طلباء محاذ کا ہراسمنٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انکوائری کا مطالبہ

طلباء محاذ کا ہراسمنٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انکوائری کا مطالبہ

  



پشاور(سٹی رپورٹر)متحدہ طلبہ محاذ گومل یونیورسٹی ڈیر اسماعیل خان نے طالبات کے جنسی ہراسمنٹ کے بڑھتے واقعات، فیسوں میں بے تحاشہ اضافے اور جامعہ میں مبینہ بدعنوانی کیخلاف گورنر خیبر پختونخوا اور دیگر متعلقہ حکام سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اپنے مطالبات کیلئے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ طلبہ محاذ گومل یونیورسٹی کے صدر خالد خان وزیر، ذیشان بیٹنی، ثناء اللہ مروت، رضاء اللہ وزیر اور فواد خٹک سمیت دیگر نے کہاکہ مذکورہ یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنسی ہراساں ہونے واقعات سمیت جامعہ میں دیگر مبینہ بد عنوانیوں کیخلاف گورنر خیبر پختونخوا کی انکوائری رپورٹ پر بحثیت چانسلر گورنر شاہ فرمان مکمل عملدرآمد کرے، وائس چانسلر کی ملازمت کی غیر قانونی توسیع کو فوری طور پر ختم کیا جائے، ریگولر فیکلٹی ڈینز، رجسٹرار، کنٹرولر، ڈائریکٹر فنانس اور دیگر انتظامی عہدوں پر ریگولر افسران کی سلیکشن کرائی جائے، تمام ٹیچرز کو انتظامی عہدوں سے واپس بلا کر اپنے شعبہ جات میں پڑھانے پر مامور کئے جائیں، ہر قسم کی کرپشن اور اخلاقی بدعنوانیوں کی سفات تحقیقات کی جائے، ٹانک کیمپس، ایفلیشن سیل، ڈیسٹنس ایجوکیشن شعبہ امتحانات، ورکس ڈیپارٹمنٹ، ٹرانسپورٹ سیکشن، لیگل سیل، بیوٹیفیکیشن اور سونامی ٹری پراجیکٹ کی مکمل اور شفاف آڈٹ کرایا جائے، انہوں نے کہاکہ جنسی ہراساں کرنے میں ملوث اہلکاروں کو ملازمتوں سے فارغ کرکے فیسوں میں کمی لائے جائے، حق مانگنے والے طلباء پر درج مقدمات کا خاتمہ کیا جائے، یونیورسٹی میں ڈسپنسری بحال کی جائے، 2009 ء سے 2019 تک میگزین فنڈ، ڈیپارٹمنٹ ڈویلپمنٹ فنڈ، سپورٹس فنڈ، ہاسٹل ڈویلپمنٹ فنڈ کی آڈٹ کرایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ گورنر خیبر پختونخوا اور وی سی گومل یونیورسٹی ان کے مطالبات پر عملدرآمد کرے ورنہ دو دن بعد پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ سے احتجاجی تحریک کا آغاز کرینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر