ذرا سوچئے ، ہم کس طرف جا رہے ہیں ؟

ذرا سوچئے ، ہم کس طرف جا رہے ہیں ؟
 ذرا سوچئے ، ہم کس طرف جا رہے ہیں ؟

  

پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے جب سے فیصلہ محفوظ کیا ہے تب سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں پانامہ کا ہنگامہ کچھ کم ہوا ہے لیکن سوشل میڈیا پر ابھی بھی ایک طوفان بدتمیزی جاری ہے جس میں عدلیہ کو ابھی سے برا بھلا کہنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا حتیٰ کہ جج صاحبان کے کارٹون تک بنائے جا رہے ہیں جہاں تک نواز شریف اور ان کے خاندان اور حکمران پارٹی کے رہنماؤں کو گالیاں دینے کا معاملہ ہے تو سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ہر حد کو عبور کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے باقاعدہ قانون سازی بھی کی جا چکی ہے ، ایف آئی اے بھی اس حوالے سے اکا دکا کیس کے پیچھے پڑ کر خبریں لگوا کر آرام سے بیٹھ جاتی ہے لیکن قانون سوشل میڈیا پر جاری بیہودگی اور طوفان بدتمیزی کا مستقل حل نہیں نکالا جا سکا ہمارے ادارے ڈھنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کیس پر عدالتی سوموٹو ہوتا ہے یا حکومت کی دلچسپی ہوتی ہے تو اس میں ایف آئی اے اور دیگر محکموں کی آنیاں جانیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں ورنہ پھر خاموشی ہو جاتی ہے ، اس طرح کا ایک مضحکہ خیز کیس موجودہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کا بھی سامنے آچکا ہے جن کی جعلی تصویر سوشل میڈیا پر چلا دی گئی تھی ، سوشل میڈیا کی بدترین شکل اس وقت سامنے آتی ہے جب ملک میں کوئی سانحہ ہو جاتا ہے اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایسے ایسے فنکار اور کلا کار نمودار ہوتے ہیں جو چند لمحوں میں ہی پوری قوم کو پریشان کر کے رکھ دیتے ہیں، پوری قوم افواہوں ، جھوٹی خبروں کی زد میں آ جاتی ہے اس کی عبرتناک مثال لاہور ڈیفنس بم دھماکہ ہے جس کے چند منٹوں کے بعد والدین سکولوں سے اپنے بچوں کو لینے کیلئے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔ سکولوں کی انتظامیہ نے بچوں کے والدین کو خود بھی فون کر کے بلانا شروع کر دیا بلکہ بعض سکولوں کی انتظامیہ نے تو طلبا و طالبات کو ان کے کلاس روموں میں تالے لگا کر بند کر دیا پورے لاہور میں تمام سرکاری و غیر سرکاری دفاتر سمیت تمام چھوٹے بڑے پلازے اور بس سٹینڈز خالی ہو چکے تھے لاکھوں ہزاروں لوگ سڑکوں پر تھے یہ صورتحال کسی دشمن یا دہشت گرد نے نہیں یہ ہم نے خود پیدا کر رکھی تھی جو لوگ گھروں میں موجود تھے ان کو الیکٹرانک میڈیا ڈرا رہا تھا اور افواہوں کا بازار گرم تھا جعلی آڈیو ، ویڈیو جاری کی جا رہی تھی ، جعلی سکیورٹی تھریٹ تک بنا بنا کر ’ سوشل میڈیا ‘ پر چلائے جا رہے تھے یہ سب کون کر رہا تھا ان کو کون چیک کرے گا ؟ ماضی کے بم دھماکوں اور سانحات میں ایسا کرنے والوں کو کسی ادارے نے چیک کیا ہے ، بالکل نہیں ، کسی ادارے کے پاس اس کیلئے وقت ہی نہیں ، ایسی افواہیں اور منظم پروپیگنڈہ ایک تو دشمن کی طرف سے کیا جا رہا ہے اور پاکستان میں ہزاروں ویب سائٹ ایسی ہیں جو بھارت سے چلائی جا رہی ہیں اور اس کے لئے بھارتی ایجنسی ’را‘ نے اربوں روپے کا فنڈ مختص کر رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشتگرد تنظیمیں بھی ہمارے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں ہمیں اس کی سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ ہم اس طرح بے وقوفی اور جہالت میں فیصلے کر رہے ہیں جیسے دہشتگردی کیخلاف جنگ ابھی شروع ہونے والی ہے حالانکہ یہ جنگ گزشتہ 15 سال سے جاری ہے جس میں ہم نے 60 ہزار سے زائد افراد شہید کروائے ، کھربوں روپے کی معیشت تباہ کر لی ، اس جنگ نے ہماری ثقافت ، کلچر اور ٹور ازم پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں مگر ہم ہیں کہ ابھی تک ایک میکنزم نہیں بنا سکے کہ اگر کسی جگہ بم کی افواہ ہے تو اس پر ادارے کس طرح رسپانس کرینگے ، میڈیا اس پر کس طرح خبر چلائے گا اگر کسی جگہ بم دھماکہ ہوتا ہے یا دہشتگردی کا کوئی دوسرا واقع رونما ہوتا ہے تو اس صورت میں میڈیا کو کس جگہ سے انفارمیشن ملے گی کون سا ادارہ کون کون سے افراد اس سلسلہ میں میڈیا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے یہ سب کچھ طے ہو سکتا ہے مگر یہاں بد قسمتی کی انتہاء یہ ہے کہ جب حکومت اور اداروں کی جانب سے انفارمیشن میڈیا کو دینے کی بجائے روکی جاتی ہے تو پھر افواہیں جنم لتی ہیں ،پھر پورے ملک میں ایک غیر یقینی کی فضا پیدا ہو جاتی ہے آپ ایک لمحے کیلئے سوچئے یہاں ایک دھماکہ ہوتا ہے ریسکیو آپریشن شروع ہوتا ہے ادارے اپنا کام ابھی شروع نہیں کرتے کہ وہاں درجنوں کیمرے درمیان میں حائل ہو جاتے ہیں پھر ساتھ ہی ساتھ اہل صحافت کا مظاہرہ بھی شروع ہو جاتا ہے اب بم دھماکہ پر سب سے پہلے ریسکیو کرنے والے اہلکار پہنچتے ہیں وہ لاشیں بعد میں اٹھاتے ہیں کیمروں کے سامنے خطاب پہلے کرتے ہیں وہ بھی حسب استطاعت میڈیا سے خطاب فرماتے ہیں بعد میں ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سے لیکر متعلقہ ڈی سی اور ڈی پی او آ جاتے ہیں وہ بھی کچی پکی معلومات کے ذریعے بذریعہ میڈیا قوم کو کنفیوژ کرتے ہیں اس طرح اس کے بعد سی ٹی ڈی کے حضرات کی میڈیا ٹاک سامنے آتی ہے بعد میں سیاستدانوں اور وزرا کی باری آ جاتی ہے ان کی مذمتیں ، بھڑکیں اور میڈیا ٹاک میں طرح طرح کے بیانات ، شہید اور زخمی ہونے والوں کے گھروں اور ہسپتالوں میں پروٹوکول کے ساتھ دورے، عوام کے بچے کچھے مورال کا مزید ستیاناس کر دیتے ہیں ہفتے دو ہفتے کے بعد وزیر داخلہ چودھری نثار میڈیا پر رونما ہوتے ہیں اور وہ پچھلے تمام بیانات اور اب تک کے تمام فلسفے کی نفی فرما دیتے ہیں اداروں کی آپس میں کوئی کوآرڈینیشن نظر نہیں آتی ہر ادارہ اپنی اپنی کہانی سناتا نظر آتا ہے پاکستانی اداروں کو کم از کم دہشتگرد تنظیموں کے نظم و نسق سے ہی سبق سیکھ لینا چاہئے وہ جہاں بھی دھماکہ کرتے ہیں اس پر ان کے صرف ایک ترجمان کا ایک لکھا ہوا بیان جاری ہوتا ہے اور بس اس کے بعد خاموشی ہو جاتی ہے۔ خدارا ہم کو یہ جنگ لڑتے ہوئے 15 سال ہو گئے ہیں میڈیا ہیڈنگ کا ایک میکنزم بنائیں سوشل میڈیا کو نظم و ضبط میں لائیں، میڈیا ، عدلیہ اور دیگر اداروں کے ذمہ داران کے ساتھ بیٹھ کر ایک مربوط نظام وضع کریں ورنہ ہمارا میڈیا اور دیگر ادارے انجانے میں دہشتگردوں کا ایجنڈا پورا کرتے رہیں گے آج ہم سب کے سوچنے کی بات ہے کہ دہشتگرد کا مطلب ہوتا ہے دہشت پھیلانے والا اگر اس کی پھلائی گئی دہشت کو ہم ایک علاقے سے اٹھا کر ملٹی پلائی کر کے پوری دنیا میں پھیلا دیں گے تو ہم نے کس کا مقصد کس کا ایجنڈا پورا کیا۔ سوال تو یہ بھی ہے ان تمام اداروں کو کون ایک ٹیبل پر بیٹھا کر ایک مربوط نظام تشکیل دے گا اس پر جب قوم کے بڑے کنفیوژ ہونگے تو پھر قوم کے اندر کنفیوزن پھیلنا فطری عمل ہے اور سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ پوری قوم اور ریاست پاکستان کو میڈیا کی بریکنگ نیوز ، ٹکرز اور سوشل میڈیا چلا رہے ہیں آج چلنے والے ٹیکرز اگلے 36 گھنٹوں کیلئے فیصلہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں کاروبار حکومت کیسے چلے گا حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست میڈیا سمیت تمام اداروں کو لیڈ کرے۔

مزید :

کالم -