کالم نگاری کے لئے ایک جدید انداز کی ضرورت(2)

کالم نگاری کے لئے ایک جدید انداز کی ضرورت(2)
 کالم نگاری کے لئے ایک جدید انداز کی ضرورت(2)

  



کل کے کالم میں کالم نگاری کے مروجہ اصول و ضوابط اور روایات میں تبدیلی کی ضرورت پر بحث کی گئی تھی۔ مغرب میں شائع ہونے والے اخبارات میں کالم نگاری کے اسلوبِ تحریر میں ایک عرصے سے تبدیلی آ چکی ہے۔ جہاں ہمارا کالم نگار صرف اپنے ذاتی تجربات و مطالعات کی Input کا سہارا لیتا ہے اور موضوعِ زیرِ بحث پر نقد و نظر کرتا ہے وہاں مغربی دنیا میں وہ اپنے تجربات کے علاوہ مختلف لوگوں کی آرا اور ان کے نقد و نظر کو بھی شاملِ کالم کر لیتا ہے۔ان لوگوں کا نام اور ان کا موجودہ شغل کیا ہوتا ہے اور ان کا موضوع کے ساتھ کس معیار کا تعلق ہوتا ہے، اس کا باقاعدہ حوالہ دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات چار چار پانچ پانچ مقامات اور اشخاص کی رپورٹوں اور ان کے تجربات کا ذکر کرکے زیرِ بحث موضوع کو زیادہ بااعتماد بنا دیا جاتا ہے…… ایک مثال سے اپنی بات واضح کرنی چاہوں گا۔

آج کل ساری دنیا میں کرونا وائرس کی ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ یہ وائرس اب پاکستان میں بھی وارد ہو چکا ہے۔ پرسوں (26فروری) کی کسی فلائٹ سے ایک مسافر ایران سے پاکستان آیا۔ اس کا نام یحییٰ جعفری بتایا گیا ہے۔ اس میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اب اسے کسی نجی ہسپتال میں داخل کرکے اس کا علاج کیا جا رہا ہے۔ جس جہاز میں وہ شخص ایران سے آیا اس کے ہمراہ آنے والے دیگر پاکستانی مسافروں کا پتہ لگایا جا رہا ہے اور خود یحییٰ جعفری کے اہلِ خانہ میں بھی اس وائرس کے ہونے یا نہ مرنے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ صحت کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کا ایک بیان بھی نجی چینلوں پر نشر کیا جا رہا ہے کہ وہ تفتان گئے ہوئے ہیں اور کل وہاں سے واپس آکر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ جب یہ سطور آپ کی نظروں سے گزریں گی تو ان کی پریس کانفرنس ہو چکی ہو گی۔انہوں نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے دو مریض زیر علاج ہیں۔

اب جو پاکستانی کالم نگار کرونا وائرس کے اس موضوع پر کوئی کالم سپرد قلم کرے گا تو وہ پہلے تو ان ممالک کا ذکر کرے گا جن میں اس وائرس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں اموات ہو چکی ہیں اور ہزاروں مریض زیرِ علاج ہیں۔ ان ممالک میں چین سرفہرست ہے کہ جس سے یہ وائرس شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد ایران اور اٹلی کا نمبر لیا جا رہا ہے۔ یورپ کے کئی ممالک بھی اس کی زد میں ہیں۔ شمالی امریکہ، کینیڈا اور یونان میں مریضوں کی توثیق ہو چکی ہے۔ جو خطے اس سے ہنوز بچے ہوئے ہیں ان میں عرب ممالک، جنوبی امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ شامل ہیں …… (حج کے ایام نزدیک آتے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے حجاج کرام میں یہ مرض پھیل کر امتِ مسلمہ کو ایک بڑی مصیبت میں گرفتار کردے۔)…… پاکستان میں اس وائرس کا نزول خطرے کی گھنٹی ہے۔ میں اپنے ہاں کے اسلوبِ کالم نگاری کی بات کررہا تھا…… اس وائرس کے بارے میں سطورِ بالا میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے، پاکستانی کالم نگار کافی دنوں سے اس کو پھیلا بڑھا کر اور اس میں اپنی آراء اور ذاتی تبصروں کا تڑکا لگا کر کالم لکھتے جا رہے ہیں …… اللہ اللہ خیر سلا!

لیکن مغربی اخبارات میں اس وائرس کی کوریج کا جو اسلوب ہے وہ بالکل مختلف ہے۔ میں تین پہلوؤں کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں …… ایک یہ کہ مغرب کے کالم نویس اپنے کالموں میں بلیک اینڈ وائٹ تصاویرشامل کرنے سے نہیں کتراتے۔ آج کل انٹرنیٹ کا زمانہ ہے اور کسی بھی خبر کے ساتھ اس کی تصاویر (Images) کا ہونا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ ہمارے اخباروں میں جو کالم نویس لکھتے ہیں ان سب کے پاس سمارٹ موبائل موجود ہیں، سب کو وائی فائی وغیرہ کی سہولیات بھی میسر ہیں اگر وہ اپنے کالم میں کوئی ایسی تصویر / خاکہ/ نقشہ دینا چاہیں جو مندرجاتِ کالم کو سپورٹ کرتا ہو اور قارئین کے معلومات میں اضافے کا سبب بھی ہو تو ہمارے اخبار بڑی آسانی سے اس روش کو درخورِ توجہ بنا سکتے ہیں۔ مقصود اگر قارئین کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنا ہے تو تحریر کے ساتھ تصویر کا اضافہ کرنا قابلِ اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ آج کل فنانشل کرنچ کی وجہ سے اردو اخبارات کا سائز کم کیا جا چکا ہے اور اسی نسبت سے ادارتی صفحہ / صفحات کے کالموں کا حجم بھی کم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ تاہم جیسا کہ میں نے پہلے بھی کسی کالم میں گزارش کی تھی کہ ادارتی صفحہ پر کالموں کا سائز کم کرنے کی بجائے ان کی تعداد کم کر دی جائے تو اس ”مرض“کا مداوا ہو سکتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اداریئے کا سائز تو کم نہیں کیا جا رہا لیکن کالموں کا سائز اتنا کم ہوتا جا رہا ہے کہ موضوعِ زیر بحث سے ناانصافی کا گمان گزرنے لگا ہے۔

اسلوبِ نگارش کی دوسری تبدیلی، کالم میں متعلقہ ماہرین کی Input کی تفصیل سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر اگر یحییٰ جعفری میں وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے تو اس کی شدت (Severity) کا سکیل کیا ہے اور جس متخصّص (Specialist) ڈاکٹر نے اس شدت کی نشاندہی کی ہے اس کا نام بھی کالم کا حصہ بنانا چاہیے۔ اس سے منسوب رائے یا تبصرے کو من و عن واوین میں شائع کرنا چاہیے اور جس ہسپتال میں وہ سپیشلسٹ کام کر رہا ہے، اس کا ذکر بھی ہونا چاہیے۔

تیسری بات یہ ہونی چاہیے کہ اس مریض کے گھر والوں کے تاثرات بیان کرتے ہوئے ان کے نام اور ان کی آراء اور تبصرے وغیرہ بھی کالم کا حصہ ہونے چاہیے۔ اگر ایسا ہو تو اس کالم کا مقامِ اعتبار اور درجہ ء اعتماد بڑھ جائے گا۔ قاری کو معلوم ہو گا کہ وہ جو تحریر اخبار میں کالم کی شکل میں دیکھ اور پڑھ رہا ہے، وہ مصدقہ (Authentic)،تفصیلی (Detailed) اور کثیر الجہات (Multi-dimensional)ہے۔ البتہ متذکرہ بالا معلومات کے حصول کے لئے کالم نگار کو تگ و دو ضرور کرنا پڑے گی، متعلقہ مریض، اس کے عزیز و اقربا، متعلقہ شفاخانے اور متعلقہ ڈاکٹروں سے رابطہ کرنا پڑے گا۔ ویسے تو اخباری اصطلاح میں یہ کام اخباری رپورٹرز کے ذمے لگایا جاتا ہے لیکن اخباری رپورٹر اور کالم نگار کے فہم و فراست میں جو بدیہی فرق ہے اور معلوماتی اعتبار و اعتماد کی جو برتری کالم نگار کو رپورٹر پر حاصل ہے، وہ زیادہ محتاجِ وضاحت نہیں۔

جس طرح ہمارے کالم نگار حضرات سیاست کے ضمن میں بال کی کھال کھینچتے ہیں اور اپنا مدعا اور مافی الضمیر بیان کرنے میں اپنے ذاتی علم و فضل کو کالم کے ماتھے کا جھومر بناتے ہیں، اس کی مثالیں ہر اخبار میں نظر آتی ہیں۔ کالم نگار کا نام پڑھتے ہی آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ موصوف کا قبلہ کدھر ہے اور وہ اپنے کالم میں اپنے پسندیدہ سیاسی رہنما، پارٹی لیڈر یا پارٹی کی مدح سرائی میں کن آسمانوں کے تارے توڑتا ہے۔ وہ اگر ہفتے میں سات کالم بھی تحریر کرتا ہے اور ساتوں کے ساتوں کسی اخبار میں شائع بھی ہوتے ہیں تو اس ہفت خوا ں کو طے کرنے میں جن جن منازل سے وہ گزرتا اور جن جن مراحل کا ذکر کرکے اپنے ممدوح کو خراج تحسین پیش کرتا ہے وہ لائقِ ستائش گردانا جاتا ہے۔

چند روز قبل (18فروری 2020ء) ہمارے اسی اخبار ”پاکستان“ کے آخری صفحے پر ایک نعت شائع ہوئی۔ نعت گو پاکستان کے ایک مشہور صحافی، کالم نگار اور ادیب بھی ہیں جو ایک سیاسی پارٹی سے وابستہ ہیں۔ ان کا نام پڑھ کر جب میں نے نعت کے اشعار پڑھنے شروع کئے تو یقین کیجئے عش عش کرنے کو جی چاہا۔ افکار و خیالات کا ایک ایسا امتزاج اس نعت کا طرۂ امتیاز تھا کہ میں پڑھتا گیا اور سر دھنتا گیا۔ یقین کیجئے مجھے حفیظ تائب مرحوم و مغفور یاد آنے لگے جن کی نعت گوئی کا ایک زمانہ معترف ہے اور اردو زبان کی صنفِ نعت گوئی میں ان کانامِ نامی ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔ لیکن جب میں اس نعت کے آخری شعر پر پہنچا تو تین بار اس کی قرات کی اور یقین نہ آیا کہ نعت کا یہ مقطع اس قدر آلودۂ سیاست بھی ہو سکتا ہے…… نعت گو کی فنی عظمت کا جو محل اس نعت کے پہلے اشعار پڑھ کر میرے تصور میں تعمیر ہو رہا تھا، وہ یکدم زمیں بوس ہو گیا۔ اس نعت کا مطلع اور مقطع آپ بھی ملاحظہ فرمایئے اور نعت گو کے یوٹرن کی داد دیجئے کہ انہوں نے نعت کے اوجِ تقدس کی تشبیب سے گریز کی جس پستی ء خیال کی طرف مراجعت کی ہے، وہ کتنی حیران کن بلکہ ناقابلِ یقین ہے۔ میں نے اردو اور فارسی زبان میں نعت کے ہزاروں اشعار سے اپنے نطق کو فیض یاب کیا ہے لیکن اس نعت کے اس مطلع و مقطع نے دل و دماغ کو بہت بوجھل کر دیاہے۔

ہر ایک دھڑکن میں خوشبوؤں کا جہانِ تازہ بسا ہوا ہے

مرے محمدؐ کا نام میری بیاضِ دل پر لکھا ہوا ہے

میں کب سے اپنی جمیل بستی میں سبز گنبد کو ڈھونڈتا ہوں

کہ جس کے ماتھے پہ حاکمِ شہر نے مدینہ لکھا ہوا ہے

حاکم شہر کون ہے، ریاستِ مدینہ کا نام کس کے وردِ زبان رہتا ہے اور کون تسبیح بدست اپنی ہر تقریر میں مدینے کا نام لیتا ہے اس کا ذکر گویا نعت کے مقطع میں سخن گسترانہ بات والی بات ہے۔ نعت میں اس طرح کی متنازعہ سیاسی آلودگی کا ذکر اگر نہ ہوتا تو اس نعت کا جواب نہ تھا ……لیکن اب……؟

میں عرض کر رہا تھا کہ اردو زبان کا قاری کالم نگاری کے پرانے اسلوب سے اکتا چکا ہے جس میں صرف ایک ہی خیال کو ایک ہی انداز میں بیان کرکے کالم کا اختتام کر دیا جاتا ہے۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ اس ایک ہی خیال کو زیادہ زور دار اور ثروت مند بنانے کے لئے مختلف شخصیات اور کتب / رسالہ جات وغیرہ کے حوالے دے کر اسے مزین و مدلل کر دیا جائے تاکہ صاحبِ مضمون کی معلومات کی ہمہ رنگی (یک رنگی کی بجائے) زیادہ قابلِ اعتبار ٹھہرے؟ (ختم شد)

مزید : رائے /کالم