کرونا وائرس،عمرہ پر پابندی، خود مختار کشمیرکا شوشہ؟

کرونا وائرس،عمرہ پر پابندی، خود مختار کشمیرکا شوشہ؟
کرونا وائرس،عمرہ پر پابندی، خود مختار کشمیرکا شوشہ؟

  



کرونا وائرس کی شکل میں وبائی مرض نے دُنیا بھر کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے، چائنہ سے شروع ہونے والا وائرس یورپ سمیت امریکی ریاستوں میں پھیل چکا ہے،ایران کے بعد بلوچستان اور اب ایران سے زائرین کی آمد کے ساتھ کراچی میں کرونا وائرس کی تصدیق نے پوری دُنیا کو آزمائش میں ڈال دیا ہے یقینا بحیثیت مسلمان ان حالات میں قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اس وبائی مرض کا علاج توبہ استغفار ہی میں ہے، ہمارے گناہوں کی سزا حرام کو مزے لے لے کر کھانے کا نتیجہ ہے۔ شام، ایران کی طرف سے زائرین کی آمد پر پابندی کے بعد سعودی عرب کی طرف سے فوری طور پر عمرہ زائرین کی آمد پر پابندی نے مسئلہ اور سنجیدہ بنا دیا ہے، بڑھتے ہوئے وبائی وائرس کے علاج اور تدارک کے لئے عالمی ایمرجنسی کسی وقت بھی لگ سکتی ہے۔کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی منڈی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے،ہر طرف مندے کا راج ہے، پٹرول مصنوعات کی قیمتیں گر رہی ہیں، زائرین کی شام، عراق، ایران جانے کی پابندی اور عمرہ زائرین کی سعودی عرب پابندی سے عالمی سطح پر بڑا بحران دستک دے رہا ہے۔

سعودی عرب کو تو جو نقصان ہونا ہے وہ یقینا ہو گا اس کے ساتھ دُنیا بھر سے آنے والی ایئر لائنز بڑے بحران کی جانب جا رہی ہیں ان کا بنیادی بزنس عمرہ سے وابستہ ہے۔ اہل ِپاکستان کا حرمین شریفین میں اربوں روپے کا کاروبار ہے، 16 لاکھ گزشتہ سال عمرہ ہوا تھا۔ کرونا وائرس جس تیزی سے دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ عمرہ پر پابندی لگنے کے بعد حج کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے ان حالات میں جب عام آدمی کی قوت مزید جواب دے رہی ہے، روزانہ کی بنیاد پر بچوں کا پیٹ پالنا مسئلہ بنتا جا رہا ہے،کرونا وائرس یقینا بڑا خطرہ ہے اس کا تدارک ہونا چاہئے،حکومت کو ذمہ داری ادا کرنا چاہئے،مگر سب سے زیادہ خوف ہراس جو سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پھیلا رہا ہے، عام آدمی بھی سہم گیا ہے۔ کراچی اور کوئٹہ کے تعلیمی ادارے بند کئے جانے کو اس انداز میں پیش کیا جانا،یہ کہنا بس اب کچھ نہیں بچے گا، حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ یہ بغاوت سے بھی بڑا جرم ہے،عام مرد و خواتین اور بچوں کو ذہنی مریض بنانے کی سازش ہے۔کرونا وائرس کے مزید کیس سامنے آئیں گے اس کی وجہ ایران اور دیگر ممالک سے زائرین کی ہزاروں کی تعداد میں واپسی کے ساتھ ساتھ چائنہ کے ساتھ ہمارے ملکی تاجروں کے بڑے پیمانے پر کاروباری تعلق ہیں ہماری مارکیٹوں میں ہر چیز چائنہ کی ہے، روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں اشیاء آ رہی ہیں یقینا افراد لا رہے ہیں۔

اب تک تمام افراد سکریننگ کے بغیر داخل ہوئے ہیں۔ میڈیا وہ سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا، ہر ایک کو مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ ایس او پی خود ہی طے کرنا ہوں گے، حب الوطنی کا ثبوت دینا ہو گا، میڈیا کی جو روش جاری رہی تو آئندہ چند دِنوں میں بڑا نقصان ہو سکتا ہے،کالم ایک ہے اور موضوعات زیادہ اس لئے اللہ سے معافی مانگتے ہوئے اس وبائی مرض سے چھٹکارہ کے لئے قوم کو سچے دِل سے سربسجود ہونا ہو گا، بدھ کا روز ہماری پاکستانی قوم کے لئے بالعموم اور اہل ِ کراچی کے لئے بالخصوص غم کے پہاڑ توڑ گیا۔ معمار کراچی، شان کراچی نعمت اللہ خان ہمیشہ کے لئے ہمارا ساتھ چھوڑ گئے، موت برحق ہے ہر ذی روح جو دُنیا میں آئی ہے اُس نے جانا ہے۔نعمت اللہ خان کی صورت میں اہلِ کراچی کو ملنے وای نعمت ان کی ایثار و قربانی اور خدمات سے بھرپور تاریخ قابل ِ فخر ہے،ان کی سادگی، اخلاص اور کراچی سے محبت کا اندازہ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت سے ہوا،جہاں لاکھوں افراد پارٹی سیاست سے مبرا ہو کر شریک ہوئے۔ نمازِ جنازہ میں جماعت اسلامی، پی پی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی کی قیادت کے علاوہ عام افراد کی بھرپور شرکت نے ان کی آخری منزل کو آسان کر دیا ہے۔

جماعت اسلامی اس عظیم رہنما سے سبق سیکھے اور عوام میں آ جائے، مروت کی سیاست سے توبہ کرے،آخری خبر جس کا مجھے کرونا وائرس سے بھی بڑا جھٹکا لگا ہے وہ ہے کشمیر کو خود مختار بنانے کی خبر، ایسے حالات میں پاکستان کے بڑے مدبر اور مفید سیاست دان کے ذریعے منظر عام پر آئی ہے جسے گزشتہ صبح 8بجے مَیں نے بار بار پڑھا، اس کے باوجود یقین نہیں آیا کہ یہ بیان مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین دے سکتے ہیں؟

خود مختار کشمیر کا شوشہ بھی اس وقت چھوڑا گیا ہے، جب80لاکھ کشمیریوں کی آزمائش کو چار ماہ سے زائد عرصہ ہو چلا ہے،ان پر ظلم و ستم کے ٹوٹنے والے پہاڑ ہیں جو ہر آنے والے دن میں کم ہونے کی بجائے مزید پُرتشدد ہو رہے ہیں،تعلیمی ادارے بند ہیں، مارکیٹیں بند ہیں،کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں قید مرد و خواتین اور بچے بھوک اور افلاس سے دم توڑ رہے ہیں، ان حالات میں انہیں حوصلہ دینے کی بجائے امریکن ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی بات سمجھ سے باہر ہے۔قائداعظمؒ کا فرمان کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کے بغیر پاکستان کا نقشہ مکمل نہیں ہوتا، کشمیر پاکستان کی زنجیر، اہل ِ کشمیر کی پاکستان کا حصہ بننے کے لئے دی گئی قربانیوں کو کیا رنگ دیا جائے۔

بھارت جو جنونی ہندوؤں کے نرغے میں ہے کشمیریوں کے بعد بھارت میں بسنے والے مسلمانوں پر بھی زندگی اجیرن تنگ کر دے گئی ہے۔ انڈین فوج ہر روز پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کر رہی ہے، شہری اور دیہاتی آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے، پوری قوم پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہے، ان حالات میں کشمیر بنے کا پاکستان کا نعرہ کی بجائے کشمیر کو خود مختار بنانے کی تجویز پاکستان کے ساتھ ہی نہیں، کشمیریوں کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے اور کشمیر کی آزادی پر قربان ہونے والے ہزاروں نوجوانوں کے خون سے بھی غداری ہے۔ خود مختار کشمیر کی سوچ کہاں سے آئی، کیوں آئی، فوری طور پر تحقیقات کروانے کی ضرورت!

مزید : رائے /کالم