اپوزیشن مڈٹرم انتخابات پر متفق، ان ہاؤس تبدیلی بھی قبول،رانا ثناء

اپوزیشن مڈٹرم انتخابات پر متفق، ان ہاؤس تبدیلی بھی قبول،رانا ثناء

  



لاہور(جنرل رپورٹر)ن لیگ پنجاب کے صدر ورکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کی سیاسی انتقام کی پالیسی معاشی عدم استحکام کی وجہ ہے،اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ مڈٹرم انتخابات جلد ہونے چاہیں، ہمارا پیپلزپارٹی سمیت تمام جماعتوں سے رابطہ ہے اور اب صرف اے پی سی ہونے کی دیر ہے،وکلا نے پی آئی سی واقعہ پر معافی مانگ لی تو پھر معاملہ ختم ہو جانا چاہئے۔ قومی حکومت کے بارے میں میں نے بھی سنا ہے لیکن اس کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ گزشتہ روز ماڈل ٹاؤن میں وکلا کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نواز شریف جب یہاں سے گئے تو ریکارڈ پر موجود ہے کہ یاسمین راشد خود کہا کرتی تھیں کہ نواز شریف کے ٹیسٹ اور علاج ملک میں نہیں ہو سکتا۔ ان کے بنائے میڈیکل بورڈ کی سفارش پر کابینہ نے نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی۔عمران خان نے خود ڈاکٹر کو بھجوا کر نواز شریف کی بیماری بارے تسلی کی۔ نواز شریف پر 300 ارب کی کرپشن کا الزام لگانے والے 7 ارب کا ضمانتی بانڈ مانگتے رہے لیکن نواز شریف نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ پارٹی کی لیگل ٹیم پنجاب حکومت کے فیصلے پر غور کر رہی ہے اور وہی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرے گی۔شہباز شریف نواز شریف کے علاج کی وجہ سے لندن میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کسی احتجاج کے خلاف نہیں بلکہ حق میں ہے ہم بلاول زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ مشترکہ احتجاج کیا جائے سب نے اپنی اپنی سیاست کرنی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ مڈٹرم انتخابات جلد ہونے چاہیں۔کرونا وائرس ہو یا کوئی اور ملکی مفاد، مسلم لیگ ن حکومت سے ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے۔شہباز شریف نے پروپیگنڈے کے باوجود میثاق معیشت کی پیشکش کی۔ جیل سے واپس آنے پر بھی شہباز شریف نے پھر میثاق معیشت کی بات کی۔انہوں نے کہا کہ آٹا بحران میں ڈیڑھ سے 200 ارب کا چونا قوم کو لگایا ہے حکومت سے نجات کے لئے تمام اپوزیشن جماعتوں سے مل کر لائحہ عمل بنائیں گی۔اگر ان ہاوس تبدیلی آئی تو ہم اس کو روکیں گے نہیں لیکن ہم اس کے بعد حکومت بنانے کی کوشش نہیں کرینگے۔

رانا ثناء

مزید : صفحہ آخر