آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے قرار دیا ہے کہ آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں لگ سکتی،فاضل جج نے یہ ریمارکس عورت مارچ رکوانے کے کیس میں فریق بننے کے لئے عورت مارچ کے آرگنائزر زکی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے دیئے،عدالت نے سیکورٹی فراہم کرنے سمیت دیگر ایشوز پر پنجاب حکومت،ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے جواب بھی طلب کر لیاہے۔عورت مارچ کے خلاف جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست کی سماعت کے موقع پر ڈائریکٹرایف آئی اے عبدالرب اور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور عدالت میں پیش ہوئے،درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے حقوق انسانی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی طرف سے حنا جیلانی ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ یہ درخواست مسترد کی جائے،ہم خواتین کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے عورت مارچ کرنا چاہتے ہیں،ہم منہ اٹھا کر تو مارچ نہیں کررہے،عورت مارچ اتوار کو کر رہے ہیں جس سے مال روڈ پرکاروبار متاثر نہیں ہوگا،درخواست گزار کا عورت مارچ سے کیا تعلق ہے۔اظہر صدیق نے کہا ہم عورت مارچ کے خلاف نہیں مگر یہ حدود و قیود میں ہونا چاہیے،جس پر حنا جیلانی نے کہا کہ درخواست گزار کو اختیار نہیں کہ وہ عورت مارچ روکنے کی درخواست دائر کریں،آپ کی درخواست تومارچ کے خلاف ہے،اظہر صدیق نے کہا ہم غیر ذمہ دار انہ پمفلٹس کے خلاف ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا آزادی اظہار رائے پر ایسے پابندی نہیں لگ سکتی،اس کا کوئی جواز ہونا چاہیے۔

عورت مارچ

مزید : صفحہ آخر