لاپتہ افراد معاملہ، انسانی حقوق کمیشن نے تمام ملبہ بلوچستان حکومت پر ڈال دیا

        لاپتہ افراد معاملہ، انسانی حقوق کمیشن نے تمام ملبہ بلوچستان حکومت پر ...

  



اسلام آباد (این این آئی) قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی کشمیر سے متعلق بات پر خوش ہونے کی ضرورت نہیں،مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر تنقید کی جارہی ہے، حکومت کو مسئلہ کشمیر پر جو اقدامات کرنا تھے، وہ نہیں کئے گئے۔ جمعرات کو قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کام کرنے والی خواتین کے ہراسانی کے متعلق بل پر غوروخوص کیا گیا۔اجلاس میں بچوں کو سزاؤں کے حوالے سے عدالتی نظام میں ترمیم کے معاملے پر بھی بات کی گئی۔اجلاس میں اسلام آباد کی حدود میں چائلڈ پراٹیکشن کے حوالے سے ترمیم پر بھی گفتگو کی گئی۔قائمہ کمیٹی کو بجٹ میں انسانی حقوق سے متعلق اسکیموں کا معاملہ بھی درپیش آیا۔قیدی خواتین کو فنڈز کی فراہمی کا معاملہ بھی قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل تھا۔ کمیٹی نے کہاکہ کمیٹی نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے سے متعلق سفارشات دی تھیں، وزارت خارجہ بتائے کہ اس حوالے سے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ وزارت خارجہ کے حکام نے ابھی تک کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے تحریری رپورٹ نہیں دی، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر تنقید کی جارہی ہے، حکومت کو مسئلہ کشمیر پر جو اقدامات کرنا تھے، وہ نہیں کئے گئے، ہم نے بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی عالمی رپورٹس پر دباؤ میں نہیں لیا۔ کشمیریوں کو دوائیں اور کھانے پینے کی اشیاء پہنچانے کیلئے انسانی راہداری کیلئے کوشش کی جائے، یہ بھی تجزیہ کیا جارہا ہے کہ عمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر کے بعد مودی نے انتہائی قدم اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کی کشمیر سے متعلق بات پر خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ فلسطینیوں سے دریافت کریں کہ جب ٹرمپ نے ان کے معاملے میں بیان دئیے تو کیا نتائج نکلے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے انسانی حقوق کمیشن کے کردار پر سوال اٹھادئیے۔ وزارت انسانی حقوق کے حکام نے انسانی حقوق کمیشن کی کوتاہی کا اعتراف کرلیا۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے وزارت انسانی حقوق کے حکام کے اعدادوشمار پر کمیٹی ارکان برہم ہوگئے اور کہاکہ بلوچستان میں پانچ سو نہیں بلکہ پانچ ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں،لاپتہ افراد کے حوالے سے بلوچستان حکومت کی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔کمیٹی ارکان نے کہاکہ بلوچستان سے خواتین اور سیاسی کارکن تک لاپتہ کئے جارہے ہیں۔انسانی حقوق کی وزارت نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے ہاتھ کھڑے کرلئے، سارا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈال دیا۔

لاپتہ افراد

مزید : صفحہ آخر