کرونا وائرس پاکستان میں! احتیاط لازم!

کرونا وائرس پاکستان میں! احتیاط لازم!
 کرونا وائرس پاکستان میں! احتیاط لازم!

  



یہ تو ہونا ہی تھا اور ہوا، یہ بھی درست ہے کہ حکومت نے عرصہ پہلے سے اس وباء کے حوالے سے اہم فیصلے کئے اور ہمارے ہزاروں پاکستانی تاجروں اور طلباء کو چین ہی میں رہنے دیا کہ ابتدا ہی میں ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے اور اعتراف کر لیا تھا کہ ہمارے پاس اس کا علاج نہیں اور چین والے اس وباء سے نمٹنے کے لئے زیادہ توجہ دے رہے ہیں،اور وہاں لوگوں کی بہتر حفاظت کی جا رہی ہے۔یوں بھی ابھی تک چین سے کسی پاکستانی کے متاثر ہونے کی خبر نہیں آئی۔یہاں ہمارے پاکستانیوں کے والدین کا احتجاج بھی کام نہ آیا، تاہم اب حالات میں ایک حقیقی تبدیلی آ گئی کہ خود معاون خصوصی محترم ڈاکٹر ظفر مرزا نے تصدیق کی کہ فی الحال دو افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی اور یہ دونوں ایران سے واپس آئے ہیں۔ ایک مریض کراچی اور دوسرا پمز اسلام آباد میں زیر علاج ہے۔ سندھ میں دو روز اور بلوچستان میں پندرہ روز کے لئے تعلیمی ادارے بند کر دیئے ہیں۔ بلوچستان کے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایران کے ساتھ سرحد بند کر کے مال برداری اور افراد کی آمد و رفت روک دی گئی ہے، تفتان سرحد پر کیمپ لگا کر اہتمام کیا گیا ہے کہ سرحد کی طرف سے آنے والوں کو یہاں قرنطینہ میں رکھا جائے اور تسلی کے بعد ان کو داخلے کی اجازت دی جائے۔

کرونا وائرس چین کے صوبائی دارالحکومت ووہان سے شروع ہونے کی اطلاع دی گئی اور اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے اور اب تک اموات کی تصدیق ڈھائی ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔چینی شعبہ صحت اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کے علاج کے لئے دن رات کوشش کر رہا ہے،تاہم کہا یہ جا رہا ہے کہ تاحال شافی علاج دریافت نہیں ہوا۔چین کے اندر تحقیق شروع کی جا چکی تو دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی کوشش کر رہے ہیں،تاہم پاکستان میں ابھی کوئی نہیں کی گئی، شاید چین پر بھروسے ہی کی وجہ سے ایسا نہیں کیا گیا،حالانکہ ہماری طبی ریسرچ کونسل کو اس وائرس کا علاج ڈھونڈنے کے لئے کام کرنا چاہئے تھا۔یوں بھی اب تک جو احتیاطی تدابیر بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نیم گرم پانی پیا اور استعمال کیا جائے۔

یہ ممکن تو ہے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ چینی تو اپنی سماجی روایت کے مطابق پیتے ہی نیم گرم پانی ہیں،اس کے باوجود متاثر ہیں۔بہرحال ایک بزرگ شہری کا کہنا ہے کہ جو علامات اور جسم کو متاثر کرنے والے حصے بتائے گئے ہیں ان کے لئے یہاں بہترین نسخہ جوشاندہ ہے، اور لوگوں کو پیش بندی کے طور پر جوشاندہ استعمال کرنا چاہئے اور یہ جوشاندہ، جوہر جوشاندہ کی طرز پر نہ ہو،بلکہ جڑی بوٹیوں والا لے کر اسے اُبال لیا جائے اور وہی استعمال کیا جائے۔ ان بزرگ کا کہنا ہے کہ اب تک جو بتایا گیا وہ یہ ہے کہ کرونا وائرس نزلہ قسم کی ایک بیماری ہے، اس میں پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں،اِس لئے بہتر ہو کہ جوشاندہ بنا کر دن میں دو تین بار پی لیا جائے اور یہ سلسلہ ہر گھر میں ہو اور گھر کے تمام افراد استعمال کریں، بچوں کو دوا کی طرح چمچوں سے پلایا جائے تو یہ بہترین احتیاط ہو گی، ویسے ہمارے محکمہ صحت کی طرف سے پانی پینے، گلا اور ہونٹ تر رکھنے، سبزیاں زیادہ استعمال کرنے اور پُرہجوم جگہ سے گریز کی جو احتیاط بتائی جا رہی ہے ان میں پُرہجوم جگہ والی احتیاط مضحکہ خیز لگتی ہے کہ لوگوں نے کاروبار کے لئے گھر سے باہر تو نکلنا ہی ہوتا ہے اور پھر بسوں اور ریل گاڑیوں میں بھی سفر کرنا ہوتا ہے،اِس لئے یہ اجتناب ناممکن ہے البتہ اس ہدایت پر عمل ہو سکتا ہے کہ میڈیکل ماسک استعمال کیا جائے،اس سلسلے میں بھی سن لیں کہ ابھی یہ وباء پاکستان تک نہیں پہنچی تھی اور چین تک ہی محدود تھی تو ماسک کے نرخ دوگنا ہو گئے تھے،حتیٰ کہ پندرہ روپے والا پچاس روپے کا بکا،اب اگر حکومت ہی کی طرف سے ماسک کا مشورہ دیا جا رہا ہے تو پھر حکمرانوں کو یہ اہتمام بھی کرنا چاہئے کہ حالات سے فائدہ اٹھا کر منافع خوری کا عمل نہ شروع کر دیا جائے، جو بلاشبہ کر دیا گیا ہے، اسی طرح توقع کرنا چاہئے کہ ہمدرد اور قرشی جیسے جو ادارے پاکستان میں طب ِ یونانی کے مطابق ادویات بنا اور فروخت کر رہے ہیں،وہ اب جوشاندہ کے پیکٹ بھی بنانا شروع کریں کہ بازار میں تحفظ کے لئے کوئی دوا نہیں۔ پیرا سیٹا مول اور پینا ڈول جیسی بخار کش ادویات دستیاب ہیں۔ یہ ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنا چاہئیں، ڈاکٹر حضرات کو بھی علامات اور استعمال کی ہدایات جاری کرنا چاہئیں، خود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اس سلسلے میں پیش رفت کریں۔

اب ہم عام شہریوں کے استفسارات کی بات بھی کر ہی لیں، جو پوچھتے ہیں کہ چین میں کوئی آج سے تو چمکادڑ اور سانپ وغیرہ کے گوشت استعمال ہونا شروع نہیں ہوئے یہ تو بہت پہلے سے ہو رہے ہیں، تو پھر یہ وباء اب کیوں؟ یہ حضرات اس بات کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں اور اندر خانے کسی اور وجہ کا ذکر کر رہے ہیں،ان کے مطابق اگر وجوہات یہی ہوں تو پھر ماضی میں اب کیوں نہیں ہوا، انہی میں بعض شدت سے تنقید کرنے والے نقاد یہ پوچھتے ہیں کہ وائرس کا نام بھی دے دیا گیا۔ علامات بھی ظاہر کی گئیں تو پھر یہ پہلی بار کیوں؟ یہ حضرات یاد کرا رہے ہیں کہ ایڈز کا مرض بھی اسی طرح اچانک پھیلا اور اس نے کئی قیمتیں جانیں لیں،اس کی وجہ بھی نہ بتائی گئی،لیکن شکی مزاج حضرت نے بتا دیا کہ ایڈز کا وائرس ”بائیولوجیکل وار“ (جراثیمی جنگ) کا حصہ تھا یہ وائرس بنا کر پھیلایا گیاجس سے کئی اموات ہوئیں،اکثر حضرات طویل علالت کا بھی شکار ہوئے، پھر تحقیق اور علاج کی طرف توجہ دی گئی۔یہ وبائی صورت اختیار کر چکی تھی،احتیاطی تدابیر کے باعث اس کی شدت میں کمی آئی،لیکن یہ مرض اب بھی موجود ہے،اِس لئے خدشہ ہے کہ کرونا وائرس بھی کوئی ایسی ہی کوشش نہ ہو۔ بہرحال اس وائرس کی پاکستان میں موجودگی ثابت ہو جانا لمحہ فکریہ ہے، لوگ سہم گئے ہیں،اِس لئے بہتر ہے کہ احتیاطی تدابیر کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے اور شافی علاج کی کوشش کی جائے، اللہ پاکستان کو اِس سے نجات ہی میں رکھے۔

مزید : رائے /کالم