دہلی مسلمانوں کے خون سے رنگین

دہلی مسلمانوں کے خون سے رنگین

  



اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھارتی دارالحکومت دہلی میں جاری فسادات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ صورتِ حال سنگین ہے، بھارتی حکومت تصادم روکے اور مظاہرین کو پُرامن احتجاج کی اجازت دے۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین پر حکومتی تشدد درست نہیں،نئی دہلی کی صورتِ حال پر گہری نظر ہے،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر آغاز تھا، آج ہندوستان کے بیس کروڑ مسلمان نشانے پر ہیں، بھارتی اقدامات سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔دہلی کے فسادات کا دُنیا نوٹس لے۔دہلی میں مسلمانوں پر آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈوں کے حملے جاری ہیں۔

دہلی کے حالیہ فسادات بلکہ قتل ِ عام نے قیام پاکستان کے وقت ہونے والے خونیں فسادات کی یاد دِلا دی، پولیس وزیراعلیٰ دہلی اروند کجری وال کا حکم نہیں مان رہی اور فوج کی تعیناتی کی درخواست مودی حکومت نے مسترد کر دی ہے، مسجدوں اور مسلمانوں کی املاک کو انتہا پسند ہندو آگ لگا رہے ہیں۔ مودی کی حامی انتہا پسند تنظیمیں بلوائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں اور ان کے کارکن بھی پُرتشدد کارروائیاں کر رہے ہیں۔مودی جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو اُن کے دور میں دارالحکومت احمد آباد میں بدترین قسم کے فسادات ہوئے تھے،جن میں مسلمانوں کے محلے کے محلے جلا کر خاکستر کر دیئے گئے تھے۔ کانگرس کے مسلمان رُکن پارلیمینٹ نے اس وقت کی کانگرسی مرکزی حکومت سے مدد کی درخواست کی تھی،لیکن مرکزی حکومت بھی فسادات روکنے میں ناکام رہی،فوج میں بھی چونکہ ہندوؤں کی اکثریت ہے اِس لئے وہ بھی خاموش تماشائی بن کر کھڑی رہی اور اس کی اس بے عملی سے ہندوؤں کو مزید شہہ ملی،آج بھی اس وقت کے لرزہ خیز واقعات کے تذکرے سے جسم میں سنسنی دوڑ جاتی ہے۔گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ مودی مذہبی آزادی کے حامی ہیں اور وہ فسادات پر قابو پا لیں گے،لیکن اُن کی توقع کے برعکس یہ فسادات پھیلتے جا رہے ہیں،اب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اِن فسادات پر تشویش ظاہر کی ہے،لیکن لگتا نہیں کہ زبانی کلامی مذمت سے فسادات کا یہ سلسلہ رُک جائے گا،کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سلسلہ مزید پھیلتا جا رہا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد جس راستے پر چل نکلے ہیں بھارتی شہریت ترمیمی بل کے خلاف ہونے والے پُرامن مظاہروں کو تشدد کا راستہ اُن کے انتہا پسند ساتھیوں نے دکھایا،جنہیں مودی نے خود شہہ دی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ بھی انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے اُن کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے،عام خیال یہ ہے کہ اگر دہلی کے فسادات کو قابو نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ پورے بھارت میں پھیل جائے گا اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسری اقلیتیں بھی اس کی زد میں آ جائیں گی،کیونکہ یہ ساری اقلیتیں شہریت بل کے معاملے پر مسلمانوں کے مطالبات کی حامی ہیں اور ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ دہلی کے علاقے شاہین باغ میں جن مظاہرین نے سڑکیں روک رکھی ہیں ان میں تمام اقلیتیں شامل ہیں۔

بھارت کے اندر فسادات کا کلچر بڑی گہری جڑیں رکھتا ہے اور اس مُلک کی تاریخ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف فسادات کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی میں کئی دِنوں تک سکھوں کا قتل ِ عام کیا جاتا رہا اور ہزاروں سکھوں کو ان فسادات میں تہہ تیغ کر دیا گیا۔مودی حکومت تو اپنی بقا ہی اس میں دیکھ رہی ہے کہ پورے بھارت سے مسلمانوں کا وجود ختم ہو جائے۔دہلی کے حالیہ انتخابات میں بھی انہوں نے عام عوام پارٹی کو شکست دینے کے لئے انتہا پسندی کا یہی پتہ کھیلا،لیکن اروند کجری وال نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں خدمات اور بجلی کی قیمتیں انتہائی کم سطح پر لانے میں اپنی کامیابی کو حکمت ِ عملی سے استعمال کیا،نتیجہ یہ ہوا کہ اس اسمبلی میں بی جے پی کو آٹھ نشستیں ہی مل سکیں،لیکن دہلی کے وزیراعلیٰ کے اختیارات باقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں محدود ہیں،پولیس فورس اُن کے ماتحت نہیں اور فوج کی خدمات مرکزی حکومت نے امن و امان قائم کرنے کے لئے دینے سے انکار کر دیا ہے، نتیجے کے طور پر کئی عشروں کے بعد پہلی مرتبہ دہلی کے فسادات ہولناک شکل میں سامنے آئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اِن فسادات کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، اقلیتوں پر مظالم کے خلاف دُنیا کو کھڑے ہونا چاہئے۔وزیراعظم نے ایسی ہی اپیل چند ماہ قبل کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ رکوانے کے لئے بھی کی تھی،لیکن اُن کی یہ درد مندانہ التجا صدا بصحرا ثابت ہوئی اور کشمیری آج تک ایک بڑی جیل میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اب مظالم کا یہ سلسلہ پورے بھارت کے مسلمانوں پر محیط ہو چکا ہے اور کل تک جو مظالم کشمیریوں پر ہو رہے تھے وہ اب سارے مسلمانوں پر ہو رہے ہیں،عالمی برادری نے تو ابھی تک اِن فسادات میں انتہا پسند بلوائیوں کے کردار کی مذمت تک نہیں کی،جس طرح بہت سے ملک کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش تماشائی بن کر رہ گئے تھے،کیونکہ ان ممالک کے نزدیک بھارت ایک بڑی منڈی ہے اور اس کے ساتھ اس کی اربوں روپے کی تجارت ہے،ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کھل کر کشمیریوں کے حق میں بیان دیا تو بھارت نے ملائشیا سے پام آئل کی درآمد کم کرنے کا اعلان کر دیا، شاید اس طرح وہ دوسرے مسلمان ممالک کو پیغام دینا چاہتے ہوں گے کہ اگر انہوں نے بھی مہاتیر محمد کا راستہ اختیار کیا تو وہ اُن ممالک سے تیل کی درآمد کم کر دیں گے، یہی وجہ ہے کہ یہ مُلک نہ صرف مودی کی مسلم دشمنی کو نظر انداز کرتے رہے،بلکہ اُنہیں اپنے ہاں بُلا کر اعزاز بھی دیتے رہے۔ ان حالات میں یہ امکان تو کم ہے کہ دُنیا عمران خان کے کہنے پر اُٹھ کھڑی ہو گی،لیکن خود بھارت کے اندر مسلمانوں کو اپنی طاقت مجتمع کر کے حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا،یہ درست ہے کہ مسلمانوں کی آبادی، ہندوؤں کے مقابلے میں کم ہے،لیکن20کروڑ مسلمانوں کا ہندوستان کی سرزمین سے خاتمہ کرنا بھی ناممکنات میں سے ہے، بدقسمتی سے مسلمان یا تو خوفزدہ ہیں یا ان کا کوئی ایسا لیڈر نہیں جو اُنہیں ایک متحدہ قوت کے طور پر سامنے لائے،لیکن اب مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اگر انہوں نے زندہ رہنا ہے اور بھارت کی سرزمین پر رہنا ہے تو پھر اس کا حل یہی ہے کہ وہ اپنی قوت مجتمع کریں اور اُن اعتدال پسند سیاسی قوتوں کی حمایت بھی حاصل کریں جو مودی کے فلسفے کی مخالفت ہیں اور کسی نہ کسی طرح سیکولر بھارت کا پرچم تھامے ہوئے ہیں،مسلمانوں نے اپنی قوت پر انحصار کیا تو ہوا کا رُخ بدلتے دیر نہیں لگے گی،محض التجاؤں اور اپیلوں سے اُن پر ہونے والے مظالم نہیں رُک سکتے۔مسلمانوں کو مودی اور اُن کے انتہا پسند ساتھیوں کے خلاف اپنی قوت پر بھروسہ کرنا ہو گا،بصورتِ دیگر اُن پر مظالم کا یہ سلسلہ رکتا ہوا نظر نہیں آتا۔

مزید : رائے /اداریہ