مطا لعہ سیرت النبی ؐکی ضرورت و اہمیت

مطا لعہ سیرت النبی ؐکی ضرورت و اہمیت

  



پروفیسر ڈاکٹر عبد الغفار (یو،ای،ٹی)

ایک مسلمان کے لیے مطا لعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت اظہر من الشمس ہے کیونکہ ایک مسلمان رسولؐ اللہ کی ذاتِ مبا رکہ کو قانون و شریعت کا مآخذ سمجھتا ہے اور رسولؐ اللہ سے محبت ایمان کا عملی تقا ضا حضور ؐ نے فرمایا:”وہ ایمان والا نہیں جو مجھے اپنے ماں باپ اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ رکھے“۔

”اور اس کے ساتھ یہ با ت بھی مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ رسولؐ اللہ کی اطا عت ہی میں نجات ہے۔“

”ہدایت کا ذریعہ صرف اور صرف اطاعت ِ نبوی ہے۔“

(1)اگر کسی کے لیے کوئی اسوہ حسنہ ہے تو وہ صرف رسولؐ اللہ کی ذات مبارکہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

”یقینا تمہا رے لیے اللہ کے رسولؐ کی ذات کا بہترین نمونہ ہے ہر اس کے لیے جو اللہ سے ملا قات اور آخرت کی اُمید رکھتا اور اللہ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کرتا ہے۔“(سور ۃ الا حزاب:21)

(2) رسولؐ اللہ کی اقتداء و اتباع کاا ولین تقاضا یہ ہے کہ کہ زندگی کے مختلف گوشوں میں آپ کی صفات و اخلاق،آپ ؐ کی نبو ت کے دلا ئل اور خصائص کی معرفت حاصل کی جا ئے۔جو شخص آپ ؐ کے اخلاق و اوصاف کو جا نے گا وہی یقینا آپ ؐ سے محبت کرے گا۔

(3) علامہ ابن القیم ؒ زاد المعاد میں لکھتے ہیں سیرت نبویہ کاعلم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے فرض ہے کیونکہ سعادتِ دارین رسولؐ اللہ کی لا ئی ہو ئی ہدایت و رہنمائی پر مبنی ہے۔

(4)سیرت نبوی ؐ،رسولؐ اللہ اور صحابہ کرام ؓ کے جذبہ ایمان و یقین کے واقعا ت سے لبریزہے جو ان سے اعلائے کلمتہ اللہ کی سربلندی کے لیے ظہور ہوئے ان دل آویز واقعات کو پڑھ اور سن کر مومنین کے عزائم کی قوت میں اضا فہ ہو تا ہے۔

دینِ حق کے دفاع کاجذبہ مستحکم ہو تا ہے اور دلوں کو راحت،سکون و اطمینا ن ملتا ہے۔

(5) رسو لؐ اللہ کی حیا تِ طیبہ میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے رہنما ئی مو جو د ہے چا ہے حاکم ہو یا محکوم۔طالب علم ہو یا استاذ گویا آپ ؐ کی سیرت ِ طیبہ ایک انسان ِ کامل کے لیے ہر اعتبا ر سے اعلیٰ درجے کی نا در مثال ہے۔

(6) رسولؐ اللہ کی سیرت کے مطا لعہ سے قرآن مجید اور احا دیث مبارکہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ قرآن مجید کا تعلق سیرت رسولؐ اللہ کے ساتھ بہت گہرا ہے۔(کان خلقہ القرآن)

(7) رسولِ رحمت ؐ کے خصا ئص و امتیازات دوسرو ں سے رویہ،معاملا ت،حقوق و فرائض کا تعین کی صحیح معرفت سیرتِ طیبہ کے مطالعہ ہی سے ممکن ہے۔

(8)سیرت رسولؐ اللہ کا مطالعہ کرنے سے عقیدہ و ایمان، شریعت، اخلاق، تفسیر، حدیث، صداقت، سیاست،عدالت،دعوت و تربیت اور معاشرت اور مختلف امور کے متعلق بالکل صحیح،مستند اور مفید معلومات حاصل ہو تی ہے۔

(9) سیرتِ طیبہ ؐ اور حدیث مبارکہ میں گہرا تعلق ہے سیرت طیبہ کے مطا لعہ سے صحیح احا دیث کی معرفت حاصل ہو تی ہے۔

(10) سیرت طیبہ کے مطا لعہ سے دعوتِ اسلامیہ کے تدریجی حالات اور نشیب و فراز کے مراحل سے آگاہی حا صل ہوتی ہے اور ان مشکلا ت و تکا لیف کا پتہ چلتا ہے جن سے رسولؐ اللہ اور صحابہ کرام ؓ کو کلمہ طیبہ کی سربلندی کے لیے گزرنا پڑااس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوجا تا ہے کہ آپ ؐ نے پیش آمدہ دشواریوں کی گھاٹیاں عبور کرنے کے لیے کیا طریقہئ کاراختیار کیا۔

”سیرۃ“ سَا رَےَسِیرُسیرا سے چلنے پھرنے کے معنوں میں آتا ہے طریقہ،راستہ،روشن شکل و صورت طرزِعمل،حسن السیرۃ۔(لسان العرب 389/7)

.....فقہا ء و محدثین کے نزدیک

لفظ سیرت سیرو مغازی اور جہادکے معنوں میں مستعمل ہے۔

مثلاً صحیح بخا ری،کتا ب المغازی،مسلم میں کتاب السیر و الجہاد،فتح الباری میں کتاب المغازی و السیر کے عنوانات ہیں۔اسی طرح السیر للا وزاعی کتاب السیر الصغیر اور کتاب السیرالکبیرمحمد بن حسن الشیبانی۔

…… لفظ سیرت کی اصطلا حی تعریف …… آنحضرت ؐ کے حا لات زندگی اور اخلاق و عادات بیان کرنے کا نا م سیرت ہے۔آج دنیا کی تمام مسلم زبانوں اور بہت سی غیر مسلم زبانوں میں سیرت کا لفظ سرکارِ دو عا لم ؐ کی مبا رک زندگی کے لیے استعمال ہو تا ہے۔

اسلا می علوم و فنون میں سیرت کا لفظ سب سے پہلے رسولؐ اللہ کے اس طرزِ عمل کے لیے استعما ل کیا گیا جو آپ ؐ نے غیر مسلموں سے معا ملہ کرنے اور جنگوں میں یا صلح اور معاہدات کے معا ملات میں اپنایا۔

شریعت کی اصطلا ح میں سیر ت سے مراد وہ طریقہ ہے جو کفار سے جنگ و جہا د میں اپنا یا جائے۔

پہلا پہلو:مغازی رسولؐ اللہ۔

دوسرا: سیرت رسولؐ کا قانونی پہلو۔

شا ہ عبدالعزیز محدث دھلویؒ کی جا مع تعریف:

”رسولؐ اللہ کے وجودِ گرامی سے جو بھی متعلق ہے،رسولؐ اللہ کی ولا دتِ مبارکہ سے لے کر آپؐ کے دنیا سے تشریف لے جا نے تک ان سب کی تفصیل کو اسلامی علو م و فنون کی اصطلاح میں سیرت کہتے ہیں۔“

سیرۃ نبوی ؐ کا اولین اور اصل ماخذ قرآن کریم ہے۔

رسولؐ اللہ کے اقوال،افعال اور تقا ریرخوش اسلوبی سے جمع کردیے گئے ہیں۔صحیح بخاری میں، قبل از نبوت بعد از نبو ت کے ابواب قائم کئے گئے ہیں۔

سنن اربعہ خصوصاً ترمذی میں سیرت کا مستقل تذکرہ مو جودہے،خصوصا ً کتاب المنا قب اسی طرح امام بیہقی کی سنن کبریٰ۔مسند احمد۔

امام ترمذی کی شما ئل پر الگ کتاب ہے۔صحیح بخاری اور الا دب المفرد میں،الا ستئذان،اللباس۔ مسلم میں البّرو الصلۃ، الذھد، الرقاق۔

٭دلا ئل نبوت اور معجزات کے متعلق کتب: دلائل النبوۃ: ابو نعیم صبہانی۔ الخصائص الکبری: علامہ سیوطیؓدلائل النبوۃ: امام بیہقی۔

ئئئ٭سبل لھدی و الرشادفی سیرت خیر العبادامام شامی۔

٭ الخصا ئص الکبریٰ،علامہ سیو طی

٭ کتب سیرت و مغازی

٭ تاریخی کتابیں

٭ ادبی کتابیں

(یہ تمام سیرت کے مآ خذ ہیں)

........حدیث و سیرت میں مختصر فرق

........حدیث میں اصل بحث اقوال و افعال رسولؐ اللہ پر ہو تی ہے اور ذات و شما ئل رسولؐ ضمناً زیر بحث آتے ہیں،جبکہ سیرت میں ذات و شمائل رسولؐ ؐاصلا ً زیر بحث آتے ہیں۔

…… سیرت کا علم حاصل کر نا ہر مسلمان پر فرض ہے، اس لیے کہ سعادت دارین،رسولؐ اللہ کی لا ئی ہو ئی ہدایت اور رہنمائی پر مبنی ہے۔کیونکہ ہدایت کا ذریعہ صرف اور صرف اطاعتِ نبوی ہے۔

…… صحابہ کرام کو قرآن کریم کی سو رتوں کی طرح اسلامی غزوات کے واقعات یاد کرائے جاتے تھے۔

محمد بن سعد بن ابی وقاص کا بیا ن ہے:

”ہمارے والد ہم لو گوں کو مغازی اور سرایا کی تعلیم دیتے تھے اور کہتے تھے:اے بیٹو! یہ تمہا رے آباؤ اجداد کا شرف ہے،تم لو گ ان کو یا د رکھو اور ضائع نہ کرو۔“

…… مدینہ منورہ میں مغازی کی مشہور درس گاہ عبداللہ عباس ؓ کی تھی،اس میں علم مغازی کے لیے باقاعدہ تعلیم مقرر کی تھی۔”ان کے پاس ایک اونٹ کے وزن کے برابر یادداشتیں تھیں۔“

مغازی رسولؐ کے سب سے پہلے مدون حضرت عروہ زبیر بن العوام حدیث،فقہ اور مغازی کے بہت بڑے عالم تھے وہ حضرت عائشہ ؓ کے بھانجے تھے۔امام بخاریؒ نے فتح مکہ کی تفصیلات حضرت عروہ بن زبیر کی روایت سے پیش کی ہیں۔

ان کی مغازی پر کتاب ”کتاب المغازی“ کے نام سے ہے۔

سعید بن مسیب مرویات سیرت کا ذخیرہ امام طبری نے اپنی تاریخ میں شامل کرلیا ہے۔

……سیرت و مغازی رسولؐ کو مدوّن کرنے والی دوسری بڑی شخصیت ابان بن عثمانؓ بن عفان کی ہے۔انہوں نے 86ھ تک کتاب المغازی مکمل کرلی تھی۔امام مالک نے آپ سے روایات لیں۔ اسی طرح آپ کی مرویات طبقات ابن سعد،تاریخ طبری اور تاریخ یعقوبی میں محفوظ ہیں۔

ام عمرو بنت جندب خاتون مغازی کے اولین عالموں میں شمار کی گئیں۔

....حضرت ابو ہریرہ ؓ کے شاگرد وھب بن منبہ ؒ نے،سیرت و مغازی کی روا یات جمع کیں،ان کی جمع کردہ روایات کا نسخہ جرمنی کتب خانہ میں مو جو د ہے۔ان کی روایات ابن اسحاق، ابن قتیبہ، طبری وغیرہ میں محفوظ ہیں۔

امام بخاریؒ ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل جیسی عظیم ترین شخصیت نے با بِ سیرت میں مستند ترین اِما مان سیرت عروہ بن زبیر ،امام زہری،محمدبن مسلم بن شہاب کے علا وہ ابن اسحاق اور موسیٰ بن عقبہ کی روایات کا ذکر تراجم ابواب میں کیا ہے۔

محمد بن شہاب الزہری کا سیرت میں کام خوب ہے،وہ آخری تابعی ہیں امام مالک سمیت بڑے محدثین کے استاد ہیں۔

مروان بن حکم اور اس کے بیٹا عبدالملک بن مروان نے عروہ بن الزبیر اور ابان بن عثمان کو سیرت نبوی ؐ کا کام کرنے پر مقرر کیا جبکہ عمر بن عبد العزیز نے عاصم بن عمر بن قتادہؒ نعمان انصاری کو سیرت نبوی کا کام کرنے پر مقرر کیا۔

محمدبن شہاب الزہری نے تین تابعین عروہ بن الزبیر۔ابان بن عثمان۔عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری کی مرویات کو مرتب کیا۔

…… السیرۃ الصحیحہ سلیمان بن طرحانؒکو مشہور مستشرق جان کریمر نے ایڈٹ شائع کی)

…… حضرت علی بن حسین یعنی امام زین العابدینؒ نے اپنی یاداشت کے لیے سیر و مغازی کا مجمو عہ مرتب کیاوہ روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ اسے بھی تلاوت کرتے،یہ نسخہ دوسروں تک نہیں پہنچا۔

مزید : ایڈیشن 1