مہمند، رحمت کور کا علاقہ دہشتگردوں سے پاک، متاثرین کو واپس آنے کی اجازت

مہمند، رحمت کور کا علاقہ دہشتگردوں سے پاک، متاثرین کو واپس آنے کی اجازت

  



ضلع مہمند(نمائندہ پاکستان) مہمند، پاک افغان کا سرحدی علاقہ رحمت کور پاک فوج کے بیش بہا قربانیوں کے بعد کلیئر قرار دیا۔متاثرہ خاندانوں کو آبائی علاقے کو واپس آنے کا باقاعدہ اجازت دے دیا۔واپسی پر علاقے کے 76متاثرہ خاندانوں کیلئے استقبالیہ پروگرام کا انعقاد۔پروگرام میں متاثرین کے واپسی پر برگیڈئیرروف شہزاد سمیت پاک فوج سوات سکاوٹس کے جوانو ں،ڈی سی مہمند،ایم این اے، ایم پی اے اور موسی خیل قوم کاپُر تپاک استقبال۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل بائیزئی کے پا ک افغان سرحدپر واقع رحمت کور کو پاک فوج کے بیش بہا قربانیوں کے بعد علاقے کے دہشت گردوں اور بارودی سرنگوں سے متاثرہ خاندانوں کیلئے کلیئر قراردیا۔اور علاقے کے عوام کو اپنے آبائی علاقے کو واپس آنے کا باقاعدہ اجازت سکیورٹی فورسز نے جاری کردی۔متاثرخاندانوں کواپنے آبائی علاقے کو واپسی کے موقع پر رحمت کور میں 76متاثرہ خاندانوں کیلئے استقبالیہ پروگرام کا انعقاد ہوا۔استقبالیہ پرواگرام میں پا ک ارمی کے بریگیڈئیر روف شہزاد سمیت پاک فوج اور سوات سکاوٹس کے نوجوانوں کے علاوہ ایم این اے ساجد خان،ڈی سی مہمند افتخار عالم،ایم پی اے عباس الرحمان،ایم پی اے عائشہ بی بی کے فوکل پرسن نوید خان اور موسی خیل قوم کے مشران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔استقبالیہ پروگرام کے موقع پر بریگیڈیئر روف شہزاداور ساجد خان وغیرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دس سال کے طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف کے مسلسل پاک فوج اور عوام کے بیش بہا قربانیوں نے رنگ لاکر اب تقریبا تمام ضلع میں امن قائم ہوا ہے۔جن میں پاک افغان سرحدی علاقہ رحمت کورفوج نے کلئیر قرار دیا۔اور یہاں کے مقامی آبادی کو واپس آنے کا باقاعدہ اجازت دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں تعلیم،صحت،آبنوشی اور دوسری بنیادی سہولیات کی کمی ہیں۔جن پر واپس بحالی کا کام جاری ہے۔جو بہت جلد انتظامیہ اور عوامی نمائند وں کے تعاون سے مکمل کرئینگے اس موقع پر ایم این اے نے کہا کہ یہ علاقہ دہشتگردی کے وجہ سے عرصہ دراز سے ترقیاتی عمل سے باہر ہے۔جن کے لئے ہم تمام تر توانائی بروئے کار لائینگے۔استقبالیہ پروگرام کے موقع پر موسی خیل قوم کے مشران نے متاثرین کو بنیادی سہولیات کے فوری فراہمی کا پرزور مطالبہ کیا۔پروگرام کے بعد ایم پی اے عباس الرحمان نے اخباری نمائندوں سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ علاقے کے کلئیرنس کے بعد متاثرہ عوام کے مشورہ سے ترقیاتی کاموں کا منصوبہ بندی کرئینگے اور رحمت کور کو خصوصی توجہ دئینگے۔جبکہ واپسی کے موقع پر موسی خیل قوم اور سوات سکاوٹس نے متاثرین کے کھانے کیلئے علیحدہ علیحدہ بندوبست کیا تھا۔

مزید : صفحہ اول