صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے سہولیات نہ ہونے کا انکشاف

صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے سہولیات نہ ...

  



لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت کے کسی ہسپتال میں کرونا وائرس کی تشخیص اور تصدیق کیلئے ڈائیگناسٹک کٹس اورمخصوص آلات نہ ہونے کا انکشاف،سرکاری ہسپتالوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجہ کے وقت طبی عملہ کو دیا جانے والا N90ماسک بھی موجود نہیں،کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے اسلام آباد میں موجود قومی ادارہ صحت میں قائم لیبارٹری کا سہارا لینا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے کونے کونے میں چائنیز موجود ہیں اور جن کی تعداد ہزاروں میں ہے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر چائنیز میں کرونا وائرس موجود ہو مگر چائنیز کے ٹیسٹ ضروری ہیں جو ایئرپورٹس پر ہونا چاہیے مگر پاکستان کے کسی ایک ایئرپورٹس پر تاحال اس ٹیسٹ کیلئے نہ کوئی موبائل لیب قائم کی گئی ہے اور نہ ہی ٹیسٹ کے آلات فراہم کئے گے ہیں، یہاں تک کہ پنجاب میں برڈ ووڈ روڈ پر واقع صوبہ کے واحد پبلک ہیلتھ کے ادارہ میں بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کا کوئی انتظام موجود نہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت نے پنجاب کے 6 بڑے ہسپتالوں کو کرونا وائرس کے مریضوں کیلئے مختص کر دیا لیکن وہاں سہولیات موجود ہیں نہ مرض کے علاج معالجہ کیلئے ڈاکٹرز اور  عملہ کو ٹریننگ دی گئی جبکہ حفاظتی لباس بھی مہیا نہیں کیا گیا،ذرائع کے مطابق ڈینگی کے مریضوں کیلئے مخصوص وارڈزکے باہر سے ڈینگی کی تختیاں اتار کر کرونا وائرس کی تختیاں لگا دی گئی، وارڈزکے اندرماسوائے بیڈز کے کچھ بھی موجود نہیں۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیلئے کٹس منگوالی ہیں حکومت پوری طرح الرٹ ہے لہٰذا کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ڈی جی صحت نے کہا کہ سرکاری سطح پر پنجاب میں برڈووڈ روڈ پر واقع پبلک ہیلتھ لیبارٹری، این اے ایچ اسلام آباد کے علاوہ پرائیوٹ سیکٹر میں چغتائی،شوکت خانم اور آغا خان ہسپتال میں بھی ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے لہٰذا ہر ہسپتال میں سہولت موجود ہونا ضروری نہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹس پر ڈاکٹرز موجود ہیں جو باہر سے آنے والے مریضوں کو صرف علامات سے پہچانیں گے جس میں کرونا وائرس پایا گیا اس کو اپنی تحویل میں لے لیا جائے گا اور فوکل ہسپتال میں لاکر اس کے ٹیسٹ لیبارٹری بھجوائے جائیں گے۔

انکشاف

مزید : صفحہ اول