دینی جماعتوں کا یوم خواتین”یوم شرم و حیات“کے طور پر منانے کا اعلان

  دینی جماعتوں کا یوم خواتین”یوم شرم و حیات“کے طور پر منانے کا اعلان

  



لاہور(نمائندہ خصوصی)تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیراہتمام 30 دینی جماعتوں کے اجلاس کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں تیس دینی جماعتوں نے 8 مارچ کو یوم خواتین کو”یوم شرم و حیا“ کے نام سے منانے کا اعلان کر دیا۔ 8 مارچ کو داتا دربار سے پنجاب اسمبلی تک”پیغام شرم و حیا ریلی“ نکالی جائے گی اور جمعہ 6 مارچ کو ملک بھر میں ”اسلام میں عورت کا مقام“ کے موضوع پر خطبات جمعہ دیئے جائیں گے۔ حکومت 8 مارچ کو ہونے والے اخلاق سوز خواتین مارچ پر پابندی عائد کرے۔ میرا جسم میری مرضی جیسے بیہودہ نعرے کے رد کے لئے“ خدا کی عطا، خدا کی مرضی“ کا سلوگن عام کیا جائے گا۔ عسکری طرز پر خواتین کی پریڈ کی تیاریاں انتہا پسندی کی نئی شکل ہے۔ خواتین کے حقوق کے نام پر عریانی و فحاشی پھیلانے کے بیرونی ایجنڈے کی مزاحمت کی جائے گی اور پاکستان کے مشرقی و اسلامی معاشرے کو مغرب زدہ بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ فارن فنڈڈ این جی اوز دینی اقدار اور مشرقی روایات کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ لبرل فاشسٹ پاکستانی معاشرے کو مادر پدر آذاد معاشرہ بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو گا کیونکہ پاکستانی خواتین کی اکثریت اسلام اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ گہری وابستگی رکھتی ہے۔ درجن بھر مٹھی بھر خواتین پاکستانی عورتوں کی نمائندہ نہیں ہیں۔ دینی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس تحفظ ناموس رسالت محاذ کے صدر صاحبزادہ رضائے مصطفے نقشبندی کی زیرصدارت المصطفےٰ قرآن کالج عسکری الیون لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جن جماعتوں کے مرکزی راہنماؤں نے شرکت کی ان میں سنی اتحاد کونسل، پاکستان سنی تحریک، جمعیت علماء پاکستان، تحریک لبیک پاکستان، جماعت اہل سنت پاکستان، منہاج القرآن علماء کونسل، انجمن طلباء اسلام، شیران اسلام، جے یو پی (نورانی)، پاکستان فلاح پارٹی، انجمن نوجوانان اسلام، ادارہ صراط مستقیم، مجلس علمائے نظامیہ، نعیمئن ایسوسی ایشن، فدایان ختم نبوت، سنی تنظیم القراء، انجمن اساتذہ پاکستان، مرکزی جماعت اہل سنت، جے یو پی (نیازی)، تحریک لبیک اسلام، مصطفائی تحریک، سنی تحریک، پاکستان مسلم فرنٹ، تنظیم علماء اہل سنت اچھرہ، محافظان ختم نبوت، انجمن خدام الاولیا، مرکزی مجلس چشتیہ، نظام مصطفے پارٹی، تحریک فروغ اسلام، تحریک علماء اہل سنت، انجمن اشاعت اسلام، جماعت رضائے مصطفے شامل تھیں۔ اجلاس میں لاہور کے تیس دینی مدارس کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں 8 مارچ کی“ شرم و حیا ریلی کے انتظامات کے لئے مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں۔ پیر بشیر احمد یوسفی اور علامہ عبداللہ ثاقب پر مشتمل رابطہ کمیٹی، ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان اور پروفیسر ممتاز ربانی پر مشتمل میڈیا کمیٹی، مفتی مسعود الرحمن اور مفتی محمد انوار طارق پر مشتمل فنانس کمیٹی قائم کی گئی۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ خواتین مارچ کرنے والی تنظیموں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے۔ اس بار انھیں کھل کھیلنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے۔ مغرب زدہ لبرل خواتین کے پریڈ کی طرز پر ہونے والے مارچ کو روکنے کے لئے ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ دینی طبقے کو انتہا پسند کہنے والے لبرل فاشسٹ خود سب سے بڑے انتہا پسند ہیں۔ پاکستان کا اسلامی تشخص تباہ نہیں ہونے دیں گے اور قرآن و سنت کے منافی کسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دین بیزار طبقہ ہمارے خاندانی نظام کی جڑوں کو کاٹنے کے درپے ہے۔ دینی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے اہم شرکاء میں پیر بشیر احمد یوسفی، پیر سید واجد شاہ گیلانی، ڈاکٹر مفتی محمد حسیب قادری، ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، علامہ عبداللہ ثاقب، پیر ضیائالمصطفے حقانی، علامہ ممتاز ربانی، مولانا محمد علی نقشبندی، علامہ میر آصف اکبر، پیر اصغر نورانی، مفتی عمران حنفی، پیر ذولفقار مصطفے ہاشمی، علامہ حافظ محمد اعظم نعیمی، علامہ نعیم جاوید نوری، سردار طاہر ڈوگر، علامہ مشتاق احمد نوری، علامہ محمد اصغر شاکر، علامہ احسان الحق صدیقی، پیر معاذالمصطفے قادری، پیر ارشد نعیمی، مولانا قاری مختار احمد صدیقی، سید بلال گردیزی، مفتی قیصر شہزاد نعیمی، مفتی عمران الحسن فاروقی، علامہ طاہر شہزاد سیالوی، مفتی محمد انوار طارق، مفتی مسعود الرحمن شامل تھے۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام اور مساجد پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارتی مسلمانوں کو انتہا پسند ہندوؤں کے مظالم سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور مسلم حکمران بھارتی مسلمانوں کے حق میں مشترکہ آواز اٹھائیں۔

یوم شرم و حیاء

مزید : میٹروپولیٹن 1