سندھ حکومت فروغِ ہندومت کی راہ پر

سندھ حکومت فروغِ ہندومت کی راہ پر
 سندھ حکومت فروغِ ہندومت کی راہ پر

  



سندھ حکومت کے وزیراطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے اتوار 23 فروری کو ہندوؤں کے سوامی نارائن مندر میں منعقدہ چار روزہ میلے کا دورہ کیا۔ اس دورے میں انہوں نے دیگر باتوں کے علاوہ ایک اعلان بھی کیا۔ انہوں نے سندھ حکومت کی طرف سے ہندو برادری کو ان کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کے دس ہزار نسخے دینے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان ایک طرف جہاں سندھ حکومت کی طرف سے اقلیتی آبادی کے لئے اعلان رواداری ہے، وہاں اس عمل سے حکومت سندھ کی ترجیحات بابت اقلیتی آبادی کا سراغ بھی ملتا ہے۔ہندو برادری میں ان کی مقدس مذہبی کتاب بھگوت گیتا کی اس تقسیم پر خرچ ہونے والی رقم اتنی نہیں ہے کہ اس پر کوئی تبصرہ کیا جا سکے۔ یہ ایک انتظامی عمل ہے اور حکومتیں اس طرح کے کام کرتی رہتی ہیں۔

مذہبی جماعتیں اور علمائے کرام اگر بھگوت گیتا کی اس تقسیم پر گرفت کریں کہ اسلامی ریاست کے خزانے سے ایک مطلقاً غیراسلامی مذہبی کتاب کی تقسیم محل نظر ہے تو یہ ان کا حق ہے۔ وہ اپنے زاویہ ہائے نگاہ سے بات کرتے ہیں۔ بجائے خود یہ بات لائق توجہ تو ہے، لیکن اتنی زیادہ بھی نہیں کہ اس پر سر کھپایا جائے۔ اقلتیی مذہبی آبادی کی جائز ضروریات کو پورا کرنا اسلامی ریاست کی ایک اہم ذمہ داری ہے، لیکن کیا ہندوؤں کومذہبی کتاب بھگوت گیتا کی فراہمی بھی ویسی ہی ایک ذمہ داری ہے؟ اس پر دو آراء ہو سکتی ہیں۔ہندوؤں کے کسی ادارے یا محروم وسائل افراد کو بھگوت گیتا کے چند نسخے دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ میری ذاتی رائے میں اس مذہبی کتاب کی اتنے وسیع پیمانے پرتقسیم نہ کی جاتی تو زیادہ بہتر تھا،البتہ میری اس رائے کے برعکس رائے رکھنے والے اورہندوؤں میں ان کی مذہبی کتاب بھگوت گیتا تقسیم کرنے والے بھی بہرحال واجب الاحترام ہیں …… مسئلے کی نوعیت البتہ ذرا دیگر انداز میں ہے،جس پر آج مَیں اپنے قلم کو زحمت دے رہا ہوں۔

سب جانتے ہیں کہ ہندوؤں میں ذات پات کا نظام نہایت مضبوط بنیادوں اور تاریخی طور پر مسّلم ہے۔ ہندوؤں کاسب سے اعلیٰ اور برترطبقہ برہمن کہلاتا ہے،یہی وہ طبقہ ہے جس نے پوری ہندو معاشرت کو جکڑ رکھاہے۔اس طبقے کی معاونت کرنے والے دیگر دو طبقے کھشتری اورویش ہیں۔ کھشتری ہندوؤں کی وہ برادری ہے جو لڑنے مرنے اور دفاع کرنے والے لوگ کہلاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنا وجود بھرپور انداز میں قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ برہمن ہندوؤں کے محافظ بھی ہوتے ہیں اور انہی کو برہمنیت کا دست و بازو قرار دیا جاتا ہے۔ ویش ہندوآبادی میں تاجر، صنعت کار اور کاشتکار آتے ہیں جو معاشرے کی معیشت اور اقتصادیات کا اہم ستون ہوا کرتے ہیں۔ رہی عام آبادی تو انہیں شودر یا اچھوت کہا جاتاہے۔ آج کل کی زبان میں آپ انہیں کمی کمین کہہ سکتے ہیں۔

یہ ہر لحاظ سے ان مذکورہ بالا تینوں زمروں کے خدمت گار، نوکر، غلام اور زر خرید ہی نہیں، مفت کے غلام ہوتے ہیں۔ رہے دلت، تو وہ ہندوؤں کے کسی بھی طبقے میں نہیں آتے، یہ ہندوہیں ہی نہیں ……تو پھر ان خطوط پراستوار پاکستان کی ہندو آبادی کی تقسیم کی تفصیلات کیا ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا آج میرے پیش نظر ہے۔ جواب ریاضی یا اقلیدی انداز میں دو جمع دو چار نہیں ہے۔ تحریک پاکستان کے ثمرات میں سے ایک پھل اللہ کی نعمت پاکستان ہمارے پاس موجود ہے، لیکن اسی تحریک پاکستان کے ضمنی اثرات کے باعث ہندوستان میں آباد مسلمانوں کے علاوہ دیگر بیشتر غیرہندو اقوام بھی ہندوؤں میں شمار ہونے لگیں یا بدقسمتی سے ہم مسلمانوں نے اور ہمارے متعدد اکابر زعما نے ان مختلف النوع اور آپس میں باہم بُعدالمشرقین رکھنے والی کئی غیر ہندو اقوام کو ہندو کہہ کر ہندوؤں کی تعداد میں اضافہ ہی کیا، کوئی لائق ستائش کام نہیں کیا۔ انہی متعدد اقوام میں سے ایک زمرہ دلت بھی ہے۔دلت نام کے نام نہاد ”ہندو“ فی الحقیقت ہندوستان کے وہ اصل باشندے ہیں، جن کے کئی نام ہیں، انہی میں سے ایک نام دراوڑ بھی ہے۔ یہی وہ دراوڑ لوگ ہیں جنہیں آریاؤں، یعنی برہمنوں نے مار مار کر صدیوں سے غلام بنا رکھا ہے۔ سوال ابھی تک باقی ہے۔

پاکستان میں ہندو سماج کا تعارف؟…… پاکستان میں کل غیرمسلم آبادی تین فی صد سے کم و بیش ہے،یعنی غیر مسلموں کی تعداد ساٹھ سے پینسٹھ لاکھ بنتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سندھ میں تیس تا پینتیس لاکھ ”ہندو“ آباد ہیں اور اسی تعداد کے اندر ہمارے سوال کا جواب ہے۔ یہ 30/35 لاکھ افراد غیرمسلم تو کہلا سکتے ہیں، یہ ہندو نہیں ہیں۔ ہندو وہی چار زمرے ہیں جن کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ رہے دلت اور دراوڑ تو یہ لوگ ہندوؤں کے مذکورہ بالا کسی زمرے میں نہیں آتے۔ ان لوگوں کو ہندو مت کے قریب کرنے کی خاطر گاندھی جی نے انہیں ہریجن کا نام دیا تھا، جس کا مطلب ہری کی اولاد ہے،مگر یہ نام نہیں چل سکا۔ جنوبی ہندوستان میں یہ لوگ خود کو لنگایت کہتے ہیں۔ہندوستان میں تعلیم، شعور اور آگہی کے باعث یہ لنگایت، دلت اور دراوڑ (وہاں کے دلت اور ہمارے ہاں کے نام نہاد ہندو) ہندوستان کی سپریم کورٹ میں جا پہنچے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق، یعنی خود ان کے مطالعہ جات کی روشنی میں وہاں ان کی تعداد آٹھ تا دس کروڑ ہے۔ سپریم کورٹ میں ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم کسی بھی اعتبار سے ہندو نہیں ہیں، ہمیں ہندو نہ کہا جائے۔ ہماری الگ سے شناخت ہے۔ ہم لنگایت ہیں،ہمیں ہندو نہیں، لنگایت کہا جائے۔ سندھ میں ان کی تعداد تیس لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔ رہے ہندو، اصل ہندو، یعنی اعلیٰ اور برتر برہمن تو پورے ملک میں یہاں ان کی تعداد چند ہزار ہی ہے۔ چند لاکھ کھشتری، ویش اور شودر ہیں۔ دلت یا خود کو دراوڑ کہنے والے یہ معصوم دلت افراد ملین میں ہیں۔ تعلیم اور وسائل نہ ہونے کے باعث سندھ کے اعلیٰ اور برتر برہمن ہندو ان دلت افراد کی شناخت، ہندو کے طور پر کراتے ہیں۔ پاکستان کے اصل برتر برہمن ہندو وسائل اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اندرون ملک اور بیرون ملک خوب روابطہ رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کی مسلسل نشرواشاعت کے باعث یہی برہمن لوگ ان دلت ”ہندوؤں“ کے نمائندہ کہلاتے ہیں،جبکہ حقیقت حال اس کے برعکس ہے۔ ہندوستانی سپریم کورٹ میں ان لنگایت لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہم کسی بھی اعتبار سے ہندو نہیں ہیں، ہمیں ہندو نہ کہا جائے۔ ہماری الگ سے شناخت ہے۔ ہم لنگایت ہیں،ہمیں ہندو نہ کہا جائے۔ پاکستان کے یہ لوگ ہندوؤں میں کیوں شمار کئے جاتے ہیں کہ جب یہ ہندوہیں ہی نہیں؟یہ توبعض صورتوں میں سندھ کے نیم مسلمان صوفی منش انسان ہیں۔

ان حالات میں سندھ حکومت کی طرف سے ان ”ہندوؤں“ کو ان کی مذہبی کتاب بھگوت گیتاکے دس ہزار نسخے دینے کا عمل مذہبی رواداری میں شمار کئے جانے کی بجائے، غیر ہندوؤں اور بعض صورتوں میں سندھ کے ان نیم مسلمان صوفی منش انسانوں میں ہندومت کی تبلیغ کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا سندھ حکومت نے کبھی اس پر بھی سوچا کہ سندھ کے ان نیم مسلمان صوفی منش انسانوں میں بہت غربت ہے، جہالت ہے، تو ان میں بھی سندھ کے ”ہندوؤں“ کی طرح دس ہزار نہ سہی، پانچ ہزار ہی سہی، قرآن کریم کے نسخے تقسیم کئے جائیں؟میرے پاس اس بدگمانی کا کوئی جواز نہیں ہے کہ مَیں سندھ حکومت کے اس خیرخواہانہ عمل کو کسی سازش پر محمول کروں، تاہم یہ کہنا میرے لئے بہت آسان ہے کہ سندھ حکومت نے برتر برہمن ہندو راہنماؤں کے کہنے اور ترغیب دینے پر جو کام کیا ہے، وہ اصل میں سندھ کے ان نیم مسلمان صوفی منش انسانوں میں ہندوتوا کے فروغ کی ایک شکل ہے۔ بے شک یہ کام نادانستگی میں ہوا ہو گا، لیکن اسے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ غیرہندوؤں اور نیم مسلمان صوفی منش انسانوں میں سرکاری سطح پر یہ ہندومت کی تبلیغ کی ایک شکل ہے۔ اس عمل کی اجازت نہ تو پاکستان کے عوام دیتے ہیں اور نہ ہمارا آئین اس رخ پر چلنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

تاہم اس تحریر سے یہ ہرگز نہ سمجھ لیا جائے کہ ہندو، دلت یا دیگر مذہبی اقلیتیں کوئی کم تر یا دوسرے درجے کے شہری ہیں، ہرگز نہیں! ……پاکستان میں آباد تمام مذہبی وحدتیں یکساں اور برابر کے شہری حقوق کے حق دار ہیں۔ دلت یا ان دیگر محروم وسائل مذہبی طبقات کا اصل مسئلہ نہ تو انہیں کسی دوسرے مذہب پر پختہ کرنا ہے، نہ انہیں اسلام سے دور کرنا حکومتوں کے سامنے رہنا چاہیے۔ صوبائی حکومت کا اصل کام ان شہریوں کو بلاامتیاز مذہب شہری سہولتیں مہیا کرنا ہے۔ ملک کے بعض حصوں میں اللہ کی یہ معصوم مخلوق انسانی فضلہ تک اٹھاتی ہے، لیکن روپ بدل کر آنے والے سیاسی راہنما انہیں کبھی اس طرح کی مذہبی افیون کی پینک میں مخمور کر دیتے ہیں تو کبھی انہیں وزیراعظم کے منصب پر فائز کرانے کا لالچ دیتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ حکومتیں ان لوگوں کو تعلیم، روزگار اور دیگر شہری حقوق بہم پہنچائیں۔ جب کبھی یہ لوگ تعلیم کے میدان میں دیگر شہریوں کے اس قدر ہم پلہ ہو جائیں گے کہ پاکستان کے مسیحی چیف جسٹس جناب کارنیلس کی طرح خود کو مذہباً مسیحی، لیکن دستوری مسلمان قرار دے دیں تو اس وقت ان میں سے کسی کو وزیراعظم بنانے پر شاید سوچا جا سکے۔ تب تک سندھ حکومت براہ کرم ان لوگوں کو شہری سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دے تو بہتر ہے۔ سندھ حکومت کاہندو برادری کو ان کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کے دس ہزار نسخے دینے کا اعلان سرکاری سطح پر ہندومت کی تبلیغ کی ایک شکل ہے۔ اس عمل کی اجازت نہ تو پاکستان کے عوام دیتے ہیں اور نہ پاکستان کا آئین اس رخ پر چلنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

مزید : رائے /کالم