چین کا وہ امیر ترین شہری جسے KFCنے نوکری دینے سے انکار کردیاتھا

چین کا وہ امیر ترین شہری جسے KFCنے نوکری دینے سے انکار کردیاتھا
 چین کا وہ امیر ترین شہری جسے KFCنے نوکری دینے سے انکار کردیاتھا

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) عزم و ہمت وہ قوت ہے جو بے سروسامان اور بے آسرا لوگوں کو بھی شہرت و دولت کی بلندیوں تک پہنچاسکتی ہے۔چین کے مشہور بزنس مین جیک ما کی زندگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے کبھی کے ایف سی ریسٹورنٹ نے ملازمت دینے سے انکار کردیا تھا لیکن آج وہ دنیا کا 70 واں امیر ترین شخص ہے۔

پچاس سالہ جیک کی انٹرنیٹ کمپنی ”علی بابا“ نے حال ہی میں نیویارک سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز کیا ہے اور ایک دن میں ہی اس کے شیئرز میں 38 فیصد کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ کمپنی 230 ارب ڈالر (تقریباً 230 کھرب روپے) کے اثاثوں کے ساتھ فیس بک سے بھی آگے نکل گئی ۔

دنیا کے بہترین' لڑاکوں' نے ہمیشہ جوان رہنے کے لیے بہترین نسخہ بتا دیا

جیک نے اپنی زندگی کے اتار چڑھاﺅ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ 15 سال پہلے وہ چین کے ایک سکول میں انگریزی کا استاد تھا اور تقریباً 2000 روپے ماہانہ کماتا تھا، جب اس نے بہتر ملازمت کی تلاش شروع کی تو ناکامی ہوئی اور یہاں تک کہ کے ایف سی کے ایک ریسٹورنٹ نے بھی اسے ملازمت دینے سے انکار کردیا۔ خوش قسمتی سے اسے بطور مترجم امریکہ جانے کا موقع ملا تو اس نے زندگی میں پہلی دفعہ کمپیوٹر کو انٹرنیٹ سے رابطے میں دیکھا اور اس کے ذہن میں اپنی کمپنی بنانے کا خیال آیا۔ ”علی بابا“ کمپنی آن لائن خرید و فروخت کرنے والوں کو خدمات فراہم کرتی ہے اور چین میں 80 فیصد آن لائن خرید و فروخت اس کے ذریعے ہوتی ہے۔

جیک نے بتایا کہ اس نے فلم ”فورسیٹ گمپ“ بار بار دیکھی ہے اور اس کا ہیرو گمپ اسے ہمت اور حوصلہ دیتا ہے۔ گمپ ایک کم فہم شخص ہے لیکن وہ کبھی حوصلہ نہیں ہارتا اور مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے، جیک نے اسی خوبی کو اپنی کامیابی کا راز بتایا۔یہ بھی یاد رہے کہ جیک وہی شخص ہے جو کالج میں داخلے کے امتحان میں دو بار فیل بھی ہوا تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس