاءسے اپنی خوراک لے گا اور وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جائے گا۔

 اس منفرد طریقے کو تخلیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کی سرکاری منظوری کے بعد ایسے پارک قائم کرنا چاہ رہے ہیں جہاں لوگ اپنے مردوں کو کیپسولا منڈی میں دبائیں گے اور ان کے اوپر درخت لگائیں گے اور یوں یہ ایک ایسا قبرستان ہوگا جس میں قبروں کی بجائے درختوں کی قطاریں نظر آئیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ اپنے عزیز کے جسم سے اُگے ہوئے درخت کی دیکھ بھال کرسکیں گے اور جب یہ بڑا ہوجائے گا تو اس کے سائے میں بیٹھ سکیں گے اور یوں انہیں احساس ہوگا کہ جانے والا ہمیشہ ان کے ساتھ ہی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس