ماں بولی کا عالمی دن اور پلاک کے ایوارڈز

28 فروری 2017

ناصربشیر

چند روز قبل کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل سید صادق علی(ہلال امتیاز) سے ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے نہایت پتے کی بات کہی۔کہنے لگے:’’ ہم آرمی والے دہشت گردوں کو مارتے ہیں،دہشت گردی کو آپ مار سکتے ہیں،کیونکہ دہشت گرد ایک جسم کانام ہے اور دہشت گردی ایک ذہنی رجحان ہے‘‘۔۔۔کور کمانڈر سید صادق علی جا نتے تھے کہ وہ اس وقت لکھنے پڑھنے اور سوچنے سمجھنے والے لوگوں سے ہم کلام ہیں۔ ’’ضرب عضب‘‘کے بعد آپریشن ’’رَدالفساد‘‘شروع ہوچکا ہے۔ہماری سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مار رہی ہیں،لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا دہشت گردوں کو مار دینے سے دہشت گردی ختم ہوجائے گی؟ نہیں ہر گز نہیں! سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے اور غور و فکر کرنے والے تمام طبقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کی سوچ کو پنپنے سے روکیں۔شاعر دہشت گردی کے خلاف نظمیں لکھیں، امن کی بات کریں۔گانے والے اس شاعری کا انتخاب کریں جو امن کا پیغام ہو۔غرض یہ کہ فنونِ لطیفہ سے وابستہ تمام افراد اپنے اپنے انداز میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنا کردارادا کرسکتے ہیں۔

ہمارے کچھ لوگ جہاں انفرادی طور پر دہشت گردی کے خلاف کام کررہے ہیں، وہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض سویلین ادبی ادارے جو زبان وادب اور ثقا فت کی ترویج و ترقی کے لئے قائم کئے گئے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر محسوس طریقے سے بھرپور کردار اد ا کررہے ہیں،لیکن حکومتی ایوانوں اور شخصیات کی جانب سے ان اداروں کی اتنی پذیرائی نہیں ہو رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔ان اداروں میں سرفہرست پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر ہے جو پنجاب کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کا ذیلی ادارہ ہے۔اس کی سربراہ ڈاکٹر صغرا صدف ہیں۔ڈاکٹر صغرا صدف کا سارا ادبی سفر ہمارے سامنے ہے۔ وہ ایک نیک نیت، ایمان داراور پُر خلوص شخصیت کی مالک ہیں۔وہ ہر وقت دوسروں کے مسائل حل کرنے میں مصروف نظر آتی ہیں۔اُنہوں نے اپنی کاوشوں اور کوششوں سے ثابت کیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا درست انتخاب ہیں۔ وہ ایک ہی وقت میں سارے پنجاب کو ساتھ لے کر چل رہی ہیں۔پنجاب میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے ادیبوں شاعروں کو وہ جانتی اور پہچانتی ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔چاہے نئے لکھنے والے ہوں ،نئے گانے والے ہوں، وہ سب کے لئے یکساں مواقع فراہم کرتی ہیں۔اُن کا ادارہ پلاک شاید الحمرا سے بھی آگے نکل گیا ہے۔آپ کسی بھی وقت پلاک چلے جائیں، وہاں کو ئی نہ کوئی ادبی تقریب منعقد ہورہی ہوگی۔پلاک کا خوب صورت آڈیٹوریم ہر وقت آباد رہتا ہے۔ ایف ایم 95کی نشریات 24گھنٹے جاری رہتی ہیں۔اُنھوں نے بہت سے لکھنے والوں کو ایف ایم 95کے ذریعے ماں بولی کی محبت میں مبتلا کرد یا ہے۔ادیبوں شاعروں کے لئے نہایت شاندار کیفے ٹیریا بناڈالا ہے۔لائبریری قائم کردی ہے۔ نیا کام انہوں نے یہ کیا ہے کہ 21فروری کو ’’عالمی ماں بولی دیہاڑ‘‘ کے موقع پر انہوں نے بہت سے ایوارڈز کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایوارڈ بھاری مالیت کے ہیں۔ پنجاب کی تاریخ میں شاید پہلی بار اتنی بھاری مالیت کے ایوارڈ دیئے جارہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے اداروں کے ادبی ایوارڈ بھی اس کے سامنے ہیچ نظر آنے لگے ہیں۔ مَیں خود سوچ رہا ہوں کہ پنجابی شاعری شروع کردوں تاکہ مالی آسودگی کا خواب شرمند ۂ تعبیر ہوسکے۔ ممکن ہے کہ میری طرح کئی دیگر ادیب بھی یہی سوچ رہے ہوں کہ ہم نے بھی پنجابی زبان میں ادب تخلیق کیا ہوتا تو شاید ان میں سے کوئی ایوارڈ ہمیں بھی مل جاتا۔۔۔ ان ایوارڈز کی تفصیل آپ کے لئے درج کئے دیتا ہوں:

پنجابی زبان و ادب میں سید افضل حیدر اور فخر زمان کو تحقیق اور نثری ادب پر تین لاکھ روپے مالیت کا پرائیڈ آف پنجاب ایوارڈ دیا جائے گا۔ تنظیموں میں سے پنجابی ادبی بورڈ کو اتنی ہی مالیت کا ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مصوری میں اسلم کمال، فلم میں مصطفی قریشی، ڈرامے میں منو بھائی اور موسیقی میں عارف لوہار کو تین تین لاکھ روپے مالیت کا پرائیڈ آف پنجاب ایوارڈ دیا جارہا ہے۔ گویا 24لاکھ روپے اہل افراد میں تقسیم کئے جائیں گے۔ اسی طرح شفقت تنویر مرزا ایوارڈ ہے،یہ دس لاکھ اسی ہزار روپے کے اعزازات ہیں۔ نثر، شاعری، بچوں کے ادب، مذہبی ادب اور فن و ثقافت پر مختلف شخصیات کو اول، دوم اور سوم انعامات بالترتیب ایک لاکھ روپے، پچاس ہزار روپے اور تیس ہزار روپے مالیت کے دیئے جائیں گے۔ پنجاب کی مختلف سرکاری یونیورسٹیوں سے ایم اے پنجابی اور سرائیگی کرنے والے اہل طلبہ و طالبات کو اول، دوم اور سوم انعامات بالترتیب دو لاکھ روپے، ایک لاکھ روپے اور پچاس ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ انہی یونیورسٹیوں سے بی اے میں پنجابی اور سرائیکی میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو اول، دوم اور سوم انعامات بالترتیب ایک لاکھ روپے، پچاس ہزارروپے اور تیس ہزار روپے مالیت کے دیئے جائیں گے۔ مجموعی طور پر یہ سارے انعامات 56لاکھ روپے مالیت کے ہیں۔

مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ انعامات زبان و ادب کے فروغ کی کوشش تو ہیں ہی، اس کے ساتھ ساتھ یہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کی گئی ایک عملی کاوش بھی ہیں۔ اسے آپ آپریشن ’’رَدالفساد‘‘ کا حصہ بھی بناسکتے ہیں۔ شنید ہے کہ یہ اعزازات جلد لاہور میں منعقد ہونے والی ایک بڑی تقریب میں دیئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اگر پلاک کی اس کاوش اور کوشش کی روح کو جان پائیں تو میرا خیال ہے کہ یہ اعزازات وہ اپنے ہاتھ سے تقسیم کریں گے۔

ناصر بشیر

مزیدخبریں