لواحقین فل پنشن کے حقدار، حکومت کٹوتی نہیں کرسکتی، لاہور ہائیکورٹ

  لواحقین فل پنشن کے حقدار، حکومت کٹوتی نہیں کرسکتی، لاہور ہائیکورٹ

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس عاصم حفیظ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مرحوم پنشنرز کی بیوگان اور بچوں کو فل پنشن کا مستحق قراردیتے ہوئے اس بابت اپنا تحریری فیصلہ جاری کردیاہے،ڈویژن بنچ نے یہ بھی قراردیاہے کہ اگر مرحوم پنشنرز کے اہل خانہ میں سے کوئی ملازمت بھی کرتا ہے تو بھی وہ قانون کے تحت پنشنرزکی پنشن کا حق دار ہے،فاضل بنچ نے اس سلسلے میں دائر صوبائی سیکرٹری خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں،فاضل بنچ نے 13 صفات پر مشتمل اپنے تحریری فیصلہ میں قراردیاہے کہ اگر کوئی مرد یا خاتون دوران سروس وفات پاجائے یا ریٹائرمنٹ کے بعدانتقال کرجائے تو اس کے لواحقین فل پنشن کے حق دار ہیں،حکومت یا حکومتی اداروں کو پنشن روکنے یا اس میں کٹوتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی،دوران سروس وفات یا ریٹائرمنٹ کی صورت میں اس کی اہلیہ فل پنشن کی حق دار ہوگی جبکہ خاتون ملازمہ دوران ملازمت یا ریٹائرمنٹ کے بعد فوت ہوجائے تو اس کا شوہر فل پنشن کا حق دار ہو گا،پنشنرکی وفات کی صورت میں ان کی بیوہ یا بچے پنشن کے حق دار ہوں گے،وزرات فنانس یا اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو سرکاری خزانے پر کسٹوڈین بن کر غیر قانونی فیصلے کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی،،عدالت نے اپنے فیصلے کے ذریعے بیوہ کو فوری فل پنشن ریلز کا حکم جاری کیاہے،حکومت نے پروفیسر ایس اے رشید کی بیوہ کنول رشیدکی پنشن اس بنیاد پر بند کردی تھی کہ خاتون خود بھی سرکاری ملازم ہے،اس کے خلاف خاتون نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے خاتون کی پنشن بحال کردی تھی جس کے خلاف صوبائی سیکرٹری خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب نے اپیلیں دائرکی تھیں جو فاضل ڈویژن بنچ نے مسترد کرتے ہوئے سنگل بنچ کا فیصلہ بحال رکھا۔

پنشن کیس

مزید : صفحہ آخر