مسجد نبوی میں نماز اور موذنِ مسجد سے ملاقات!

مسجد نبوی میں نماز اور موذنِ مسجد سے ملاقات!

  



مدینہ شریف میں ظہر کی اذان کا وقت بارہ بج کر بیس منٹ ہے۔ مؤذن مسجد نبوی شریف ڈاکٹر ایاد احمد شکری صاحب نے مجھے بتا دیا تھا کہ پیر کے روز ظہر کی اذان میں نے ہی دینی ہے۔ مؤذنین اور ائمہ مسجد نبوی شریف کے حجرے مسجد الرسول ﷺکے جنوب میں واقع ہیں۔ محراب کے بغل میں خصوصی طور پر ایک دروازہ کھولا گیا ہے جہاں سے مسجد نبوی شریف میں ائمہ اور مؤذنین داخل اور خارج ہوتے ہیں۔ اگر آپ محراب کے سامنے کھڑے ہوں تو جنوب کی طرف ائمہ مسجد نبوی اور مؤذنین کے لیے کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی خاصا بڑا صالہ (صحن) ہے جہاں پر جنازے رکھے جاتے ہیں۔ مسجد کے جنوب مشرق میں بقیع الغرقد کا قبرستان ہے۔ مسجد نبوی کا تقدس، اس کی اہمیت سے ہر مسلمان خوب واقف ہے۔ اگر ہم آج سے 1441سال پہلے اس مقام کو دیکھیں تو اس جگہ بنو نجار کا محلہ تھا۔ مسجد نبوی کی جگہ دو یتیم بھائیوں کی ملکیت تھی۔ یہاں کھجوریں خشک کی جاتی تھیں۔ اللہ کے رسولﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ کی اونٹنی اسی جگہ بیٹھی تھی جہاں آج مسجد نبوی ہے۔ آج جس جگہ کھلا میدان ہے وہاں کبھی سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر تھا۔

میں جیسے ہی دروازے کے قریب پہنچا تو وہاں شیخ ڈاکٹر ایاد شکری نظر آئے۔ میں آگے بڑھا تو انھوں نے لپک کر گلے لگا لیا۔ اذان میں کم و بیش بیس منٹ باقی تھے۔ وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے کمرے میں لے آئے۔

اس ملاقات میں ہماری گفتگو علم اور کتابوں سے شروع ہوئی۔ اذان میں وقت تھوڑا ہی رہ گیا تھا۔ انھوں نے مجھے اشارہ کیا کہ اٹھو چلیں۔ شیخ نے ریاض الجنہ میں اگلی صف میں میرے لیے جگہ بنوائی۔ مجھے فرمانے لگے: اس جگہ نوافل ادا کریں، یہ زیادہ مناسب ہے۔ میں نے پورے اطمینان سے اذان سے پہلے تحیۃ المسجد کے نوافل ادا کیے۔

شیخ ایاد شکری اذان کہنے کے مقام کی طرف بڑھ گئے۔ ترکوں نے مؤذن کے لیے اونچی جگہ بنائی ہے، وہاں مؤذن اذان دیتا ہے۔ میری زندگی میں پہلا موقع تھا کہ میں عین اذان کہنے کی جگہ سے متصل بیٹھا ہوا تھا۔ شیخ ایاد شکری اذان دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں ان کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے اذان کو اپنے موبائل کی آنکھ میں محفوظ کیا۔ میں ریاض الجنہ میں بیٹھا ہوا تھا جسے اللہ کے رسولﷺ نے جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری قرار دیا ہے۔ یہاں کتنے ہی ستون ہیں، ہر ستون کی ایک کہانی ہے۔ میرے سامنے منبر تھا، محراب بھی بالکل قریب تھا۔ میں منبر کے بارے میں سوچنے لگ گیا۔ اللہ کے رسولﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو آپ کھجور کے ایک تنے کا سہارا لے کر اس پر اپنا مبارک ہاتھ رکھ کر لوگوں سے خطاب فرماتے تھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے اپنی امت کو موجد بنایا ہے۔ ایک دن ایک انصاری عورت آپ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوتی ہے۔ عرض کرتی ہے: اللہ کے رسول! میرا بیٹا کارپینٹر ہے اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے لیے وہ منبر بنا دے۔ آپ نے اس کی حوصلہ افزائی فرمائی اور جواب اثبات میں دیا۔ چند دنوں کے بعد مسجد نبوی میں منبر رکھ دیا جاتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ اس منبر پر چڑھ کر لوگوں سے خطاب فرماتے ہیں۔ کھجور کا وہ تنا جس پر آپ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے وہ ہچکیاں لے لے کر رو رہا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ منبر سے نیچے تشریف لاتے ہیں اس کو پیار کرتے ہیں تو وہ ہچکیاں لینا بند کر دیتا ہے۔

میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرہ کی طرف دیکھ رہا ہوں، اور سوچ رہا ہوں کہ کس شان سے میرے پیارے رسول ﷺ حجرہ مبارک سے نکل کر محراب کی طرف تشریف لا تے ہوں گے۔ صحابہ کرام کس شوق سے اس دروازے کی طرف دیکھتے ہوں گے کہ کب اللہ کے رسول کے چہرہ اقدس کی زیارت ہوگی۔

عموماً ظہر کی نماز شیخ عبدالمحسن القاسم پڑھاتے ہیں۔ میری خواہش تھی کہ آج بھی وہ نماز پڑھائیں تو ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہو جائے گا۔نماز ظہر جو اس مقدس مقام میں ادا کی اس کی لذت مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ میں نے اپنے ہاتھ دعا کے لیے بلند کر لیے، دعا سے فارغ ہوا تو سنتیں ادا کیں، اتنے میں شیخ ایاد شکری نیچے اترتے نظر آئے۔ ایک مرتبہ پھر ہم نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا۔ ہمارا رخ مؤذنین کے حجرہ کی طرف تھا۔ ہم دونوں پھر ایک مرتبہ بیٹھ گئے، دل کھول کر باتیں ہوئیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اسی جگہ اذان دیتے تھے جہاں آپ نے ابھی اذان دی ہے، کہنے لگے نہیں بلکہ وہ تو ایک انصاری خاتون کے گھر میں بنے مینار کے اوپر چڑھ کر اذان دیتے تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی آواز بلند تھی۔ مسجد نبوی کے ارد گرد کھیت، بازار اور گھر تھے۔ وہاں لوگ کام کر رہے ہوتے تھے۔اس طرح گھروں میں مرد، عورتیں سبھی اذان کی آواز سنتے تو فوراً مسجد کا رخ کرتے۔

شیخ ایاد شکری کو میں نے اہل پاکستان کی مسجد نبوی، اس کے ائمہ اور مؤذنین سے محبت کا ذکر کیا۔ سبحان اللہ! قیامت کے دن ان شاء اللہ ہمارا ٹھکانہ انھی لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺکی بڑی مشہور حدیث ہے کہ ”اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ“ قیامت کے روز آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1