چین میں نوجوانوں کی اکثریت نے انتہائی کم عمر میں ہی شادیاں کرنی شروع کردیں، اتنی جلدی کی اصل وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی ہنس پڑیں گے

چین میں نوجوانوں کی اکثریت نے انتہائی کم عمر میں ہی شادیاں کرنی شروع کردیں، ...
چین میں نوجوانوں کی اکثریت نے انتہائی کم عمر میں ہی شادیاں کرنی شروع کردیں، اتنی جلدی کی اصل وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی ہنس پڑیں گے

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) دہائیوں سے چینی حکومت کی شہریوں پر صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی پابندی اور لوگوں کی وہ ایک بیٹا پیدا کرنے کی خواہش کے باعث آج چین میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت اس قدر کم ہو چکی ہے کہ چینی مردوں کو شادی کے لیے خواتین دستیاب نہیں ہو رہیں۔ حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہو چکی ہے کہ نوجوان مرداپنی ہم عمر لڑکی نہ ملنے کے باعث بیواؤں اور طلاق یافتہ خواتین کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

نیوز ویب سائٹ کیو زیڈڈاٹ کام (qz.com) کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2020ء تک چین میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت 3کروڑ سے ساڑھے 3کروڑ تک کم ہو جائے گی۔ شہروں میں حالت اب بھی قدرے بہتر ہے لیکن چین کے دیہی علاقوں میں شادی کے قابل خواتین (جوان لڑکیوں) کا سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے۔ دیہی علاقوں کے مرد لڑکیوں کی کمی کے باعث اس خوف سے شادی کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی شادی کر رہے ہیں کہ کیا معلوم جوان ہو کر کوئی لڑکی ملے یا نہ ملے۔ دیہاتی چینیوں کی اکثریت طلاق یافتہ خواتین ہی سے شادیاں کر رہی ہے۔

مزید جانئے: کیا آپ کو معلوم ہے چین میں شادی کیلئے دولہا اور دلہن کی عمر کم از کم کتنے سال ہونا ضروری ہے؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

رپورٹ کے مطابق ایک چینی وکیل کا کہنا ہے کہ ’’کچھ غریب دیہاتی بیوی کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ وہ طلاق یافتہ تو کیا، ذہنی یا جسمانی معذوری کی شکار خواتین سے بھی شادیاں کر رہے ہیں اور انہی کو غنیمت جان رہے ہیں۔ دوسری طرف والدین اپنے بیٹوں کی کم عمری میں ہی شادیاں کروا رہے ہیں، کیونکہ ایک تو ان کا وہ ایک ہی بیٹا ہوتا ہے اور انہیں اپنی نسل میں اضافے کی جلدی ہوتی ہے اور دوسرے انہیں لڑکے کے جوان ہونے تک لڑکی نہ ملنے کا خوف بھی ہوتا ہے۔ تاہم اس طرح کی شادیاں اکثر ناکام ہو جاتی ہیں اور اس کے باعث چین میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘رپورٹ کے مطابق چین کے بڑے شہروں میں ایک تہائی سے زیادہ شادیوں کا انجام طلاق پر ہورہا ہے۔واضح رہے کہ چین میں طلاق ہونے کی صورت میں جائیداد مرد کو ملتی ہے اور اولاد خاتون کو۔ اس لیے اس خاتون سے دوبارہ کوئی بھی مرد شادی کرنے سے کتراتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -