براق سینٹر لیڈیز فنڈ کا خواتین انٹرپرینیور کیلئے تقریب کا انعقاد

براق سینٹر لیڈیز فنڈ کا خواتین انٹرپرینیور کیلئے تقریب کا انعقاد

  



کراچی (اکنامک رپورٹر) براق سینٹر لیڈیز فنڈ نے داؤد گلوبل فاؤنڈیشن، جرمن قونصلیٹ کراچی اور لمس نیشنل انکیو بیشن سینٹر کے اشتراک سے دنیا میں خواتین انٹرپرینیور اور جدت کی ممکنات کو حقیقت بنانے کیلئے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ واضح رہے کہ یہ شروعات پروں والے گھوڑے براق سے متاثر ہو کر کی گئی ہے، جس نے حضور اکرمؐ کو پلک جھپکتے ہی ساتویں آسمان تک پہنچایا۔ براق سینٹر کا مقصد مرد و زن کو برابری کا مقام دینا، جبکہ ہر دو کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے پر زور دینا ہے۔ براق سینٹر کا نعرہ "Watch Her Fly" نے پاکستان میں پہلی بار ”آل فیمیل انکیوبیشن سینٹر“ کی بنیاد رکھی گئی جس کی اس قوم کو اشد ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار گلوبل فاؤنڈیشن اور لیڈیز فنڈ کی صدر تارا عذرا داؤد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ براق سینٹر کا قیام صوبہ سندھ کیلئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔تارا عذرا داؤد نے مزید کہا کہ خواتین کو ثقافتی اور آرام دہ جگہ کی شدید ضرورت ہے۔ جہاں پر وہ اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجہ ؓ اسلامی تاریخ میں ایک خاتون تاجر کے طور پر شناخت پاتی ہیں جو دور حاضر کی خواتین کے مشعل راہ ہے۔ جرمن قونصل جنرل یوگن ولفرتھ جنہوں نے لیڈیز فنڈ کی بھرپور اعانت کی، جرمنی میں اسٹڈیز کیلئے آٹھ لڑکیوں کو سپورٹ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جرمن قونصل جنرل نے کہا کہ براق سینٹر مارچ کے آخر تک پہلی 10 انکیوبیٹرز کو منتخب کرلے گا، جن میں سے ہر ایک کو این آئی سی اور گلوبل فاؤنڈیشن این آئی سی لاہور کے ڈائریکٹر فیصل شیر جان نے کہا کہ درخواستیں وصول کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ تقریب کی نظامت منیزہ بٹ نے انجام دی، جبکہ نبیلہ بانو نے قومی ترانہ پیش کیا، اس کے علاوہ حرا ناز امتیاز نے حضور اکرم ؐ کے واقعہ معراج کو قرآن کی روشنی میں بیان کیا، تقریب میں خالد مرزا، امینہ سید، سینیٹر نسرین جلیل، نازش طارق خان، سیما حسن، فیصل دادا بھائی اور دیگر نے شرکت کی۔ جبکہ 400 سے زائد خواتین انٹرپرینیورز سمیت معروف شخصیات بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ اس تقریب کو یاسمین دادا بھائی، سمس کیک فیکٹری، ہنر مند کراچی کی مومل عدنان، میزان چائے، نیسلے پاکستان اور دیگر نے اسپانسر کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر