تیری بکل دے وچ چور نی

تیری بکل دے وچ چور نی
 تیری بکل دے وچ چور نی

  



حکمرانوں کو آج ڈیڑھ سال بعد پتہ چلا ہے کہ بہت سے مافیاز اس ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہی نہیں، تسلسل سے بگاڑ کا باعث ہیں۔ میرے جیسے بہت سے لوگ، جنہوں نے اس بار تبدیلی کوووٹ اس لئے دیا تھا کہ اس بار الیکشن لڑ کر آنے والے سبھی نئے لوگ ہوں گے، مسلسل اقتدار میں رہنے والے مافیا سے ہٹ کرہم میں سے ہوں گے اور ان آنے والوں کو عوام کی مشکلات کے حوالے سے ہر بات کا احساس ہو گا۔اسی آس میں سب سے پہلے الیکشن سے چند روز قبل لوگوں نے یک دم ٹپکنے والے الیکٹ ایبل مافیا کو مجبوری سے برداشت کیا۔ پھر کئی مافیاز لوگوں کی حیرانی اور پریشانی کے باوجود حکومت کے شریک کار ہوتے گئے اور آج عملاً عمران خان کے نام پر مافیاز اس ملک پر راج کرتے ہیں۔کون سا شعبہ ایسا ہے کہ جہاں مافیہ موجود نہیں اور المیہ یہ ہے کہ مافیا کو محسوس کرنے اور اس کے طریقہ کار کو جاننے اور سمجھنے کا حکمرانوں میں شعور بھی نہیں۔جب مافیا زور پکڑتا ہے اور اس کی زد میں آ کر کوئی بڑا نقصان ہوتا ہے تو تھوڑی بڑھک بازی ہوتی ہے، روایتی انکوائری ہوتی ہے اور نتیجہ کچھ نہیں ہوتا،کیونکہ مافیا کے نمائندے ذاتی طور پر حکومت میں موجود ہوتے ہیں جو بگاڑ کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں اور اس کو خوبصورت موڑ دے کر اپنا دامن بچانا اور ہر صورت حال کو سنبھالنے کا فن جانتے ہیں۔ انہیں ہر صورت حال میں اپنے مفادات پورے کرنا ہوتے ہیں اور وہ کرتے ہیں۔یہ ہر حکومت میں ہوتا تھا اور اب بھی ہو رہا ہے۔عمران خان کبھی اپنی بکل کے نیچے جھانک لیں تو انہیں پتہ چلے کہ سارے مافیاز اور سارے چور وہیں پناہ لئے بیٹھے ہیں۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کہتے ہیں کہ ملک میں ریسرچ کا معیار اعلیٰ درجے کا ہے۔ حکومت نے پہلی بار 19 جنوری کو یوم تحقیق منایا ہے۔ ماشاء اللہ وزیر تعلیم کے شعور کا اندازہ ہو رہا ہے، ان کی با خبری کی داد دینی چائیے۔ریسرچ کس طرح ہو رہی ہے اور کہاں ہو رہی ہے؟ صرف انہیں علم ہے، پھر انہوں نے ایک نئی بات کہی جو ان کی پہلی بات کی کھلی تردید ہے۔ انہوں نے گلا کیا کہ ہمارے ملک میں پی ایچ ڈی حضرات کو نوکری نہیں ملتی اور جہاں پی ایچ ڈی کرنے والے کو نوکری نہ ملے تو وہاں نظام تعلیم میں کچھ مسئلہ ضرور ہے۔ وزیر تعلیم صاحب! کبھی وقت ملے تو غور کریں تو تعلیم بھی ایک مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ یہ مافیا کوئی اور نہیں،۔ محکمہ تعلیم میں موجود پی ایچ ڈی مافیا ہے۔نوے کی دہائی تک اس نے مافیا کی شکل اختیار نہیں کی تھی۔ اس وقت بھی وہ فنکار جو گریڈوں کے چکر میں ہوتے تھے، کہیں سے کوئی مقالہ ڈھونڈھ لیتے تھے، اسے ہلکی پھلکی ترمیم کے ساتھ دوبارہ لکھتے اور اپنی یونیورسٹی میں جمع کروا کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لیتے۔

ایسے لوگوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی، زیادہ تر لوگ کسی حد تک محدود وسائل کے ساتھ محنت سے کام کرتے اور قوم کی خدمت کا کام کرتے تھے۔ 1947ء میں وجود میں آنے والے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی کارکردگی بھی شاندار تھی۔ 2002 ء میں پی ایچ ڈی مافیا کے جد امجد نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ختم کرکے ہائر ایجوکیشن کمیشن تشکیل دیا۔وہ صاحب گفتار کے غازی اور پیپر بازی کے انتہائی ایکسپرٹ تھے، انہوں نے پرویز مشرف دور کے سبھی عہدیداروں کو کمال ماموں بنایا۔زبانی کلامی کئی ٹیکنالوجیز کاغذوں میں متعارف ہوئیں اور پاکستانی یونیورٹیوں کو کاغذوں ہی میں بام عروج تک پہنچا دیا۔یونیورسٹیوں کو پی ایچ ڈی کی ہیچریاں بنا دیا۔ہر اکیس دن بعد کوئی نہ کوئی پی ایچ ڈی چوزہ دنیائے وجود میں ظہور پذیر ہو جاتا ہے……ان جد امجدکی کمال مہربانی سے اب پی ایچ ڈی کرنے میں جدت بھی آ گئی ہے۔پوری دنیا کی یونیورسٹیاں آن لائن ہیں،کسی بھی یونیورسٹی کا کوئی بھی مقالہ اگر آپ کو پسند آ جائے اور آپ کے مطلب کا ہو، اسے کاپی کر لیں۔ سرقے کو دیکھنے کے بہت سے سوفٹ وئیر آ چکے ہیں اور اب تو ان میں یہ خوبی بھی ہے کہ آپ اس سوفٹ وئیر کو کمانڈ دے دیں کہ سرقہ ختم کر دو۔ چند منٹ میں سارے کا سارا مقالہ نئے لفظوں میں بدل کر آپ کے سامنے ہو گا۔ اس کے علاوہ بہت سی فرمیں کام کر رہی ہیں، آپ کوئی بھی مقالہ لکھوانا چاہتے ہوں، ان کو عنوان بتا دیں ایک ہفتے میں ہر نقص سے پاک مکمل مقالہ آپ کو مل جائے گا۔ تھوڑے پیسے خرچ ہوں گے، لیکن شاندار کام آپ کا منتظر ہو گا۔ کچھ سائٹس ایسی ہیں کہ دنیا بھر میں آپ کے کسی بھی ہم نام کا کوئی مقالہ یا ریسرچ پیپر منظر عام پر آئے،۔ تھوڑے سے پیسوں کے عوض اس کی کاپی آپ کو مہیا کر دیں گی۔ نام تو پہلے ہی آپ کا ہے، اب مقالہ بھی آپ کا۔

وزیر تعلیم صاحب! ذرا سوچیں کہ وہ قوم جو سوچنے سے عاری ہو، تباہی اس کا مقدر ہوتی ہے۔ آپ کا موجودہ ہائر ایجوکیشن کمیشن تو ایجو کیشن مافیا کا گڑھ ہے۔ یہاں کوئی ایک شخص دکھا دیں، جس نے چند معقول سال ٹیچنگ کی ہو۔ پورے ملک کا کوئی ایسا پی ایچ ڈی دکھا دیں جس کی ریسرچ کا کوئی حصہ کبھی سلیبس میں شامل ہوا ہو یا اس کی ریسرچ سے زندگی کے کسی شعبے میں کسی نے اس سے استفادہ کیا ہو۔ کالجوں میں کام کرنے والے پی ایچ ڈی پڑھانے سے معذور ہیں، انہیں ایڈمنسٹرٹیو پوسٹوں کی حرص ہوتی ہے، نیم بیوروکریٹ بننا ان کی خواہش ہوتی ہے اور پی ایچ ڈی اس کا آسان راستہ۔ یونیورسٹیوں میں صورت حال قدرے بہتر ہے کہ یہاں ریسرچ نام کا کھیل بھی ہوتا ہے۔ آپ بھی پی ایچ ڈی ہیں، یقینا کہیں گے کہ آپ کو بہت کام کرنا پڑا تھا…… مگر سچ یہی ہے کہ پاکستان میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنا سب سے آسان ہے۔یہاں فزکس کے مقالے کے ریفری ریاضی اوراردو سے بھی لئے جا سکتے ہیں، صرف مافیا سے مضبوط رابطہ شرط ہے۔ یہاں سب سے مشکل کام ہے بی ایس اور بی ایس سی کو پڑھانا۔بی ایس کے بعد کی ڈگریاں فقط فنکاری ہے، علمیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔آ پ کی ہائر ایجوکیشن کے کوے ہنس کی چال چلنا چاہتے ہیں، غیر ملکی یونیورسٹیوں کی برابری میں شارٹ کٹس آزما رہے ہیں، پی ایچ ڈی کے حوالے سے تعلیمی نظام تباہ کیا جا رہا ہے، مگر حکومت کو احساس اس وقت ہو گا، جب اگلے دو چار سال میں تعلیم مکمل تباہی سے دو چار ہو چکی ہو گی۔

جناب وزیر صاحب!ایجوکیشن مافیا کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ پہلے انہوں نے پی ایچ ڈی کے حوالے سے یونیورسٹیوں کو بہترین اساتذہ سے محروم کیا ،پھر جب پڑھانے والا کوئی نہ رہا تو بی ایس کی کلاس یونیورسٹیوں میں متعارف کرا دی۔ بی ایس کے طلبہ کو پڑھانے کے لئے یونیورسٹیوں میں آپ کے پاس استاد ہی نہیں۔آپ سے گذارش ہے کہ بچوں کے مستقبل کو تباہی سے بچائیں، ریسرچر اچھا استاد نہیں ہوتا، اس کا مزاج ہی مختلف ہوتا ہے۔یونیورٹیوں میں پروموشن کے لئے اچھے ٹیچر کا معیار یہ ہے کہ اس کے کاغذات باہر کسی ریفری کو بھیج دئیے جاتے ہیں۔ جو ہمیشہ واہ واہ ہی کہتا ہے، مگر یہ کوئی معیار نہیں۔اچھے ٹیچر کی گواہی اس کے شاگرد دیتے ہیں۔ کلاس روم اسیسمنٹ کو معیاری بنائیں، مگر اس کے لئے کوئی فول پروف طریقہ اپنائیں، کیونکہ چند سال پہلے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ دیا جاتا تھا اور وہ ہمیشہ اس ٹیچر کو ملتا تھا جو کلاس روم میں جانے کی بجائے ہمیشہ پرنسپل یا وائس چانسلر کے کمرے کے گرد گھومتا دکھائی دیتا تھا۔ دوسرا کلاس روم کا تجربہ ہونا ضروری قرار دیا جائے۔

جو پڑھا نہیں سکتا، اسے انتظامی پوسٹوں پر تعینات کرنا تو تعلیم کے ساتھ ایک مذاق ہے۔یہ کیوں ہے کہ محکمہ تعلیم وہ واحد محکمہ ہے جہاں لوگ اصل کام،یعنی پڑھائے بغیر صرف کاغذی کارروائی کے نتیجے میں اوج پر ہوتے ہیں ……جناب وزیر تعلیم صاحب! یہ صرف آپ کی ناکام پالیسیوں کا کمال ہے کہ زیرو ہیرو بنے پھرتے ہیں۔یونیورسٹیوں کی نوکری اور وہاں کا ماحول اپنے فضول میرٹ کے سبب ان کے لئے جنت سے کم نہیں۔ آج گریڈوں کی پالیسی کو کسی اچھی میرٹ پالیسی میں بدل دیں تو آپ کا یہ گلہ کہ پی ایچ ڈی کو نوکری نہیں ملتی، دور ہو جائے گا، کیونکہ پھر پی ایچ ڈی وہی کرے گا جس کو ریسرچ پسند ہو گی۔ پچھلے دس بارہ سال میں پی ایچ ڈی کرنے والے چند لوگوں کے سوا سارے نئے فنکار پی ایچ ڈی کسی کوڑے دان کی زینت ہوں گے۔ آپ پی ایچ ڈی لوگوں کی نوکریوں کے بارے فکر کرنا چھوڑ دیں، ہمارے نئے پی ایچ ڈی حضرات کو کچھ آتا ہی نہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کے آجر نہ تو پاگل ہیں اور نہ ہی سرکار کی طرح احمق، وہ کسی نالائق کو نوکری کیوں دیں گے؟

مزید : رائے /کالم