ڈبلیو ڈبلیو ایف اور کوکاکولا فاؤنڈیشن کے اشتراک سے مقابلے کا انعقاد

    ڈبلیو ڈبلیو ایف اور کوکاکولا فاؤنڈیشن کے اشتراک سے مقابلے کا انعقاد

  

لاہور(پ)رڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان اور دی کوکا۔کولا فاؤنڈیشن نے علی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن لاہور میں دی پانڈا چیلنج 2020 کے اسکول مقابلے کا انعقاد کیا۔اس مقابلے کی اختتامی تقریب میں رکن پنجاب اسمبلی سمیرا شمس نے شرکت کی جنہوں نے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور کوکا۔کولا کی سینئر انتظامیہ کی موجودگی میں جیتنے والے طالب علموں میں میڈلز، شیلڈز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کئے۔ یہ گرینڈ فنالے اس اسکول پروگرام کا تیسرا اور حتمی مرحلہ تھا، اس سے قبل 30 ہزار سے زائد طالب علموں کے ساتھ مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا جن میں انہوں نے سیمی فائنل اور فائنل مقابلوں میں منتخب ہونے کے لئے بھرپور انداز سے حصہ لیا۔دی پانڈا چیلنج ایک انٹراسکول سرگرمی ہے جو مختلف اسکولوں کے گریڈ 1 تا گریڈ 8 کے طالب علموں کو ایک جگہ اکھٹا کرتا ہے۔ اس چیلنج کے دوران نوجوانوں میں ماحولیاتی اعتبار سے آگہی پیدا کرنے کے ساتھ پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی کے موضوع پر اظہار خیال کرنے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے، مصوری کے کاموں اور لکھنے لکھانے کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد کوئز، ریپڈ فائر راؤنڈز، ماسکنگ پوسٹرز، تحریر نویسی، تقاریر اور مباحثے جیسی سرگرمیوں کے ذریعے طالب علموں میں ماحولیاتی اعتبار سے تجسس بیدار کرنے اور صحت مندانہ مقابلے کو فروغ دینا ہے۔ لاہور سے قبل اسلام آباد اور کراچی میں 12فروری اور 19 فروری کو بالترتیب اسکے فینالیز منعقد ہوئے۔دی پانڈا چیلنج 2019 کی شاندار کامیابی کے بعد کوکا۔کولا فاؤنڈیشن نے ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کے ساتھ اسکے ورلڈ ود آؤٹ ویسٹ پروگرام کے لئے اشتراک کیا۔ اس اقدام کے تحت ملک بھر کے 100 سرکاری و نجی اسکولوں میں پلاسٹک سے پیدا ہونے والے کچرے کے خلاف کام کرنے کا پیغام پھیلانے پر زور دیا جاتا ہے اور یہ کہ کس طرح سے پلاسٹک کو استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ کہ پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی کے خاتمے کے حل کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔کوکا۔کولا پاکستان و افغانستان کے ڈائریکٹر پبلک افیئرز اینڈ کمیونکیشنز فہد قادر نے کہا، "کوکا۔کولا نے پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی کے خاتمے اور انہیں بحفاظت علیحدہ کرنے سے متعلق آگہی پھیلانے کے لئے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ ہمارے نوجوان مثبت کاموں کیلئے مشعل بردار ہیں اور دی پانڈا چیلنج جیسے اقدامات کے ذریعے ہم 100 سے زائد اسکولوں اور سینکڑوں گھرانوں سے رسائی حاصل کرکے پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق کارآمد معلومات پھیلانا چاہتے ہیں کیونکہ اس طرح آگہی پھیلانے سے معاشرے پر مثبت انداز سے گہرا اثر پڑتا ہے۔ ہم ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ساتھ اس سفر میں شامل ہونے پر پرجوش ہیں اور ہمارا عزم ہے کہ سال 2030 تک اپنی پیکیجنگ ویسٹ میں کمی لائی جائے اور اسے دوبارہ قابل استعمال بنا کر ری سائیکل کیا جائے۔"ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا، "یہ ہمیشہ سے ہماری ترجیح رہی ہے کہ اس موضوع کو تعلیمی سطح پر متعارف کرایا جائے جس سے نہ صرف آگہی پھیلے گی بلکہ نوجوانوں کو ماحولیات اور اسکے تحفظ کی اہمیت پر تازہ صورتحال جاننے میں بھی مدد ملے گی۔ اسکولوں کی سطح پر اس طرح کے جامع پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ نئی نسل میں مختلف سرگرمیوں کے ذریعے اہم ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے تاکہ وہ باشعور انداز سے بڑے ہوکر اس حوالے سے تبدیلی کے علمبردار بن سکیں جنکی ہمیں اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اس طرح کے پروگرامات کے انعقاد اور انتظامات پر فخر ہے اور ہم صاف اور محفوظ ماحولیات کا پیغام پھیلانے کا کام جاری رکھیں گے۔"اس چیلنج کے ذریعے ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کا ماحولیاتی تعلیمی پروگرام طالب علموں کو ایک جگہ لے آیا ہے تاکہ مختلف پروگرامات کے ذریعے ماحولیاتی مسائل پر توجہ دی جائے، اس سے متعلقہ مسائل پر اظہار تشویش کے مواقع فراہم کئے جائیں، ان مسائل کے حل پر توجہ دی جائے اور تازہ صورتحال کی آگہی سے ان کے تعلیمی منظرنامے میں وسعت لائی جائے۔

مزید :

کامرس -