پنجاب پولیس…… وہی کہانی، بڑی پرانی

پنجاب پولیس…… وہی کہانی، بڑی پرانی
 پنجاب پولیس…… وہی کہانی، بڑی پرانی

  



وزیر اعظم عمران خان نے میانوالی میں خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے آئی جی شعیب دستگیر کو یہ سنہری فارمولا دیا کہ وہ بڑے چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑیں، چھوٹے چور اور ڈاکو ویسے ہی توبہ تائب ہو جائیں گے۔ کیا آئی جی پنجاب اس فارمولے پر عمل کر سکیں گے؟ ہر بڑے چور اور ڈاکو کے پیچھے تو کوئی نہ کوئی با اثر مافیا ہوتا ہے، مافیا نہ ہو تو خود پولیس والے اس کی پشت پناہی کر رہے ہوتے ہیں …… پھر سوال یہ بھی ہے کہ کیا پولیس کا کام صرف چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑنا ہے، یا عوام کو تحفظ بھی دینا ہے؟ یہ تو کوئی آئیڈیل صورت حال نہیں ہو گی ……تو کیا چور اور ڈاکو عوام کو لوٹتے رہیں اور پولیس انہیں پکڑتی رہے۔ اس کا مطلب ہے چوروں اور ڈاکوؤں کی افزائش تو نہ رک سکے، البتہ ان کی گرفتاریاں بڑھ جائیں۔جس طرح دہشت گردوں کو واردات کے بعد پکڑنا اتنا سود مند نہیں ہوتا، اسی طرح چوروں اور ڈاکوؤں کا واردات سے پہلے ان کی کمین گاہوں میں قلع قمع کرنا اصل کامیابی ہے اور یہ کامیابی پولیسنگ میں انقلابی تبدیلیاں لائے بغیر ممکن نہیں۔

پولیس ایک ڈاکو پکڑتی ہے تو دس دوسرے ڈاکو شہر کے مختلف حصوں میں واردات کر چکے ہوتے ہیں۔ وہ کہاں چھپے ہوتے ہیں، کہاں پناہ لیتے ہیں، واردات کے بعد کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟ اس کا کھوج لگانا ایک اچھی پولیسنگ کا ثبوت ہو سکتا ہے۔ کہیں بھلے وقتوں میں ایس ایچ او ایک ایسی قوت ہوا کرتا تھا، جس کی حدود میں چڑیا بھی اس کی مرضی کے بغیر پر نہیں مار سکتی تھی۔ اس کی مخبری کا نظام اسے پل پل کی خبر دیتا تھا کہ کون کس محلے میں آیا ہے اور کیا کر رہا ہے؟ حالانکہ اس زمانے میں یہ قانون بھی موجود نہیں تھا کہ کسی کو مکان کرایہ پر دیا جائے تو اس کی معلومات متعلقہ تھانے کو فراہم کی جائیں۔ اب تو گلی محلوں میں جرائم پیشہ گینگ رہتے ہیں، مگر پولیس کو اس وقت خبر ہوتی ہے، جب وہ کسی واردات کے بعد اتفاق سے پکڑے جاتے ہیں۔

وزیر عمران خان ایک زمانے میں تھانہ کلچر تبدیل کرنے کے بہت بڑے مبلغ رہے ہیں، خاص طور پر پنجاب پولیس کو وہ ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتے رہے کہ اسے سیاسی و ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اب میانوالی میں ان کی گفتگو سن کر یوں لگ رہا ہے کہ وہ تھانہ کلچر کی تبدیلی تو بھول گئے ہیں، بس بڑے چوروں اور ڈاکوؤں کی گرفتاری چاہتے ہیں۔ یہ کام تو پولیس تھوڑا بہت پہلے بھی کر ہی رہی تھی، اصل کام تو یہ ہے کہ پولیس کو عوام دوست بنایا جائے، اس میں سے کرپشن کے زہر کو نکال باہر کیا جائے، اسے واقعی نظام انصاف کی پہلی سیڑھی بنانے کی طرف توجہ دی جائے۔ اس جانب تو کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔

وہی تھانے ہیں،وہی ان کا پُر خوف کلچر ہے۔ افسرں کی وہی بڑھکیں ہیں کہ جرائم پیشہ افراد کی ان کے علاقے میں کوئی گنجائش نہیں …… اور وہی پے در پے وارداتیں، لوٹ مار اور قتل و غارت گری کے واقعات ہیں، جو پہلے سے معاشرتی وجود کو تہہ و بالا کئے ہوئے ہیں۔ کاش وزیر اعظم عمران خان آئی جی پنجاب سے دوسرے پہلو پر کام کرنے کی فرمائش کرتے، انہیں کہتے کہ پولیس کو عوام دوست بنائیں، تھانوں کو دارالفلاح میں تبدیل کریں، پولیسنگ کو نتیجہ خیز بنائیں، عوام کے تعاون سے جرائم کی شرح میں کمی لائیں، پولیس کے بارے میں عوام میں پایا جانے والا منفی تاثر بدلیں، مگر انہوں نے یہ ٹاسک دینے کی بجائے آئی جی پنجاب کو بڑے چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑنے کا ٹاسک دے دیا۔ یہ کام تو انگریزوں نے بھی اپنے زمانے میں پولیس کے ذمے لگایا تھا، بلکہ پولیس آرڈر بنایا ہی اس نقطہء نظر سے تھا کہ پولیس پکڑ دھکڑ کرے، یہی اس کی اصل کارکردگی ہے، حالانکہ پولیس کی اصل کارکردگی عوام میں تحفظ کا احساس اُجاگر کرنا ہے اور یہ کام قانون پر عملدرآمد، نیز پولیس پر عوام کا اعتماد بحال کئے بغیر ممکن نہیں۔

ایک زمانے میں ہمارے کپتان کی کوئی تقریر خیبرپختونخوا پولیس کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ہم نے خیبر پختونخوا میں پولیس کو سیاسی جبر سے آزاد کر دیا ہے، وہ آئیڈیل پولیس بن گئی ہے، لوگ تھانوں میں جاتے ہوئے خوف محسوس نہیں کرتے، بغیر رشوت اور سفارش ان کا کام بھی ہو جاتا ہے، کوئی طاقتور پولیس کو کمزور کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا، پولیس میرٹ پر کام کرتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو عمران خان نے اسی جوش و جذبے کے تحت سابق آئی جی خیبرپختونخوا ناصر درانی کو پنجاب پولیس میں اصلاح کا کام بھی سونپ دیا۔ یہ کپتان کی سادگی تھی یا حقائق سے لا علمی کہ وہ پنجاب کے سیاسی کلچر اور پولیس کو اس سے الگ کرنے کے عمل کو ایک آسان کام سمجھ بیٹھے۔ ان کا خیال تھا کہ ناصر درانی وہی جادو کی چھڑی یہاں بھی گھما کر سب کچھ ٹھیک کر دے گا، مگر جلد ہی ناصر درانی اور خود وزیر اعظم عمران خان کو علم ہو گیا کہ پنجاب صحیح معنوں میں پولیس اسٹیٹ ہے۔ یہاں پولیس کے بغیر اقتدار تک برقرار رکھنا نا ممکن ہے۔ پنجاب پولیس میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ تمیز بندہ و آقا ختم کر سکے۔ یہاں کی ریاست، برداری ازم اور پولیس کی بنیاد پر چلتی ہے۔ پولیس ملازمین نے اپنے اپنے قبلے بنا رکھے ہیں اور ان کی پشت پر کوئی نہ کوئی طاقتور سیاسی ہاتھ موجود رہتا ہے۔ یہ وہی طاقتور سیاسی ہاتھ ہے جو علاقے میں اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لئے پولیس کو استعمال کرتا ہے، جس کا سیاست میں آنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ پولیس اور تھانے پر اپنا کنٹرول قائم رکھا جائے۔ جو ضلع کے ڈی پی او اور علاقے کے ایس ایچ او کی تعیناتی کو اپنا سب سے بڑا استحقاق سمجھتا ہے،جبکہ خیبرپختونخوا اور ناصر درانی فار مولے میں اس بات کی تو گنجائش ہی موجود نہیں۔

کیا سب نے دیکھا نہیں کس طرح شعیب دستگیر کی تعیناتی اور ان کی طرف سے میرٹ پر پولیس افسر لگانے کے خلاف ارکانِ اسمبلی کے گروپ اور اتحادیوں نے ٹف ٹائم دے کر بالآخر اپنے مطالبات کو منوا لیا۔ کس طرح وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو ان لوگوں کے سامنے بٹھا کر یہ ہدایات دیں کہ ان کی باتیں مانی جائیں۔ سو ایسے حالات میں وزیر اعظم آئی جی کو یہ ہدایت تو نہیں دے سکتے تھے کہ وہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کریں اور تھانوں میں میرٹ کا نظام لائیں، اس کے بجائے انہوں نے آئی جی کو چھوٹے چوروں اور ڈاکوؤں کی بجائے بڑے ڈاکوؤں کو پکڑنے کی ہدایات جاری کر دیں ……سنا ہے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر ایک اچھے اور ایماندار افسر ہیں،لیکن مَیں سردار محمد چودھری مرحوم کو بہت قریب سے دیکھ چکا ہوں۔ وہ پنجاب کے بڑے دبنگ آئی جی تھے۔ ایماندار اور دانشور پولیس افسر کہلاتے تھے، مگر سیاسی دباؤ کے آگے بے بس تھے، حالانکہ وہ نواز شریف کے اس سے بھی کہیں زیادہ قریب تھے، جتنے آج شعیب دستگیر عمران خان کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ وہ پولیس کلچر کو بدلنے کے لئے بہت اچھی تقریریں کرتے تھے، لیکن عملاً اس لئے کچھ نہیں کر سکتے تھے کہ نوازشریف یہ نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے مجھے خود ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کئی بار ایک اچھے پولیس افسر کو سیاسی دباؤ کی وجہ سے دل پر ہاتھ رکھ کر تبدیل کرنا پڑتا ہے اور کسی بڑے افسر کو تمام تر ثبوتوں کے باوجود تبدیل نہ کرنے کا حکم قبول کرنا پڑ جاتا ہے۔ سو یہ صورت حال تو آج بھی ہے، بس کردار بدل گئے ہیں، کہانی تو وہی پرانی چل رہی ہے۔

مزید : رائے /کالم