عبادت کا صحیح مفہوم!

عبادت کا صحیح مفہوم!

  



افسوس کہ مسلمان عبادت کے صحیح اور حقیقی مفہوم کو بھول گئے۔انہوں نے چند مخصوص اعمال کا نام عبادت رکھ لیا ہے اور سمجھے کہ بس انہی اعمال کو انجام دینا عبادت ہے اور انہی کو انجام دے کر عبادت کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ اس خطرناک غلط فہمی نے عوام اور خواص دونوں کو دھوکے میں ڈال دیا۔عوام نے اپنے اوقات میں سے چند لمحے خدا کی عبادت کے لئے مختص کر کے باقی تمام اوقات کو اس سے آزاد کر لیا۔ قانون الٰہی کی دفعات میں سے ایک ایک دفعہ کی خلاف ورزی کی، جھوٹ بولے، غیبت کی، بدعہدیاں کیں، حرام کے مال کھائے۔ حق داروں کے حق مارے،کمزوروں پر ظلم کیا، نفس کی بندگی میں دِل،آنکھ، ہاتھ اور پاؤں سب کو نافرمانی کے لئے وقف کر دیا،مگر پانچ وقت کی نماز پڑھ لی، زبان اور حلق کی حد تک قرآن کی تلاوت کر لی،سال میں مہینہ بھر کے روزے رکھ لیے۔ اپنے مال میں کچھ خیرات کر دی۔ ایک مرتبہ حج بھی کر آئے اور سمجھے کہ ہم خدا کے عبادت گزار بندے ہیں۔ کیا اس کا نام خدا کی عبادت ہے کہ اس کے سجدے سے سر اٹھاتے ہی ہر معبود باطل کے آگے جھک جاؤ۔اس کے سوا ہر زندہ اور مردہ کو حاجت روا بناؤ،ہر اس بندے کو خدا بنا لو جس میں تم کو نقصان پہنچانے یا تفع دینے کی ذرہ برابر بھی قوت نظر آئے۔ کفار و مشرکین تک کے آگے ہاتھ جوڑو اور ان کے پاؤں چومو، انہی کو رازق سمجھو، انہی کو عزت اور ذلت دینے والا سمجھو، کیا یہی تمہارا اسلام ہے؟یہی تمہارے ایمان کی شان ہے؟ اسی پر تمہیں گمان ہے کہ تم خدا کی عبادت کرتے ہو؟ اگر یہی اسلام اور ایمان ہے اور یہی اللہ کی عبادت ہے تو پھر وہ کیا چیز ہے، جس نے تم کو دُنیا میں ذلیل و خوار کر رکھا ہے؟ کیا چیز ہے جو تم سے خدا کے سوا ہر در کی گدائی کرا رہی ہے؟

خواص نے اس کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ تسبیح و مصلیٰ لے کر حجروں میں بیٹھ گئے۔ خدا کے بندے گمراہی میں مبتلا ہیں۔ دُنیا میں ظلم پھیل رہا ہے۔ حق میں روشنی پر باطل کی ظلمت چھائی جا رہی ہے۔ خدا کی زمین پر ظالموں اور باغیوں کا قبضہ ہو رہا ہے،الٰہی قوانین کے بجائے شیطانی قوانین کی بندگی خدا کے بندوں سے کرائی جا رہی ہے، مگر یہ ہیں کہ نفل پر نفل پڑھ رہے ہیں، حق کے نعرے لگا رہے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، مگر محض ثواب تلاوت کی خاطر، حدیث پڑھتے ہیں، مگر صرف تبرکا،سیرت پاک اور اسوہئ صحابہ پر وعظ فرماتے ہیں، مگر قصہ گوئی کا لطف اٹھانے کے سوا کچھ مقصود نہیں۔ دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ کا سبق نہ اُن کو قرآن میں ملتا ہے۔ نہ حدیث میں، نہ سیرت پاک میں، نہ اسوہئ صحابہ میں، کیا یہ عبادت ہے؟ کیا یہی عبادت ہے کہ بدی کا طوفان تمہارے سامنے اُٹھ رہا ہو اور تم آنکھیں بند کئے ہوئے مراقبہ میں مشغول رہو؟ کیا عبادت اس کو کہتے ہیں کہ گمراہی کا سیلاب تمہارے حجرہ کی دیواروں سے ٹکرا رہا ہو اور تم درواازہ بند کر کے نفل پر نفل پڑھے جاؤ؟ کیا عبادت اسی کا نام ہے کہ کفار چا دانگ عالم میں شیطانی فتوحات کے ڈنکے بجاتے پھریں،دُنیا میں انہیں کا علم پھیلے، انہی کی حکومت کار فرما ہو۔انہی کا قانون رواج پائے۔انہی کی تلوار چلے، انہی کے آگے بندگان خدا کی گردنیں جھکیں تمہارے سامنے بے گناہوں کا خون بہایا جائے، جابر دندناتے پھریں اور تم خدا کی زمین اور خدا کی مخلوق کو ان کے لئے چھوڑ کر نمازیں پڑھنے، روزے رکھنے اور ذکر و شغل کرنے میں منہمک ہو جاؤ؟ اگر عبادت یہی ہے جو تم کر رہے ہو اور اللہ کی عبادت کا حق اسی طرح ادا ہوتا ہے تو پھر یہ کیا ہے کہ عبادت تم کرو اور زمین کی حکومت و فرمانروائی دوسروں کو ملے؟ کیا معاذ اللہ خدا کا وہ وعدہ جھوٹا ہے جو اُس نے قرآن میں تم سے کہا تھا کہ:

”جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے اللہ کا وعدہ ہے۔ کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا، جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے“۔

اگر خدا اپنے وعدے میں سچا ہے اور اگر یہ واقعی ہے کہ تمہاری اس عبادت کے باوجود نہ تم کو زمین کی خلافت حاصل ہے، نہ تمہارے دین کو تمکن نصیب ہے، نہ تم کو خوف کے بدلے میں امن میسر آتا ہے، تو تم کو سمجھنا چاہئے کہ تم اور تمہاری ساری قوم عبادت گزار نہیں بلکہ تارکِ عبادت ہے اور اسی ترک عبادات کا وبال ہے، جس نے تم کو دُنیا میں ذلیل کر رکھا ہے“۔

ہر مسلمان اس بات کا بخوبی ادراک رکھتا ہے، کہ نماز کی ادائیگی اللہ کا حکم اور نیک کام ہے اور بے حیائی اور بدکاری برے اعمال ہیں اور اللہ نے ان سے منع فرمایا ہے اور اب انسان میں یہ قدرت بھی ہے، کہ وہ اپنے گھر سے نکل کر مسجد کی طرف جائے اور نماز ادا کرے یا فحاشی کے اڈے کی طرف جائے اور اپنی عاقبت خراب کرے۔

٭٭٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1