محبت ِ رسولؐ اور اس کے تقاضے

محبت ِ رسولؐ اور اس کے تقاضے

  



(……احادیث کی روشنی میں ……)

پسروری

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت عین ایمان ہے،جس کے پاس محبت ِ رسول ؐ کا سہارا نہیں اس کے لئے کوئی کنارا نہیں، وہ ہر حال میں ناکام و نامراد ہے۔یہ عقیدہ و ایمان کا معاملہ ہے، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ محبت ِ رسولؐ کی سچائی اور پاکیزگی کیا ہے؟ ضروری ہے کہ محبت کے تقاضے پورے کئے جائیں اور وہ درج ذیل ہیں۔

رسولؐ اللہ جس بات کا حکم دیں اس پر عمل کیا جائے اور جس چیز سے منع فرمائیں اس سے رکا جائے۔

ترجمہ: اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقینااللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے۔

(سورۃالحجرات، آیت 7)

جو کام رسول اکرمﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں نہیں کیا وہ کام اپنی مرضی سے کرکے اللہ کے رسولﷺ سے آگے نہ بڑھا جائے۔

ترجمہ: اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسولؐ کے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقینا اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے،

(سورۃ الحجرات، آیت1)

رسول اکرمﷺ کی متروک سنتوں کو زندہ کرنے کی جدو جہد کی جائے۔

ترجمہ: حضرت کثیرؓ بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی فرماتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے میرے دادا سے روایت بیان کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: جس نے میری سنتوں میں سے کوئی ایک سنت زندہ کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو سنت زندہ کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس سنت پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کو ملے گا، جبکہ لوگوں کے اپنے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔(ابن ماجہ)

جس بات سے نبی اکرمﷺ اظہار بیزاری فرمائیں اس سے اظہار بیزاری کی جائے۔

ترجمہ: حضرت ابو بردہؓ بن ابو موسی اشعریؓ کہتے ہیں کہ ابو موسی رضی اللہ کو شدید درد ہوا جس سے وہ بے ہوش ہوگئے ان کا سر ان کے گھر والوں میں سے ایک خاتون کی گود میں تھا ایک خاتون نے چلانا شروع کردیا۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ(غشی کی وجہ سے) اسے روک نہ سکے۔ جب ہوش آیا تو فرمانے لگے، ”جس بات سے اللہ کے رسولﷺ بیزار ہوں میں بھی اس سے بیزار ہوں۔ رسول اللہؐ نے چلانے والی، بال نوچنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی (عورت سے) اظہار بیزاری فرمایا ہے۔“

(صحیح مسلم)

آپؐ کی نصرت کی جائے۔

ترجمہ:(فی کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلب گار ہیں اوراللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسولؐ کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں

(سورۃ الحشر، آیت 8)

وضاحت: رسول اکرمﷺ کی نصرت سے مراد آپؐ کی لائی ہوئی شریعت کا علم حاصل کرنا، اس پر عمل کرنا، اس کو پھیلانا اور اسے غالب کرنے کی جدو جہد کرنا۔

دِل و جان سے آپؐ کی عزت اور احترام کیا جائے۔

ترجمہ:حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبی (ﷺ) کی آواز سے اونچی نہ کرو۔“ تو حضرت ثابت بن قیس ؓ اپنے گھر بیٹھ گئے، (حضرت ثابت ؓ کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی) اور کہنے لگے“ میں تو آگ والوں میں سے ہوں۔‘ اور نبی اکرمﷺ سے ملنا جلنا ترک کردیا۔ آپ ؐ نے حضرت سعد بن معاذ ؓ سے دریافت فرمایا:”اے ابو عمرو! (حضرت سعد ؓ کی کنیت) ثابت کہاں ہے، کیا بیمار ہے؟ ”حضرت سعد ؓ نے عرض کیا“ وہ میرا ہمسایہ ہے اور میرے علم کی حد تک تو بیمار نہیں۔“ چنانچہ حضرت سعد ؓ حضرت ثابت ؓ کے گھر آئے تو رسولؐ اللہ کی گفتگو کا تذکرہ کیا۔ حضرت ثابت ؓ کہنے لگے ”فلاں آیت نازل ہوئی اور تم جانتے ہو کہ رسولؐ اللہ کے مقابلے میں میری آواز تم سب لوگوں سے زیادہ اونچی ہے تو میں جہنمی ہوگیا۔ حضرت سعد ؓ نے (واپس آکر) رسولؐ اللہ سے اس کا ذکر کیا تو رسولؐ اللہ نے فرمایا ”نہیں وہ تو جنتی ہے“۔ (صحیح مسلم)

رسول اکرمﷺ کی سیرت اور فضائل بیان کئے جائیں، نعت کہی جائے اور آپؐ کے خلاف ہر قسم کے گمراہ کن پروپیگنڈہ کا جواب دیا جائے۔

ترجمہ:

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں مَیں نے رسولؐ اللہ کو حسان بن ثابت ؓ سے فرماتے ہوئے سنا کہ جب تک تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے (کافروں کو) جواب دیتا رہے گا اللہ تعالی روح القدس یعنی جبرائیل امین علیہ السلام کے ذریعے تیری مدد فرماتے رہیں گے۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں، مَیں نے رسولؐ اللہ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ حسان نے کفار کی ہجو کی اہل ایمان کے دلوں کو سکون پہنچایا اور کافروں کی عزتوں کو برباد کیا۔ حضرت حسان ؓ کے چند شعر درج ذیل ہیں:

کافروں نے حضرت محمد(ﷺ) کی ہجو کی تو میں نے اس کا جواب دیا اور اس کا بدلہ اللہ کے پاس ہے۔ کافروں نے نیک اور متقی حضرت محمد (ﷺ) کی برائی کی جو اللہ کے رسول ہیں، وفاداری ان کی فطرت ہے، میرے ماں باپ اور میری عزت و آبرو سب کچھ حضرت محمد(ﷺ) کی عزت اورآبرو کو بچانے کے لئے ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مَیں نے ایک بندہ بھیجا ہے جو سچ کہتا ہے اور اس کی بات میں کوئی شک نہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں مَیں نے ایک لشکر تیار کیا ہے، انصار کا لشکر، جن کا کام کفار سے مقابلہ کرنا ہے۔ ہمارے درمیان اللہ کے رسولﷺ اور جبرائیل ہیں اور جبرائیل کا تو کوئی مد مقابل ہی نہیں۔(صحیح مسلم)

رسول اکرمﷺ کی عزت اور ناموس کا تحفظ کیا جائے۔

ترجمہ: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی کی لونڈی تھی جو نبی اکرمﷺکو گالیاں بکتی اور آپؐ کی ہجو کرتی۔ صحابی اسے منع کرتا لیکن وہ باز نہ آتی، صحابی اسے ڈانٹتا لیکن وہ پھر بھی نہ رکتی۔ ایک رات لونڈی نے آپؐ کی ہجو کی اور گالیاں بکنے لگی تو صحابی نے چھرا اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور زور سے دبایا جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔ جب صبح ہوئی تو نبی اکرمﷺ کے سامنے اس واقعہ کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا ”جس شخص نے یہ کام کیا ہے مَیں اسے اللہ کی قسم دے کر اوراپنے اس حق کے حوالے سے جو میرا اس پر ہے، کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہوجائے۔ چنانچہ وہ نابینا صحابی کھڑا ہوگیا اور لوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھا اور نبی اکرمﷺ کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ وہ آدمی کانپ رہا تھا، عرض کرنے لگا ”یارسولؐ اللہ! مَیں ہوں اس کا قاتل، وہ آپ ؐ کو گالیاں بکتی تھی اور آپؐ کی ہجو کرتی تھی، مَیں اسے منع کرتا، لیکن وہ باز نہ آتی میں اسے ڈانٹتا لیکن پھر بھی وہ منع نہ ہوتی حالانکہ اس سے میرے موتیوں جیسے (خوبصورت) دو بیٹے بھی ہیں وہ میری (اچھی) رفیقہ تھی، لیکن کل رات جب وہ آپؐ کو گالیاں بکنے لگی اورآپؐ کی ہجو کرنے لگی تو میں نے چھرا پکڑا اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور زور سے دبایا، حتی ٰ کہ مَیں نے اسے قتل کردیا“۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لوگو سنو! گواہ رہنا اس لونڈی کا خون رائیگاں ہے“۔(یعنی اس کا قصاص نہیں لیا جائے گا) (ابوداؤد)

رسولؐ اللہ کی زیارت کی شدید تمنا رکھی جائے۔

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: میرے بعد میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو مجھ سے اس قدر شدید محبت کرتے ہوں گے کہ ان میں سے کوئی یہ خواہش رکھے گا کہ اپنا اہل و عیال اور مال و منال سب کچھ صدقہ کرکے میری زیارت کرے۔

(صحیح مسلم)

آپ ؐ کا اسم مبارک سن کر آپؐ پر درود بھیجا جائے۔

ترجمہ: حضرت علیؓ کہتے ہیں رسولؐ اللہ نے فرمایا: جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ میرے اوپر درود نہ بھیجے، وہ بخیل ہے۔(ترمذی)

ایک اور روایت میں ہے کہ وہ خاک آلود ہے، یعنی ہلاک ہونے والا اور یہ بھی فرمایا کہ جو مجھ پر درود بھیجے اللہ اُس پر دس رحمتیں کرتا ہے۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1